چلتے کاروبار میں ایک شریک مزید رقم شامل کر سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شرکت کے چلتے کاروبار میں ایک شریک کا مزید پیسے شامل کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر نے مشترکہ طور پر ایک نیا کاروبار شروع کیا، جس میں زید نے اٹھارہ لاکھ روپے شامل کیے اور بکر نے پچیس لاکھ روپے شامل کیے اور نفع آدھا آدھا طے پایا۔ اور نقصان مال کے تناسب سے طے ہوا۔ اب کچھ عرصہ گزرجانے کے بعد اگر باہمی رضامندی سے بکر اس میں مزید رقم شامل کرنا چاہے، جس سے وہ اسی قسم کی چیزیں خرید کر کاروبار میں شامل کر دے، جس قسم پر شرکت ہوئی ہے اور زید مزید رقم شامل نہ کرے اور نفع آدھا آدھا ہی رہے، تو اس میں کوئی شرعی خرابی تو نہیں ہے ؟ یہ یاد رہے کہ بکر جو مزید رقم سے سامان خرید کر شامل کر رہا ہے یہ بطور تبرع نہیں ہے بلکہ اسی طور پر ہے کہ کل کو مجھے میری ساری رقم ملے گی۔
جواب
صورت مسئولہ میں اولا جو دونوں کے درمیان شرکت ہوئی، کہ مال اگرچہ کم و بیش لیکن نفع دونوں میں برابر اور نقصان مال کے تناسب سے یہ شرکت درست واقع ہوئی۔
اور اب ایک فریق (بکر) اسی قسم کی مزید چیزیں خریدنا چاہتا ہے، جس قسم پر عقد شرکت ہوا ہے، تو اس کا یہ خریدنا شرعا درست ہے اور یہ فریق جو اشیاء خریدے گا وہ دونوں میں مشترکہ ہوں گی، لہذا قیمت بھی دونوں پر لاز م ہوگی، اور فی الحال اگرچہ بکر کل قیمت اپنی جیب سے ادا کرے گا لیکن بعد میں شریک کے حصہ کی مقدار برابر قیمت اس سے وصول کر سکے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز والشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي." ترجمہ: دو اشخاص نے شرکت کی تو ان میں سے ایک شریک ایک ہزار روپے لایا اور دوسرا شریک دو ہزار روپے لایا، طے یہ پایا کہ نفع و نقصان آدھا آدھا ہوگا تو عقد جائز ہے اور نقصان کے حق میں شرط باطل ہے، پس اگر دونوں نے کام کیا اور ان کو نفع ہوا تو نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور اگر ان کا نقصان ہوا تو نقصان ان کے اصل مال کے تناسب سے ہوگا۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الشرکۃ، ج 02، ص 320، کوئٹہ)
بحرالرائق میں ہے "ولو اشترى من جنس تجارتهما وأشهد عند الشراء أنه يشتريه لنفسه فهو مشترك بينهما؛ لأنه في النصف بمنزلة الوكيل بشراء شيء معين" ترجمہ: اور اگر ایک شریک نے اسی جنس کی کوئی چیز خریدی جس پر دونوں کی شرکت ہوچکی ہے اور خریدتے وقت اس بات پر گواہ بنائے کہ اسے میں اپنے لیے خرید رہا ہوں تو وہ ان دونوں میں مشترک ہوگی کیونکہ وہ اس آدھی چیز میں ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کسی معین چیز کی خریداری کا وکیل بنایا جائے۔ (تو جس طرح اس صورت میں اپنے لیے نہیں خرید سکتا اسی طرح یہاں بھی وہ بقیہ نصف کو اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔) (البحر الرائق، کتاب الشرکۃ، ج 05، ص 294، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت علیہ الرحمۃ جد الممتار میں فتاوی ہندیہ کا جزئیہ ذکر کرنے کے بعد اس کا مفاد ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "فقد أفاد أنّ وكالة أحد المتشاركين في شراء ما كان من جنس تجارتِهما المذكورة في الشركة لها حكم الوَكالة بشراء شيء بعينه حيث جعله مشترَكاً مع كونه مشترياً بمال أحدهما خاصّةً، ولَم يقيّده بكونه نواه عند الشِّراء للشركة" ترجمہ: پس اس نے اس بات کا فائدہ دیا ہے کہ شرکت میں مذکور تجارت کی جنس کی کوئی چیز خریدنے میں کسی شریک کو ملنے والی وکالت کا حکم، شی معین کی خریداری کی وکالت کے حکم کی طرح ہے، یوں کہ انہوں نے خریدی گئی چیز کو دونوں میں مشترک قرار دیا ہے باوجودیکہ وہ ان میں سے خاص ایک کے مال سے خریدی گئی ہے اور انہوں نے یہ قید نہیں لگائی کہ خریدتے وقت اس کے شرکت کے لیے ہونے کی نیت کرے۔ (جدالممتار، کتاب الشرکۃ، ج 05، ص 436، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10585
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1442ھ / 13 اپریل 2021ء