شرکتِ عمل میں کام نہ کرنے والے شریک کا حصہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شرکت عمل میں کام سے چھٹی کرنے والے شریک (پارٹنر) کے حصےکا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خالد، شاہد اور حامد تینوں شیشہ لگانے کا کام کرتے ہیں، ان کا طریقہ یہ ہے کہ یہ مل کر کام پکڑتے ہیں، ان میں سے خالد اور شاہد مکمل کاریگر ہیں، جبکہ حامد کام میں ان کی معاونت کرتا ہے، اب یہ مل کر کام پکڑتے ہیں، ان کا آپس میں معاہدہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں گے خالد اور شاہد میں سے ہر ایک کا نفع 40 فیصد اور حامد کو 20 فیصد نفع ہوگا، تو اب اس میں سوال یہ ہے کہ بعض اوقات ان میں سے کوئی ایک، ایک دن یا اس سے زیادہ چھٹیاں کر لیتا ہے اور پھر بقیہ کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو کیا اس صورت میں بھی وہی نفع تمام کے حصے میں آئے گا کہ جو پہلے طے کیا تھا یا کام کم کرنے والے کا حصہ کم کرکے بقیہ دو کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شریک کام کم کرتا ہے یا کام سے چھٹی کر لیتا ہے، خواہ وہ کسی عذر کی بنا پر ہو یا بغیر کسی عذر کے، اور بقیہ شرکاء کام کو مکمل کرتے ہیں، تب بھی غیر حاضر شریک کے حصے میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اور نفع اسی تناسب سے تقسیم ہوگا جو عقدِ شرکت کے وقت طے کیا گیا تھا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد کا باہم یہ معاہدہ کرنا کہ وہ لوگوں سے کام لے کر اسے انجام دیں گے اور اس سے حاصل ہونے والی اجرت کو آپس میں تقسیم کریں گے، شریعتِ مطہرہ کی رو سے "شرکتِ عمل" (جسے شرکۃ الصنائع یا شرکۃ التقبل بھی کہا جاتا ہے) کہلاتا ہے۔
اور شرکتِ عمل میں نفع کی تقسیم کا اصول یہ ہے کہ نفع اسی تناسب سے تقسیم ہوگا جو عقدِ شرکت کے وقت طے کیا گیا تھا۔ کسی ایک شریک کے (خواہ عذر کے ساتھ یا بغیر عذر کے) کام کم کرنے یا بالکل ہی نہ کرنے کی وجہ سے اس کے نفع میں کمی کرنا، جائز نہیں؛ کیونکہ شرکتِ عمل میں کسی ایک کے کام نہ کرنے سے عقدِ شرکت ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ بدستور قائم رہتا ہے۔
اور پھر اس شرکت میں نفع کے استحقاق کی بنیاد محض عمل نہیں کہ عمل کے نہ ہونے سے نفع میں کمی کا حکم لگایا جائے، بلکہ اس شرکت میں نفع کے استحقاق کی بنیاد کام کی "ذمہ داری" (ضمانِ عمل) ہے۔ چنانچہ جب شرکاء مل کر گاہک سے کام لیتے ہیں تو کام مکمل کرکے دینے کی قانونی ذمہ داری (Guarantee) تمام شرکاء اپنے ذمہ لیتے ہیں، اور تاوان یا نقصان کی صورت میں مقرر کردہ تناسب کے مطابق تمام شرکاء اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
لہٰذا چونکہ کام نہ کرنے والا شریک بھی قانونی طور پر برابر کا جواب دہ اور خطرے (Risk) میں شریک ہے، اس لیے وہ اپنی اس ذمہ داری کے عوض اجرت اور نفع کا مستحق قرار پاتا ہے۔
مزید یہ کہ اس شرکت میں تمام شرکاء ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں، لہٰذا جب کوئی ایک شریک کام کرتا ہے اور دوسرا کام نہیں کرتا، تو فقہی اعتبار سے یہ سمجھا جائے گا کہ کام کرنے والا شریک اپنے حصے کا کام خود انجام دے رہا ہے، جبکہ دوسرے شریک کے حصے کا کام اس کے "وکیل" اور "مددگار" کی حیثیت سے انجام دے رہا ہے۔ اس بنا پر قانونی طور پر یہی تصور کیا جائے گا کہ کام دونوں کی طرف سے انجام پایا ہے۔ لہٰذا تمام شرکاء طے شدہ تناسب کے مطابق نفع کے مستحق ہوں گے۔
تنویر الابصار و در مختار میں شرکت عمل کی تعریف یوں کی گئی ہے: ”إما (تقبل) وتسمى شركة صنائع وأعمال وأبدان (إن اتفق) صانعان (خياطان أوخياط و صباغ) فلايلزم اتحاد صنعة ومكان (على أن يتقبلا الأعمال) التي يمكن استحقاقها“ یعنی تاہم (شرکت تقبّل)، اسے شرکت صنائع، شرکت اعمال، شرکت ابدان بھی کہتے ہیں، یہ ہے کہ دو کاریگر (مثلاً: دو درزی یا ایک درزی اور دوسرا رنگریز، اس بات پر اتفاق کر لیں کہ وہ کام قبول کریں گے) ایسے کام کہ جن کی اجرت کے وہ حقدار بن سکتے ہوں، تو اس میں کام یا مکان ایک ہونا بھی لازم نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 4، ص 321، دار الفکر، بیروت)
شرکت عمل میں ایک شریک عذر یا بلا عذر کام نہ کرے تب بھی وہ عقد میں مقرر کردہ اجرت کا مستحق ہوگا، جیسا کہ در مختار میں ہے: ”(إن اتفق) صانعان (خياطان أو خياط وصباغ على أن يتقبلا الأعمال ويكون الكسب بينهما) على ما شرطا مطلقا في الأصح (وكل ما تقبله أحدهما يلزمهما) وعلى هذا الأصل (فيطالب كل واحد منهما بالعمل ويطالب) كل منهما (بالأجر ويبرأ) دافعها (بالدفع إليه) أي إلى أحدهما (والحاصل من) أجر (عمل أحدهما بينهما على الشرط) ولو الآخر مريضا أو مسافرا أو امتنع عمدا بلا عذر“ یعنی اگر دو کاریگر، مثلاً: دو درزی یا ایک درزی اور دوسرا رنگریز اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ہم لوگوں سے کام لائیں گے اور جو کچھ مزدوری ملے گی وہ آپس میں حسب شرائط بانٹ لیں گے (یہ شرکت عمل کہلاتا ہے ) اور دونوں میں سے جو کوئی بھی کام لے گا دونوں پر لازم ہوگا اسی بناء پر دونوں میں سے ہر ایک سے کام کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک اجرت کا مطالبہ بھی کام کروانے والے سے کر سکتا ہے اور ایک کو اجرت دینے سے کام کروانے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کے عمل سے بھی جو اجرت حاصل ہوگی وہ دونوں کے مابین حسب شرائط تقسیم ہوگی اگرچہ دوسرا مرض یا سفر کی وجہ سے کام نہ کرسکا یا ویسے ہی جان بوجھ کر بلا عذر کام نہ کرے (یعنی کسی بھی وجہ سے کام نہ کرنے کے باوجود حسب شرائط نفع کا مستحق ہوگا۔) (در مختار معہ ردالمحتار، ج 4، ص 323، مطبوعہ کوئٹہ)
یونہی صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی قدس سرہ القوی بہار شریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جو کام اُجرت کا ان میں ایک شخص لائے گا وہ دونوں پر لازم ہوگا، لہٰذا جس نے کام دیا ہے وہ ہر ایک سے کام کا مطالبہ کر سکتا ہے شریک یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ کام وہ لایا ہے اُس سے کہو مجھے اس سے تعلق نہیں۔ یوہیں ہر ایک اُجرت کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے اور کام والا ان میں جس کو اُجرت دیدے گا بَری ہو جائے گا، دوسرا اُس سے اب اُجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کو تم نے کیوں دیا۔ دونوں میں سے ایک نے کام کیا ہے اور دوسرے نے کچھ نہ کیا مثلاً بیمار تھا یا سفر میں چلا گیا تھا جسکی وجہ سے کام نہ کر سکا یا بلاوجہ قصداً اُس نے کام نہ کیا جب بھی آمدنی دونوں پر معاہدہ کے موافق تقسیم ہوگی۔“ (بھار شریعت، ج 2، حصہ 10، ص 506، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شرکت عمل میں اگر کوئی شریک کام نہ کرے، تو اس سے عقد ِشرکت ختم نہیں ہو جاتا، جیسا کہ علامہ شمس الائمہ السرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”يكون الربح بينهما على الشرط ما بقي العقد بينهما، وإن كان المباشر للعمل أحدهما، ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر، أو بغير عذر؛ لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل، واستحقاق الربح بالشرط في العقد“ ترجمہ: جب تک دونوں شریکوں کے درمیان عقدِ شرکت برقرار رہے گا، نفع اسی شرط کے مطابق تقسیم ہوگا جو عقد میں طے ہوئی تھی، اگرچہ عملاً کام صرف ایک شریک ہی انجام دے رہا ہو۔ اور اس معاملے میں یہ دونوں صورتیں برابر ہیں کہ دوسرا شریک کسی عذر کی وجہ سے کام نہ کرے یا بلا عذر کام سے رکا رہے؛ کیونکہ محض کام نہ کرنے سے عقدِ شرکت ختم نہیں ہو جاتا، جبکہ نفع کا استحقاق عقد میں مقرر کردہ شرط کی بنیاد پر ثابت ہوتا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 11، ص158، بیروت)
شرکتِ عمل میں نفع کی بنیادی وجہ عمل نہیں، بلکہ ضمان ِعمل ہے، جیسا کہ علامہ شہاب الدین شلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”أن الربح بقدر ضمان العمل لا بحقيقة العمل ألا ترى إلى ما نص الحاكم الشهيد في الكافي فإن غاب أحدهما أو مرض ولم يعمل وعمل الآخر فهو بينهما“ ترجمہ: نفع کا استحقاق محض عمل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُس ذمہ داری اور ضمان کے اعتبار سے ہوتا ہے جو عمل کے ساتھ متعلق ہوتی ہے۔ اسی لیے دیکھیے کہ امام حاکم شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ”کافی“ میں صراحت فرمائی ہے کہ اگر دو شریکوں میں سے ایک غائب ہو جائے یا بیمار ہو جائے اور کام نہ کرسکے، جبکہ دوسرا کام کرتا رہے، تب بھی حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبی، ج 3، ص 321، القاهرہ)
یونہی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے: ”أما استحقاق العامل للأجرة فظاهر، وأما استحقاق الشريك غير العامل للأجرة فهو لأنه بتقبل العمل لزمه العمل وكان ضامنا له وبلزوم العمل والضمان يستحق الأجرة ولا تبطل الشركة بمجرد امتناعه عن العمل. والاستحقاق للربح هو للشرط الوارد في العقد وليس بالنسبة للعمل الذي أجري“ ترجمہ: عامل شریک کے اجرت کا مستحق ہونے کی وجہ تو ظاہر ہے، لیکن جو شریک خود عمل نہیں کر رہا، اس کے اجرت کا مستحق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے کام قبول کر لیا تو شرعاً وہ اس کام کا ذمہ دار اور ضامن بن گیا۔ اور محض عمل کے لازم اور ذمہ میں آنے کی وجہ سے اجرت کا استحقاق ثابت ہو جاتا ہے، اگرچہ عملاً کام نہ کرے۔ نیز صرف کام سے رُک جانے کی وجہ سے شرکت بھی ختم نہیں ہوتی۔ اور نفع کے استحقاق کی بنیاد وہ شرط ہے جو عقدِ شرکت میں طے کی جاتی، نہ کہ محض اس عملی کام پر جو کسی شریک نے انجام دیا ہو۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، ج 3، ص 416، دار الجيل)
شرکتِ عمل میں تمام شرکاء ایک دوسرے کے کام کے وکیل ہیں، ایک کا کام کرنا دوسرے کی طرف سے کام کرنا شمار کیا جائے گا، جیسا کہ مجلة الأحكام العدلية میں ہے: ”الاستحقاق للربح إنما يكون بالنظر إلى الشرط الذي أورد في عقد الشركة، وليس بالنظر إلى العمل الذي عمل، فعليه لو لم يعمل الشريك المشروط عمله فيعد كأنه عمل، مثلا إذا شرط عمل الشريكين المشتركين في شركة صحيحة وعمل أحدهما فقط ولم يعمل الآخر لعذر أو لغير عذر فبما أنهما وكيلان لبعض فبعمل شريكه يعد كأنه عمل أيضا ويقسم الربح بينهما على الوجه الذي شرطاه“ ترجمہ: نفع کا استحقاق درحقیقت اس شرط کے اعتبار سے ہوتا ہے جو عقدِ شرکت میں طے کی گئی ہو، نہ کہ محض اس عملی کام کے اعتبار سے جو کسی شریک نے انجام دیا ہو۔ اسی بنا پر اگر وہ شریک، جس کے ذمہ کام کرنا شرط کیا گیا تھا، خود کام نہ بھی کرے تو شرعاً اسے ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے اس نے کام کیا ہو۔ مثلاً اگر ایک صحیح شرکت میں دونوں شریکوں کے کام کرنے کی شرط رکھی گئی ہو، پھر عملاً ایک شریک ہی کام کرے اور دوسرا کسی عذر یا بلا عذر کام نہ کرے، تب بھی چونکہ دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں، اس لیے ایک شریک کا کام کرنا دوسرے کے کام کے قائم مقام شمار ہوگا۔ لہٰذا نفع دونوں کے درمیان اسی تناسب سے تقسیم ہوگا جو عقدِ شرکت میں طے کیا گیا تھا۔ (مجلة الأحكام العدليہ، ص 259، مطبوعہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9999
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجہ 1447ھ/22 مئی 2026ء