قربانی کے لیے جمع کی گئی رقم خرچ ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کی نیت سے جمع کئے گئے پیسے خرچ ہوگئے، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک بیوہ خاتون ہے ان کا ایک اپنا گھر ہے جو کہ انہوں نے کرائے پر دیا ہوا ہے اور اس کرائے سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتی ہیں، کرائے سے کچھ رقم بچا بچا کر ان کے پاس 25 ہزار جمع ہوئے تھے، ان کی نیت تھی کہ میں اس سے قربانی کروں گی لیکن وہ رقم ان کے اخراجات میں ختم ہو گئی اب ان کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
مذکورہ خاتون کی ملکیت میں جو گھر ہے، اس کے کرایہ پر ہی گزر بسر ہے تو وہ حاجت اصلیہ میں شامل ہے، اس گھر کی مالیت کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ہوگی البتہ حاجت اصلیہ کے علاوہ کوئی اور مال قربانی کے دنوں میں ان کی ملکیت میں اس قدر موجود تھا کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زائد تھی اور مانع نصاب قرض بھی نہیں تھا تو اس صورت میں ان پر قربانی واجب تھی اور جب واجب قربانی ادا کرنے سے رہ جائے، قربانی کے دن گزر جائیں تو قربانی کے لائق ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا ایک لائقِ قربانی بکری کی قیمت صدقہ کریں اور اگر قربانی کے دنوں میں بقدر نصاب مال ہی نہیں تھا، ویسے ہی 25 ہزار روپیوں سے دل میں قربانی کی نیت کرلی تھی اور پھر وہ پیسے خرچ ہو گئے اور قربانی نہ کرسکی تو ایسی صورت میں اب مزید کچھ صدقہ کرنا یا قربانی کرنا لازم نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2412
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1447ھ / 19 اگست 2025ء