قربانی کے جانور کو چارہ پانی نہ دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کے جانور کو چارہ پانی دینے میں کوتاہی برتنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قربانی کے جانور کو بھوکا پیاسا رکھنا چاہیے؟ جان بوجھ کر اور انجانے میں، دونوں کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیونکہ بعض اوقات اہل مساجد / اجتماعی قربانی کی سہولت فراہم کرنے والے جانوروں کو خرید کر لاتے ہیں، لیکن ان کے کھانے کے چارے اور پانی کا اتنا خیال نہیں رکھتے۔
جواب
جانور کو جب رکھا جائے تو اس کی خبرگیری کے متعلق یہ تاکید ہے کہ دن میں ستردفعہ پانی دکھائے، اور اگر جانور لے تو لے لیکن اسے بھوکا پیاسا رکھے، تو یہ سخت گناہ کا کام ہے، کیونکہ یہ ظلم ہے، اور جانور پر ظلم،ذمی پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے اورذمی پر ظلم، مسلمان پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے، لہٰذا ایسا کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔
جانوروں کے کھانے پینے کا لحاظ رکھنے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے ”مر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه، قال: اتقوا اللہ في هذه البهائم المعجمة“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا ،جس کی پیٹھ اس کے پیٹ کے ساتھ لگ چکی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الجھاد، صفحہ 407، 408، رقم الحدیث 2548، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیثِ مبارک کےتحت مرقاۃ المفاتیح، شرح المصابیح اور شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے، و اللفظ للاول: و فيه دليل على وجوب علف الدواب“ ترجمہ: اس حدیث میں جانوروں کے چارے کے وجوب پر دلیل ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 6، صفحہ 486، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی اس حدیثِ مبارک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے بے زبان جانور کسی سے فریاد بھی نہیں کرسکتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا چارہ پانی مالک پر واجب ہے، بعض آئمہ کے ہاں ظالم مالک کو حاکم جانور فروخت کردینے پر مجبور کرسکتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 171، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
ایک بلی کے کھانے پینے کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ ایک عورت کے جہنم میں جانے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے ”عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: دخلت امرأة النار في هرة ربطتها، فلا هي أطعمتها، و لا هي أرسلتها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت هزلا“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ایک عورت کو اس لیے جہنم میں ڈال دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھ دیا، نہ اسے خود کھانے کو دیا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی یہاں تک کہ وہ تڑپ کے مرگئی۔ (صحیح مسلم، صفحہ 1057، رقم الحدیث 2619، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اور جانوران خانگی مثل خروس و ماکیان و کبوتراہلی وغیرہا کا پالنا بلاشبہ جائز ہے جبکہ انہیں ایذاسے بچائے اور آب ودانہ کی کافی خبرگیری رکھے ۔ ۔ ۔ مگر خبرگیری کی یہ تاکید ہے کہ دن میں ستردفعہ پانی دکھائے کما ورد فی الحدیث (جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے) ورنہ پالنا اوربھوکا پیاسا رکھنا سخت گنا ہے، فانہ ظلم و الظلم علی الحیوان اشد من الظلم علی الذمی الاشد من الظلم علی مسلم کمانص علیہ فی الدر المختار (کیونکہ یہ ظلم ہے اور کسی جانور پر ظلم کرنا ذمی (کافر) پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے جوکہ مسلمان پر ظلم کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے، جیسا کہ درمختار میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے) وقد قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت، رواہ الامام احمد (اور رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جس کی روزی کا وہ ذمہ دار ہو اس کوضائع کردے، اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا)۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 643 تا 645، رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5091
تاریخ اجراء: 30 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 16 جون 2026ء