قربانی کے لئے قرعہ اندازی کی شرعی حیثیت؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرعہ اندازی اور قربانی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک دکاندار نے لوگوں کے لیے ایک پیکج کا اعلان کیا ہے کہ جو اس سے فریج یا دیگر چیزیں خریدے گا، وہ اس کا نام قرعہ اندازی میں شامل کریں گے اور قرعہ اندازی کا ٹوکن پچاس روپے کا الگ سے لینا ہوگا، جس کا نام قرعہ میں نکل آیا، اسے بکرا یا گائے وغیرہ دی جائے گی اور جس کا نام نہ نکلا، اس کے پچاس روپے واپس نہیں ملیں گے، تو یہ اسکیم شرعا کیسی ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یہ انعامی طریقہ کار جوا ہے، جو بلا شک و شبہ ناجائز و حرام ہے، کیونکہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلے گا، وہ تو انعام حاصل کرے گا اور جس کا نام نہیں نکلا، اس کے پچاس روپے ضائع ہوگئے، تو یہ اپنے مال کو خطرے پر ڈالنا ہے کہ زیادہ نفع والی چیز ملے گی یا اپنا مال ہی چلا جائے گا اور جوا اسی کو کہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ علمِ دین نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح قربانی جیسی عبادت والے کام میں بھی شیطان نے لوگوں کو حرام و گناہ میں مبتلا کردیا ہے، لہٰذا دکاندار پر لازم ہے اس قرعہ اسکیم کو ختم کرے اور جس جس سے پچاس روپے بطور ٹوکن لیے ہیں، ان کو واپس کرے۔
اللہ جل جلالہ قرآن مجید میں جوئے کی حرمت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے۔: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام۔ تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ (القرآن، سورۃ المائدہ، آیت90 )
باطل طریقے پر ایک، دوسرے کے مال کھانے کو سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمہ: ایک دوسرے کا مال نا حق طور پر نہ کھاؤ۔ (القرآن، سورۃ البقَرۃ، آیت 188)
مبسوط میں جوئے کی تعریف سے متعلق ہے: ’’تعلیق استحقاق المال بالخطر قمار، والقمار حرام فی شریعتنا‘‘ ترجمہ: مال کے استحقاق کو خطرے کے ساتھ معلق کرنا جوا ہے اور جوا ہماری شریعت میں حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الاباق، ج 11، ص 20، مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1372
تاریخ اجراء: 24 ذیقعدۃ الحرام 1439ھ / 07 اگست 2018ء