کھانسنے والے کی قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس بکرے کو کھانسی لگی ہو اس کی قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے قربانی کے لیے ایک بکرا خریدا ہے، لیکن اسے کھانسی ہو گئی ہے، تاہم! اسے کھانے پینے میں کوئی تکلیف نہیں، وہ معمول کے مطابق کھا پی رہا ہے، اور کمزور بھی نہیں ہو رہا، صرف کھانسی ہے۔ کیا اس بکرے کی قربانی درست ہو جائے گی؟
جواب
ایسا بکرا، جس کو صرف معمولی کھانسی ہے، جو اسے کھانے پینے سے مانع نہیں، اور اس کے علاوہ کوئی مانع قربانی عیب بھی نہیں پایا جاتا، اس کی قربانی جائز ہے، کیونکہ قربانی سے مانع وہ عیب ہوتا ہے، جو کسی عضو مقصود کی منفعت کو مکمل طور پر ختم کردے یا خوبصورتی کو کامل طور پر ختم کردے، اور جو عیب ایسا نہ ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے، اور سوال میں مذکور کیفیت کے مطابق جو کھانسی ہے، وہ اس حد میں نہیں آتی کہ اس کی وجہ سے کسی عضو کی منفعت مکمل طور پر ختم ہو جائے، یا جمال مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ”كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع“ ترجمہ: وہ عیب جو کسی عضو کی منفعت کو مکمل طور پر ختم کردے یا خوبصورتی کو کامل طور پر ختم کر دے، وہ قربانی سے مانع ہوگا اور جو عیب ایسا نہ ہو، تو وہ قربانی سے بھی مانع نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، ج 5، ص 369، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5075
تاریخ اجراء: 19 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء