logo logo
AI Search

قربانی کے جانور کی دُم کٹنے میں بال شامل ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور کی دُم کٹنے میں بال شامل ہوں گے یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بہار شریعت وغیرہ کتب فقہ میں جانورکی دم کے متعلق تحریر ہے کہ اگر وہ تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہے، تو اس کی قربانی نہیں ہوسکتی۔ یہ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس مقدارمیں دم کے لٹکتے ہوئے بال بھی شامل ہیں یا نہیں یعنی اگر جانور کی دم کا کچھ حصہ کٹا اور بقیہ لٹکتے بال کٹے کہ اگر دونوں کو جمع کر کے دیکھا جائے، تو تہائی سے زیادہ مقدار بن جاتی ہے اور اگر بالوں کو شامل نہ کیا جائے، صرف دم کا گوشت ہی شمار کیا جائے، تو وہ تہائی سے کم ہے، تو اس صورت میں جانور کی قربانی ہوسکے گی یا نہیں؟

جواب

جانور کی دم میں جو مانع قربانی مقدار بیان کی جاتی ہے، اس میں لٹکتے ہوئے بال شامل نہیں ہیں، لہٰذا وہ جانور جس کی دم کے گوشت کا کچھ حصہ کٹا اور ساتھ میں لٹکتے ہوئے بال کٹ گئے کہ اگر بالوں کو شامل کر کے دیکھیں، تو تہائی سے زیادہ مقدار بنتی ہے اور اگر بالوں کو شامل نہ کریں، فقط دم کا گوشت ہی شمار کیا جائے، تو تہائی سے کم مقداربنتی ہے، اس جانورکی قربانی ہوجائے گی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ”لا يعتبر الشعر المسترسل مع الذنب في المانع“ ترجمہ: (قربانی سے) مانع مقدارمیں دم کے ساتھ لٹکتے بالوں کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب التاسع فی المتفرقات، ج 05، ص 307، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: ”و فی الیتیمۃ سالت ابافضل عن ذنب البقر و البعیر قول الفقهاء انہ یعتبرالثلث او ما فوقہ علی حسب ما اختلفوا فیہ بعد الشعر المسترسل منہ من جملۃالذنب حتی لوکان ساقطا بافۃ نحو البر د و غیرہ بقدر الثلث مع الساقط فی قول من یعتبر الثلث ام لایعتبر ھذہ الشعور و یکون الذنب ھو العظم الطویل فقال لا یعتبر الشعر المسترسل“ ترجمہ: اور یتیمہ میں ہے: میں نے ابو فضل سے گائے اور اونٹ کی دم کے متعلق سوال کیا کہ فقہاء کا جو یہ قول ہے کہ مانع میں تہائی مقدار کا اعتبار ہے یا اس سے اوپر کا جیسا کہ ان کا اختلاف ہے، اس میں دم کے لٹکتے بال بھی شمار ہوں گے حتی کہ اگر سردی وغیرہ کی وجہ سے کچھ حصہ گرا، تو اس میں جو تہائی کا اعتبار کرتا ہے، اس کے قول کے مطابق دم کے ساتھ بالوں کا اعتبار ہوگا یا اعتبار نہیں ہوگا اور دم وہ لمبی ہڈی ہوگی تو انہوں نے فرمایا: لٹکتے بالوں کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الاضحیۃ، الفصل: ما یجوز من الضحایا، ج 17، ص 430 - 31، مطبوعہ کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-6784
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1438ھ / 21 اگست 2017ء