سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی کا حکم جسکا زخم ٹھیک ہو گیا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جانور کا سینگ ٹوٹ کر زخم بھر جائے، تو قربانی کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جانور خریدنے کا ارادہ ہے، مگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کے مالک سے پوچھا، تو اس نے بتایا کہ ایک سینگ ٹوٹ گیا تھا، دوسرے کو بھی ہم نے شروع سے ہی نکال دیا تھا، تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہوسکتی ہے، جبکہ جانور کے سر پر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی سر پر اب کسی طرح کا کوئی زخم ہے۔ رہنمائی فرمائیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس جانور کی قربانی جائز ہے، سینگ کا ٹوٹنا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہوا ہو، لہٰذا اگر کسی جانور کا سینگ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھر جائے، تو اب اس کی قربانی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس عیب کی وجہ سے قربانی نہیں ہورہی تھی، وہ عیب اب ختم ہوچکا ہے، لہٰذا اس کی قربانی ہوجائے گی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک مسئلے کے جواب میں فرماتے ہیں: سینگ ٹوٹنا اس وقت قربانی سے مانع ہوتا ہے، جبکہ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے، اگر اوپر کا حصہ ٹوٹ جائے، تو مانع نہیں۔ فی رد المحتار: ”یضحی بالجماء و ھی التی لا قرن لها خلقۃ و کذا العظماء التی ذھب بعض قرنها بالکسر او غیرہ۔ فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قهستانی، و فی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزئی و المشاش رؤس العظام مثل الرکبتین و المرفقین‘‘ رد المحتار میں ہے جماء کی قربانی جائز ہے، یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ پیدائشی نہ ہو اور یوں عظماء بھی، یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہو اور مخ تک ٹوٹ چکا ہو، تو ناجائز ہے۔ قہستانی اور بدائع میں ہے اگر یہ ٹوٹ مشاش تک ہو، تو ناجائز ہے اور مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں، جیسے گھٹنے اور کہنیاں اور پھر اگر ایسا ہی ٹوٹا تھا کہ مانع ہوتا، مگر اب زخم بھر گیا، عیب جاتا رہا، تو حرج نہیں ’’لان المانع قد زال و ھذا ظاھر‘‘ کیونکہ مانع جاتا رہا اور یہ ظاہر ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 460، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1655
تاریخ اجراء: 24 ذیقعدۃ الحرام 1440ھ / 28 جولائی 2019ء