چوری کے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چوری کے جانور کی قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم نے جانور خریدا، اور جانور خریدنے کے بعد علم ہوا، کہ یہ چوری کا ہے، تو کیا ایسے جانور کی قربانی کرسکتے ہیں؟
جواب
چوری کے جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں؛ بلکہ مالک کو واپس کیا جائے، اور اگر وہ نہ ہو، تو اس کے وارثوں کو، اور ان کا بھی پتا نہ چل سکے، تو فقرا کو دیا جائے۔ چوری کے مال کے متعلق امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کو اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے، پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا استعمال حرام ہے بلکہ مالک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو، اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو۔ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 165، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5083
تاریخ اجراء: 22 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 08 جون 2026ء