logo logo
AI Search

بیوی کی رقم شوہر کے پاس ہو تو قربانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوہر کے پاس بیوی کی جمع شدہ رقم پر قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں گھر میں بچوں کو پڑھاتی ہوں، 15000 روپے سیلری ہے، جو گھر کے اخراجات میں خرچ کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچتی، اور گھر میں سونا (gold)بھی نہیں ہے، البتہ میرے 40000، روپے میرے شوہر کے پاس جمع ہیں، کیا اس صورت میں مجھ پر قربانی لازم ہے؟ اور اگر لازم ہے تو کیا کسی سے اُدھار لے کر قربانی میں حصہ ڈال سکتے ہیں ؟

جواب

اگر واقعی آپ کی ملکیت میں صرف 40000، روپے ہیں، ان کے علاوہ حاجت اصلیہ اور قرض (اگر ذمے پر ہو، تو اس) سے زائد کوئی ایسی چیز (سامان، جائیداد، سونا، چاندی وغیرہ) نہیں، جس کو ان 40 ہزار کے ساتھ ملائیں، تو ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت تک پہنچے، تو اس صورت میں آپ پر قربانی لازم نہیں۔

قربانی کے وجوب کے نصاب کے متعلق بدائع الصنائع ہے ”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اس (دو سو درہم یابیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی سن: 1367ھ) فرماتے ہیں: ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو، جس کی قیمت دو سو درہم ہو، وہ غنی ہے، اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔ “ (بہارِ شریعت، ج 3، حصہ 15، ص 333، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1340ھ) فرماتے ہیں: ”قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔ کاشتکار کے ہل بَیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں، ان کا شمار نہ ہو۔۔۔اور جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں، وہ چاہے قرض لے کر کرے یا اپنا کچھ مال بیچے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5074
تاریخ اجراء: 19 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء