logo logo
AI Search

تلاوت میں حروفِ مدہ زیادہ کھینچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش الحانی و طرز کے لیےحروفِ مدہ کو مقرر مقدار سے زیادہ کھینچنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دورانِ قراءت خوش الحانی اور طرز پیدا کرنے کے لیے حروفِ مدہ کو مقدارِ مقررہ سے زیادہ کھینچنا شرعاً کیسا ہے؟ اگر یہ عمل ممنوع ہے، تو اس کی ممانعت کا درجہ کیا ہے؟ نیز اس سے نماز کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

جواب

قرآنِ مجید، فرقانِ حمید کو خوش الحانی، حُسنِ صوت اور دِلنشیں انداز میں تلاوت کرنا یقیناً ایک پسندیدہ، محمود اور باعثِ اجر عمل ہے کہ خوداحادیثِ مبارکہ میں اس کی ترغیب واردہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ نہایت ضروری ہے کہ خوش الحانی اور لَے و سُر کے شوق میں دیدہ دانستہ قرآن مجید کو معاذ اللہ طرز موسیقی کے قالب میں نہ ڈھالا جائے اور نہ ہی قواعدِ تجوید کی ایسی خلاف ورزی کی جائے، جس سے لحن پیدا ہو، کیونکہ لحنِ خفی کا ارتکاب مکروہ تنزیہی، جبکہ لحنِ جلی کا ارتکاب حرام ہوتا ہے۔

(1) باقی جہاں تک مدات کو کھینچنے کا تعلق ہے، تو کس مد کو کتنے الف کی مقدار کھینچنا ہے اس کی مقدار ائمہ قراءت کی جانب سے مقرر ہے، ہاں بعض مدات کے حوالے سے خود قراء حضرات کے مابین بھی اختلاف ہےکہ اس مد کو زیادہ سے زیادہ کتنے الف کھینچا جائے، بہرحال حکمِ شرعی یہ ہےکہ اگر کوئی شخص کسی مد کو اتنا زیادہ کھینچتا ہے کہ وہ مقررہ مقدار سے نکل کر اس حد تک پہنچ جائے کہ جس حد تک کھینچنے کا کوئی بھی امام قراءت قائل نہ ہو، تو یہ قواعدِ تجوید کے خلاف، لحنِ خفی میں داخل اور شرعاً مکروہ و ناپسندیدہ ہوگا، تاہم اس سےنماز پھر بھی فاسد نہیں ہوگی۔

(2) ہاں! اگر مد کو اتنا زیادہ کھینچا جائے کہ وہ تان کی حد میں داخل ہوجائے، اور اس کے نتیجے میں زائد حروف پیدا ہونے لگیں، مثلاً: ایک الفِ مدہ کو اس طرح کھینچا جائے کہ ”اَ اَ اَ“ کی متعدد آوازیں پیدا ہوجائیں اور ایک حرف دو یا تین حروف بن جائیں، تو یہ کھینچنا یقینا لحنِ جلی میں داخل ہوگا، یعنی یہ گنہگار ہوگا اور اگر یہ معاملہ نماز میں ہو اور اس سے معنی فاسد ہوجائیں، مثلا اس کی وجہ سے وہ لفظ ہی مہمل (بے معنی) ہوجائے، تو نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔

قرآنِ مجید، فرقانِ حمید کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے، لیکن اس میں یہ خیال رکھا جائے کہ کسی حرف کو اتنا زیادہ نہ کھینچا جائے کہ وہ زائدحروف بن جائیں یا پھر اس حد تک پہنچ جائےکہ جتنی مقدار تک کھینچنے کا کوئی بھی امام قائل نہ ہو۔ چنانچہ موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: قال جمهور الفقهاء بجواز قراءة القرآن بالألحان إذا لم تتغير الكلمة عن وضعها، و لم يحصل باللحن تطويل بحيث يصير الحرف حرفين، أو يصل به إلى ما لم يقله أحد من القراء بل كان لمجرد تحسين الصوت، و تزيين القراءة، بل يستحب ذلك“ جمہورفقہاء کا کہنا ہے کہ قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا، جائز ہے، بشرطیکہ الفاظ اپنی اصل حالت سے نہ بدلیں، اور الحان کی وجہ سے حروف اس قدر نہ کھینچے جائیں کہ ایک حرف دو حروف بن جائیں، یا اس حد تک پہنچ جائے کہ جس کا کوئی بھی قاری قائل نہ ہو، پس اگر مقصد صرف آواز کو خوبصورت بنانا اور تلاوت کو مزین کرنا ہو، تو یہ مستحب ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیہ، ج 35، ص 215، مطابع دار الصفوہ، مصر)

فتاوی رضویہ میں ہے: قرآن عظیم خوش الحانی سے پڑھنا جس میں لہجہ خوشنما دلکش پسندیدہ، دل آویز، غافل دلوں پر اثر ڈالنے والا ہو، اور معاذ اللہ رعایت اوزان موسیقی کے لئے ہیئت نظم قرآنی کو بدلا نہ جائے، ممدود کا مقصور، مقصور کا ممدود نہ بنایا جائے، حروف مد کو کثیر فاحش کشش جسے اصطلاح موسیقیان میں تان کہتے ہیں، نہ دی جائے، زمزمہ پیدا کرنے کے لئے بے محل غنہ ونون نہ بڑھا یا جائے، غرض طرز ادا میں تبدیل و تحریف راہ نہ پائے، بیشک جائز و مرغوب، بلکہ شرعا محبوب ومندوب، بلکہ بتاکید اکید مطلوب اعلیٰ درجہ کی، زمانہ صحابہ و تابعین و ائمہ دین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے آج تک اس کے جواز و استحسان پر اجماع علماء ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 356، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

لحنِ خفی اور جلی کے حکم کے متعلق علمِ تجوید کی کتاب فوائد مکیہ میں ہے: خوش الحانی کا حکم: اور خوش آوازی سے پڑھنا امر زائد مستحسن ہے، اگر قواعدِ تجوید کے خلاف نہ ہو، ورنہ مکروہ اگر لحنِ خفی لازم آئے، اور لحنِ جلی لازم آئے، تو حرام و ممنوع ہے، پڑھنا اور سننا دونوں کا ایک حکم ہے۔ (فوائد مکیہ، ص 06، حق اکیڈمی)

ائمہ قراءت سے منقول مدات کی مقدار پر اضافہ کرنا ممنوع و مکروہ ہے، جبکہ اس حد تک نہ ہو کہ اس سے زائد حروف پیدا ہوں، اس حوالے سے المنح الفکریۃ فی شرح مقدمۃ الجزریۃ میں علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ثم اعلم ان الزیادة علی المقدار الوارد فی حد المد ایضا ممنوع فمذھب الجمھور ان قدر المد الاطول خمس الفات، و قدر المد الطویل اربع الفات و قدر المتوسط ثلاث الفات، و قدر المد فوق القصر الفان۔ ۔ ۔ و الحاصل انہ لایجوز الزیادۃ علی مقدار خمس الفات اجماعا، فما یفعلہ بعض الائمۃ و اکثر المؤذنین فمن اقبح البدعۃ و اشد الکراھۃ و اما تقدیر الھذلی الطویل بست الفات و ذلک فی کاملہ لورش فیما رواہ الحداد و ابن نفیس و ابن سفیان و ابن غلبون فنسبوہ فی ذلک الی الوھم کما قالہ المصنف رحمہ اللہ فی نشرہ

پھر جان لو کہ مد کی مقررہ مقدار سے زیادہ کھینچنا بھی ممنوع ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک مدِ اَطول کی مقدار پانچ الف کے برابر، مدِ طویل کی چار الف، مدِ متوسط کی تین الف، اور قصر سے زائد کم ترین مد کی مقدار دو الف ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پانچ الف سے زیادہ مد کرنا بالاتفاق (قواعد کے اعتبار سے) جائز نہیں۔ لہٰذا بعض ائمہ اور اکثر مؤذنین جو اس سے زیادہ کھینچتے ہیں، وہ نہایت قبیح بدعت اور سخت مکروہ عمل ہے۔ رہا ہذلی کا یہ قول کہ مدِ طویل کی مقدار چھ الف ہے، اور اس نے یہ روایت کامل میں ورش کی قراءت سے حداد، ابن نفیس، ابن سفیان اور ابن غلبون کے حوالے سے نقل کی ہے، تو ائمہ نے اسے وہم قرار دیا ہے، جیسا کہ مصنف رحمہ اللہ نے اپنی کتاب النشر میں بیان فرمایا ہے۔ (المنح الفکریۃ، ص 239، 241، مطبوعہ دمشق)

واضح رہے کہ مذکورہ بالا عبارت میں جو پانچ الف سے زائد کھینچنے کو ناجائز قرار دیا گیا، اس سے مراد شرعی اعتبار سے ناجائز نہیں، بلکہ قواعد تجوید کے اعتبار سے ناجائز ہے، جیسا کہ ائمہ قراءت کتبِ تجوید میں جابجا اپنی اس اصطلاح کی تصریح فرمارہے ہوتے ہیں، چنانچہ اسی طرح کی ایک صورت کے متعلق فوائد مکیہ میں ہے: اس فصل میں جو غیر جائز اور غیر صحیح کہا گیا ہے مراد اس سے غیر اولیٰ ہے۔ (فوائد مکیہ، ص 45، حق اکیڈمی)

مدّات کو مقررہ مقدار سے اتنا زیادہ کھینچنا کہ خروج فاحش ہو، مکروہ ہے اور لحن (خفی) میں داخل ہے، تاہم اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی الا یہ کہ تان کی حد تک ہو کہ جس سے زائد حروف پیدا ہوجائیں اور معنی فاسد ہوجائیں۔ بریقہ محمودیہ میں ہے: لكن المفهوم من الفقهية أنه إن غير اللحن الكلمة و المعنى تفسد، و إلا فتكره قال في قاضي خان: و لو قرأ بالألحان إن غير الكلمة تفسد صلاته ثم قال فإن كان في حروف المد و اللين، و هي الياء و الألف و الواو، لا تغير إلا إذا فحش“ کتب فقہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر لحن کلمہ اور معنی دونوں کو تبدیل کردے، تو مفسد نماز ہے، ورنہ مکروہ ہے، قاضی خان نے فرمایا: اگر قراءت میں لحن کرتا ہے، تو اگر معنی کو تبدیل کر دے، تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ پھر فرمایا حروف مدہ اور لین جو کہ یاء، الف اور واؤ ہیں، ان میں لحن معنی کو تبدیل نہیں کرتا، مگر یہ کہ بہت زیادہ ہو۔ (بریقہ محمودیہ، ج 03، ص 66، مطبعة الحلبي)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ الف اللہ کو تکبیرات میں کچھ دراز کرکے پڑھنا، جائز ہے یا نہیں تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً فرمایا: تھوڑا دراز کرنا، تو مستحب ہے، اسے مدِ تعظیم کہتے ہیں اور زیادہ دراز کرنا کہ حدِ اعتدال سے خروج فاحش ہو، مکروہ اور اگر معاذ اللہ تان کے طور پر ہو کہ کچھ حروف زوائد پیدا ہوں، مثل: ’’اَ اَ‘‘ تو مفسد نماز ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 328، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے: لحن کے ساتھ قرآن پڑھنا حرام ہے اور سُننا بھی حرام، مگر مد و لین میں لحن ہوا، تو نماز فاسد نہ ہوگی، اگر فاحش نہ ہو کہ تان کی حد تک پہنچ جائے۔ (بھار شریعت، ج 01، ص 557، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور فتاوی رضویہ کےمذکورہ بالا جزئیہ میں مذکورہ کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے، کیونکہ مدات کا تعلق محسناتِ تجوید سے ہوتا ہے، اور اس طرح کے محسنات کا ترک لحن خفی میں داخل اور شرعاً مکروہ تنزیہی ہی ہوتا ہے۔ سوائے مد کے ان قواعد کے، جنہیں علمائے دین نے وجوب کا درجہ دیا ہے اوراس کے ترک کو حرام قرار دیا ہے، جیسے مدِ متصل کو ایک الف کی مقدار نہ کھینچنے اور مدِ لازم کے ترک کرنے کو علمائے دین نے گناہ قرار دیا ہے۔

مد کے محسنات تجوید میں سے ہونے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: جن حروف پر مد ہے، جیسے جآء، تنوٓء، جآء، یآ یھا، (وہاں مد نہ کرنا) بھی اصلاً مفسد نہیں، ’’فان ذلک من محسنات التجوید و لا دخل لہ فی المعنی بل فی اللفظ ایضا بحیث یتغیر بترکہ الفاظ فضلا عن المعنی‘‘ کیونکہ یہ محسنات تجوید میں سے ہے، اس کا معنی میں، بلکہ الفاظ میں بھی کوئی دخل نہیں، کیونکہ اس کے ترک سے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، چہ جائیکہ معنی میں تبدیلی آئے (ت)، ان سے اگرچہ فساد نماز نہیں، مگر کراہت ضرور ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 423، 424، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مد کے قواعد کی خلاف ورزی کا تعلق لحنِ خفی سے ہوتا ہے اور اس لحنِ خفی کا ارتکاب مکروہ تنزیہی ہوتا ہے۔ نصاب التجوید میں ہے: لحنِ خفی: چھوٹی اور پوشیدہ غلطی کو کہتے ہیں یعنی ان چیزوں کو ترک کردینا جو حروف کی خوبصورتی اور تحسین میں اضافہ کرتی ہیں، اس سے معنی فاسد نہیں ہوتے، مگر یہ مکروہ و ناپسند غلطی ہے، شرعاً اس غلطی سے بچنا مستحب ہے۔ لحن خفی کی صورتیں: لحن خفی صفاتِ عارضہ کے صحیح طور پر ادا نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً: اِدغام، اِقلاب، اِخفاء اور غُنّہ کا صحیح طور پر ادا نہ ہونا اور مّدات کا چھوٹا بڑا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (نصاب التجوید، ص 65، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

محسنات کے ترک کے مکروہ تنزیہی ہونے کے متعلق فتاوٰی رضویہ میں ہے: محسنات کا لحاظ رکھا جائے، یہ مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسند۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 276، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مدِ متصل اور مدِ لازم کی رعایت کرنا ضروری ہے، جس کا تارک گنہگار ہوگا۔ جیسا کہ فتاوٰی رضویہ میں ہے: واجب واجماعی مدمتصل ہے، منفصل کا ترک جائز و لہذا اس کا نام ہی مد جائز رکھا گیا اور جس حرف مدہ کے بعد سکون لازم ہو، جیسے ’’ضالین‘‘، ’’الٓمّٓ‘‘ وہاں بھی مد بالاجماع واجب اور جس کے بعد سکون عارض ہو، جیسے ’’العالمین‘‘ ’’الرحیم‘‘ ’’العباد‘‘ ’’یوقنون‘‘بحالت وقف یا ’’ قَالَ اَلَلّٰھُمَّ‘‘ بحالت ادغام وہاں مدوقصر دونوں جائز، اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار، مگر فرائضِ نماز سے نہیں (کہ) ترک مفسد صلاۃ ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 278، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: اگر حالت ایسی ہے کہ تجوید کے امور ضروریہ واجبات شرعیہ ادا نہیں ہوتے، جن کا ترک موجب گناہ ہے، جیسے مد متصل بقدر ایک الف وغیرہ۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 490، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابو حمزہ محمد حسان عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0750
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ 1447ھ / 14 مئی 2026ء