logo logo
AI Search

قرآن پاک کے شروع میں اردو عبارت لکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جب قرآن پاک پر اُردو کی کتاب نہیں رکھی جا سکتی، تو اس کے شروع میں اُردو عبارت لکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جب قرآن پاک پر اُردو کتاب نہیں رکھی جاسکتی، تو قرآن کے شروع میں اُردو کی عبارات اور تلاوت کی نیتیں وغیرہ لکھنا کیسا؟

جواب

ادب یہ ہے کہ مصحف شریف کے اوپر کوئی کتاب یا سامان نہ رکھا جائے۔ کسی مصحف شریف کے شروع میں اردو عبارات لکھی ہوں یا تلاوتِ قرآن کی نیتیں تو یہ قرآن پاک کے اوپر رکھنا نہیں کہلاتا، نہ ہی عرف میں اسے بے ادبی شمار کیا جاتا ہے۔ اگر یہ معاملہ اوپر رکھنا کہلائے اور بےادبی قرار پائے تو اس طرح تو بہت ساری چیزیں بےادبی شمار ہوں گی جیسے قرآن مجید کو جزدان وغلاف میں رکھنا ادب ہے، صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانہ سے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے۔ (بہار شریعت، ج 3، حصہ 16، 496، مکتبۃ المدینہ) اسی طریقہ سے جن مفسرین کرام نے قرآن پاک کی تفسیر لکھی ان کے قلمی نسخوں کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے جامع مقدمہ لکھا ہے لیکن کسی نے اسے قرآن پاک یا آیات پر رکھنا قرار نہیں دیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا یہ بےادبی شمار نہیں ہوتیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2498
تاریخ اجراء: 08 ربیع الآخر 1447ھ / 02 اکتوبر 2025ء