تلاوتِ قرآن مجید میں تجوید کا خیال رکھنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیرون نماز تلاوتِ قرآن مجید میں تجوید کا خیال رکھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم کی تلاوت میں تجوید کا لحاظ ہر جگہ رکھنا ضروری ہے یا صرف نماز میں رکھنا ہوگا؟
جواب
قرآنِ کریم کی تلاوت میں تجوید کے ضروری قواعد (مثلا حروف کے مخارج اور ضروری صفات وغیرہ کو درست ادا کرنا) صرف نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ نماز کے اندر اور باہر، ہر حال میں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن کریم کو بہر صورت اسی طرح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے، اور اس طرح پڑھنے کے لیے تجوید کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ (القرآن الکریم، پارہ 29، سورۃ المزمل، آیت 04)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے ”رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکانِ صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے۔ “ (تفسیرِ خزائن العرفان، ص 1063، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوٰی رضویہ میں ہے ”بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہو اور غلط خوانی سے بچے، فرض عین ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 343، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے ”قرآن مجید مطلقاً صحیح پڑھنا فرض ہے، نماز میں ہو، یا بیرونِ نماز، اس طرح کہ حروف مخارج سے نکالے جائیں اور وہ صفات جن سے ایک مخرج کے چند حروف باہم ممتاز ہوتے ہیں ان کی بھی رعایت کی جائے۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج 01، ص 86، مکتبہ رضویہ، کراچی)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ترتیل کی تین حدیں ہیں۔ ہر حد اعلیٰ میں اس کے بعد کی حد ماخوذ و ملحوظ ہے۔ حد اوّل: یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گِن سکے۔ الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں، حروف کو ان کی صفات شدت و جہر وامثالہا کے حقوق پورے دئیے جائیں، اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے، یہ مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسند۔۔۔دوم: مد و وقف و وصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے کا لحاظ رہے، حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو اِنَّ کُنَّ یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے، با و جیم ساکنین جن کے بعد "ت" ہو بشدت ادا کیے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں، جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں، حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے۔ جہاں جب صراط و قاطعہ میں ص و ط کے اجتماع میں مثلًا ”یستطیعون“ ”لاتطع“ بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے، بلکہ بعض سے ”عتو“ میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے۔ بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذ نہ کرے، نہ کوئی حرف چُھوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود و مقصور ہو نہ ممدود، اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار۔۔۔ سوم: جو حروف و حرکات کی تصحیح ا ع، ت ط، ث س ص، ح ہ، ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے۔ غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 275 تا 281، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب:مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5113
تاریخ اجراء: 2 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء