logo logo
AI Search

پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی یا کیل گاڑنے دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے یا گاڑنے سے منع کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک حدیث پڑھی تھی کہ اگر پڑوسی تمہاری دیوار پر لکڑیاں گاڑنا چاہے تو اسے منع نہ کرو۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس حکم پر عمل کرنا واجب ہے؟ اگر کوئی منع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ حکم استحبابی ہے یعنی پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑیاں رکھنے دینا اجر والا کام ہے لیکن اگر کوئی منع کرے تو گناہ گار نہیں۔

مشکوٰۃ المصابیح میں بحوالہ بخاری و مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا یمنع جار جاره أن يغرز خشبة فی جداره“ یعنی کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔ (مشکوۃ المصابیح مع مرقاۃ المفاتیح، جلد 6، صفحہ 146۔147، حدیث 2964، مطبوعہ: بیروت)

لمعات التنقیح میں ہے: ”أی: إذا لم يضرَّه، والأصح أنه محمول على الندب“ یعنی بشرطیکہ جب پڑوسی کو اس سے نقصان نہ ہو اور اصح یہ ہے کہ یہ حکم استحباب پر محمول ہے۔ (لمعات التنقیح، جلد 5، صفحہ 635، مطبوعہ: بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یعنی اگر تمہاری دیوار میں تمہارا پڑوسی کیل، کھونٹی، میخ وغیرہ گاڑنا چاہے اور تمہارا اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے منع نہ کرو، امام اعظم و احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 326، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2424
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1447ھ / 08 اگست 2025ء