logo logo
AI Search

پیک قرآن پاک کو بے وضو چھونا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیکنگ میں پیک قرآن پاک کو بے وضو چھونا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی نے قرآن پاک گفٹ دیا ہے جو کاغذ کی پیکنگ میں پیک ہے، کیا اس کو بے وضو چھو سکتے ہیں؟

جواب

وہ پیکنگ قرآن پاک سے الگ ہوتی ہے اور اسے علیحدہ کر کے ہی قرآن پاک پڑھا جاتا ہے لہٰذا اس میں اگر قرآن پاک مکمل پیک ہے تو اس کے اوپر سے بے وضو چھو سکتے ہیں کیونکہ یہ قرآنِ پاک کے تابع نہیں۔

بہارِ شریعت میں ہے: بے وضو کو قرآن مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے۔ بے چھوئے زبانی یا دیکھ کر پڑھے، تو کوئی حرج نہیں ۔ ۔ ۔ اگر قرآنِ عظیم جزدان میں ہو، تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حرج نہیں، یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو، نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے، کرتے کی آستین، دوپٹے کی آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے مونڈھے (کندھے) پر ہے، دوسرے کونے سے چھونا حرام ہے کہ یہ سب اس کے تابع ہیں، جیسے چولی قرآنِ مجید کے تابع تھی۔ (ملتقطاً) (بھار شریعت، جلد 01، صفحہ 326، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2473
تاریخ اجراء: 25 ربیع الاول 1447ھ / 19 ستمبر 2025ء