logo logo
AI Search

نمازِ استسقا کی دعا میں ہاتھ اٹھانے والی حدیث کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نمازِ استسقا میں دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے والی حدیث پاک کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

"وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يرى بَيَاض إبطَيْهِ" اس حدیث کی تشریح کردیں؟

جواب

اس حدیث پاک کا ترجمہ یہ ہے: "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سوا کسی دعا میں (بہت اونچے) ہاتھ نہ اٹھاتے، استسقاءمیں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی۔"

مذکورہ حدیثِ پاک میں نماز استسقاء کی دعا کے علاوہ کسی اور دعا میں ہاتھ اٹھانے کی نفی نہیں کی گئی بلکہ استسقاء کی دعا کے علاوہ سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کی نفی کی جا رہی ہے۔ یعنی اور دعاؤں میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سینے تک ہاتھ اٹھاتے تھے، اور اس دعا میں سر سے اونچے، ورنہ ہاتھ اٹھانا تو مطلقا آداب دعا میں سے ہے۔

اور "فَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يرى بَيَاض إبطَيْهِ" کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ علیہ الصلوۃ والسلام چادر یا قمیص مبارک نہیں پہنے ہوتے، تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بغل مبارک کی سفیدی نظر آ جاتی، یہ مطلب نہیں کہ آپ بغیر قمیص پہنے نماز پڑھاتے تھے۔

چنانچہ اس حدیث پاک کی شرح میں عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے "هذا الحديث ظاهره يوهم أنه لم يرفع صلى اللہ عليه وسلم يديه إلا في الاستسقاء وليس الأمر كذلك بل قد ثبت رفع يديه في الدعاء في مواطن غير الاستسقاء وهي أكثر من أن تحصى فيتؤول هذا الحديث على أنه لم يرفع الرفع البليغ بحيث يرى بياض أبطيه إلا في الاستسقاء" ترجمہ: اس حدیث کا ظاہری مفہوم یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقا (بارش کی دعا) کے علاوہ کسی اور موقع پر دعا میں ہاتھ نہیں اٹھائے، حالانکہ حقیقتاً معاملہ ایسے نہیں ہے، بلکہ استسقا کے علاوہ بھی بہت سے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے، اور ایسے مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقا کے علاوہ کسی اور دعا میں ہاتھوں کو اس قدر زیادہ بلند نہیں فرمایا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 7، صفحہ 75، مطبوعہ: کوئٹہ)

اور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”یہاں ہاتھ اٹھانے کی نفی نہیں بلکہ سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کی نفی ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے یعنی اور دعاؤں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سینے تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور اس دعا میں سر سے اونچے۔ (فَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يرى بَيَاض إبطَيْهِ، اس کے تحت فرماتے ہیں) یعنی اگر چادر یا قمیص نہ پہنے ہوتے تو بغل شریف کی سفیدی دیکھی جاتی، لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بغیر قمیص نماز پڑھاتے تھے۔" (مراۃ المناجیح، ج 02، ص 392، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام ابو داود رحمۃ اللہ علیہ اپنی سنن میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: "ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کان اذا دعا فرفع یدیہ مسح وجھہ بیدیہ" ترجمہ: بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم جب دعا کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر اُٹھاتے اور اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے تھے۔ (سنن ابی داود، صفحہ  244، رقم الحدیث 1492، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے ’’یونہی ہاتھ اٹھانا دعا کے آداب سے ہونا بکثرت احادیث صحیحہ و معتبرہ قولی و فعلی و تقریری سے ثابت، یہ سب حدیثیں صحاح و مشکوۃ و اذکار و حصن حصین وغیرہا میں مروی و مذکور، اور بعد ثبوت اطلاق بے اثبات تخصیص ممانعت خاص قاعدہ علم سے دور و مہجور۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 190، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5132
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ/20 جون 2026ء