جنات انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنات انسان کے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسلامی نظریات کی روشنی میں جنات انسان کے بدن میں داخل ہوسکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں! اسلامی نظریات کی روشنی میں جنات انسانی بدن میں داخل ہوسکتے ہیں اور یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے، چنانچہ سورہ بقرہ میں ہے: ﴿لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسےآسیب نے چھو کر پاگل بنادیا ہو۔ (پارہ 3، سورہ بقرہ، آیت 275)
علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 671ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: فی ھذہ الآیۃ دلیل علی فساد انکار من انکر الصرع من جھۃ الجن، و زعم انہ من فعل الطبائع، وان الشیطان لا یسلک فی الانسان و لا یکون منہ مس“ ترجمہ: یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ اسے چھوتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، سورہ بقرہ، آیت 275، جلد 3، صفحہ 355، دار الكتب المصرية القاهرة)
مسند احمد میں ہے: عن يعلى بن مرة، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم: أنه أتته امرأة بابن لها قد أصابه لمم، فقال له النبي صلى اللہ عليه و سلم: «اخرج عدو اللہ، أنا رسول اللہ» قال: فبرأ“ یعنی: حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام کے پاس ایک عورت اپنے بچے کو لے کر حاضر ہوئی اس بچے کو جنون تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اے خدا کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔، راوی کہتے ہیں وہ وہ بچہ اس سے بری (شفا یاب) ہوگیا۔ (مسند أحمد، حديث يعلى بن مرة الثقفي عن النبي جلد 29، صفحہ 105، مؤسسة الرسالة)
علامہ قاضی بدرالدین ابو عبداللہ محمد بن عبد اللہ شبلی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 769ھ) نے تحریرفرمایا: و ذکرابو الحسن الاشعری فی مقالات اھل السنۃ و الجماعۃ انھم یقولون: ان الجن تدخل فی بدن المصروع کما قال اللہ تعالی ﴿اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ﴾ (البقرۃ: 275) قال عبداللہ بن احمد بن حنبل قلت لابی: ان قوما یقولون ان الجن لاتدخل فی بدن الانس قال: یابنی یکذبون ھوذا یتکلم علی لسانہ ۔ ۔ ۔ عن ابن عباس: ان امراۃ جا ءت بابن لھا الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت یارسول اللہ :ان ابنی بہ جنون و انہ یاخذہ عندٖ غدائنا و عشائنا، فمسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صدرہ و دعا لہ فتفتفہ فخرج من جوفہ مثل الجرو الاسود فسعی۔ ترجمہ: علامہ ابو الحسن اشعری رحمۃاللہ علیہ نے مقالات اہل السنۃ و الجماعۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ جنات آسیب زدہ کے وجود میں داخل ہوجاتے ہیں، جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا: وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسے آسیب نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو (البقرۃ: 275)۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے عبد اللہ نے ان سے کہا کہ اے ابا جان!! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنات آسیب زدہ کے بدن میں داخل نہیں ہوتے، انہوں نے جواب دیا کہ وہ جھوٹے ہیں اور وہی تو آسیب زدہ کی زبان پر بولتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نقل کیا ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اس بچے کو جنون ہے صبح و شام ہوتا ہے، آپ علیہ السلام نے اس بچے کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ہاتھ پھیرا اور دعا کی اور تھتکارا، اس کے منہ سے سیاہ کتیا کے بچہ کی طرح کوئی چیزنکل کربھاگی۔ (آکام المرجان فی احکام الجان، الباب الحادی و الخمسون، صفحہ 157، مكتبة القرآن مصر)
حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریرفرمایا: ”ان الجن یدخلون فی بدن المصروع“ یعنی: بیشک جنات آسیب زدہ شخص کے بدن میں داخل ہوتے ہیں۔ (لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 89، مکتبۃ القران، قاہرہ)
حضرت علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفى: 855ھ) جنات کے انسانی بدن میں داخلے کی بحث کے بعد لکھتے ہیں: ”و قال القاضي عبد الجبار: أجسامهم كالهواء فلا يمتنع دخولهم في أبدان الإنس كما يدخل الريح و النفس“ یعنی قاضی عبدالجبارنے فرمایا: جنات کے جسم ہوا کی طرح رقیق ہیں توان کے انسانی جسم میں داخل ہونے میں کوئی استحالہ نہیں ہے جس طرح کہ ہوا اور سانس جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 21، صفحہ 214،دار إحياء التراث العربي، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0096
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1443ھ / 17 ستمبر 2021ء