برہنہ ہونے سے بچو حدیث کی شرح
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
برہنہ ہونے سے بچو کیونکہ تمہارے ساتھ موجود فرشتے جدا نہیں ہوتے ۔ ۔ الخ، حدیث کی شرح
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اس حدیث پاک کی وضاحت مطلوب ہے: رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمھارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو جدا نہیں ہوتے مگر صرف پاخانہ کے وقت اور اس وقت جب مرد اپنی عورت کے پاس جاتا ہے، لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام کرو۔
جواب
اس حدیثِ مبارک کی وضاحت یہ ہے کہ مسلمان کو بلا اجازت شرعی برہنہ ہونے سے بچنا چاہیے، کیونکہ انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے، یعنی کراماً کاتبین، موجود رہتے ہیں۔ یہ فرشتے عام حالات میں انسان سے جدا نہیں ہوتے، البتہ قضائے حاجت اور میاں بیوی کے خاص تعلق کے وقت جدا ہو جاتے ہیں،پس جب بلااجازت شرعی کسی موقع پر وہ برہنہ ہوگا، تو فرشتوں کے سامنے برہنہ ہونا پایا جائے گا، جو کہ فرشتوں کی تعظیم کے خلاف بھی ہے، اور بے حیائی والا کام بھی ہے، اس لیے بندے کو چاہیے کہ خلوت میں ستر پوشی کا لحاظ رکھے ، سوائے ان ناگزیر حالات کے ، جہاں شریعت نے خود اجازت دی ہے۔
ترمذی شریف میں ہے ”عن ابن عمر، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: إياكم و التعري، فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط، و حين يفضي الرجل إلى أهله، فاستحيوهم و أكرموهم“ ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و سلَّم نے فرمایا: برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمھارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو جدا نہیں ہوتے مگر صرف پاخانہ کے وقت اور اس وقت جب مرد اپنی عورت کے پاس جاتا ہے، لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام کرو۔ (سنن ترمذی، کتاب الآداب، صفحہ 1025، رقم الحدیث 2800، دار ابن کثیر،دمشق)
اس کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے (إياكم و التعري) أي احذروا من كشف العورة (فإن معكم) أي من الملائكة (من لا يفارقكم إلا عند الغائط) قال الطيبي - رحمه اللہ -: و هم الحفظة الكرام الكاتبون (و حين يفضي) أي يصل (الرجل إلى أهله فاستحيوهم) أي منهم (أكرموهم) أي بالتغطي و غيره مما يوجب تعظيمهم و تكريمهم، قال ابن الملك: فيه إنه لا يجوز كشف العورة إلا عند الضرورة كقضاء الحاجة و المجامعة و غير ذلك“ ترجمہ: تم ننگے ہونے (یعنی بلا ضرورت اپنی شرمگاہ کھولنے) سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ (ایسے فرشتے) موجود ہوتے ہیں جو تم سے کبھی جدا نہیں ہوتے سوائے قضائے حاجت کے وقت۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ان (فرشتوں) سے مراد حفاظت کرنے والے معزز لکھنے والے فرشتے (کراماً کاتبین) ہیں۔ اور (وہ فرشتے اس وقت بھی جدا ہوتے ہیں) جب کوئی مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے (یعنی صحبت کرتا ہے)، پس تم ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام (ادب) کرو۔ یعنی کپڑا اوڑھ کر یا دیگر ایسے طریقوں سے ان کا ادب کرو جس سے ان کی تعظیم اور تکریم واضح ہو۔ ابن الملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بلا ضرورت شرمگاہ کھولنا جائز نہیں ہے، سوائے شدید ضرورت کے وقت جیسے قضائے حاجت اور بیوی سے قربت کے وقت، اور اس طرح کے دیگر مواقع۔ (مرقاة المفاتيح، جلد 06، صفحہ 259، مطبوعہ: کوئٹہ)
فیض القدیر میں ہے (إياكم والتعري) أي التجرد عن اللباس و كشف العورة حرام إن كان ثم من يحرم نظره إليه و أما إن كان في خلوة فإن كان لغرض جاز و إن كان لغير غرض حرم كشف السوء تين فقط (فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط و حين يفضي الرجل إلى أهله) أي يجامع حليلته يريد الكرام الكاتبين (فاستحيوهم) أي استحيوا منهم (و أكرموهم) بالتستر بحضرتهم و عدم هتك حرمتهم“ ترجمہ: برہنہ ہونے سے بچو یعنی کپڑوں سے بالکل برہنہ ہونا اور ستر کھولنا۔ اگر وہاں کوئی ایسا شخص موجود ہو جس کے لیے دیکھنا حرام ہے تو ستر کھولنا حرام ہے۔ البتہ اگر آدمی تنہائی میں ہو، تو اگر کسی ضرورت یا غرض کی وجہ سے ہو تو جائز ہے، اور اگر بلا ضرورت ہو تو صرف شرمگاہوں (قبل و دبر) کو کھولنا حرام ہے۔ کیونکہ تمہارے ساتھ ایسے (فرشتے) ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے مگر قضائے حاجت کے وقت اور اُس وقت جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے یعنی اپنی حلال بیوی سے جماع کرے۔ اس سے مراد معزز لکھنے والے فرشتے ہیں۔ پس ان سے حیا کرو، یعنی ان فرشتوں سے شرم کرو، اور ان کی عزت کرو، یعنی ان کی موجودگی میں ستر پوشی اختیار کر کے اور ان کی حرمت پامال نہ کر کے ان کا احترام کرو۔ (فیض القدیر، جلد 03، صفحہ 612، مطبوعہ: مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5088
تاریخ اجراء: 23 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 09 جون 2026ء