logo logo
AI Search

آنکھ کے زنا کا کیا مطلب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آنکھ کے زنا کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک حدیث پاک ہے کہ: "آنکھ کا زنا بدنگاہی ہے۔" اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

مذکورہ بالا حدیث پاک میں جو بدنگاہی کو زنا قرار دیا گیا ہے، یہ مجاز ہے، یعنی حقیقی زنا مراد نہیں ہے، کہ حقیقی زنا تو شرمگاہ کو حرام شرمگاہ میں داخل کرنے سے ہوتا ہے، لیکن چونکہ بدنگاہی، اس حقیقی زنا کا سبب بنتی ہے، اس لیے مجازا اسے زنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مسند احمد وغیرہ کثیر کتب احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فالعين زناها النظر“ آنکھ کا بدنگاہی ہے۔ (مسند أحمد، جلد 14، صفحہ 500، مؤسسۃ الرسالة، بیروت)

اس حدیث کے تحت فيض القدير میں ہے ”(زنا العينين النظر) يعني أن النظر بريد الزنا ورائد الفجور“ یعنی آنکھوں کا زنا بدنگاہی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ بدنگاہی زنا کی قاصد اور فسق و فجور کا پیش خیمہ ہے۔ (فيض القدير، جلد 04، صفحہ 65، مطبوعہ: مصر)

شرح النووی علی مسلم میں ہے "معنى الحديث أن ابن آدم قدر عليه نصيب من الزنى فمنهم من يكون زناه حقيقيا بإدخال الفرج في الفرج الحرام ومنهم من يكون زناه مجازا بالنظر الحرام" ترجمہ: حدیث کا معنی یہ ہے کہ ابن آدم پر زنا کا حصہ مقدر ہو چکا، تو ان میں سے کسی کا زنا حقیقی ہوگا، شرمگاہ کو حرام شرمگاہ میں داخل کرنے کے ذریعے، اور ان میں سے کسی کا زنا مجازی ہوگا، بدنگاہی کے ذریعے۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 08، ص 457، دار الحدیث، القاھرۃ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5117
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1448ھ/19 جون 2026ء