شوہر کے انتقال یا طلاق کے بعد سوتیلے سسر سے نکاح کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر سے جدائی کے بعد اس کے سوتیلے والد سے نکاح کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر شوہر نے اپنی بیوی سے صحبت نہ کی ہو، اور اس سے پہلے ہی طلاق یا اس کی وفات ہو جائے، تو کیا یہ عورت اس کے سوتیلے والد سے نکاح کر سکتے ہیں؟
جواب
خواہ شوہر نے صحبت کی ہو، یا نہ، بہر صورت، شوہر کی وفات یا طلاق دینے کے بعد اس کے سوتیلے والد سے، اس عورت کا نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ (رضاعت و مصاہرت وغیرہ) نہ ہو، کیونکہ سوتیلا والد حقیقی والد نہیں، اور سوتیلا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اور قرآن پاک میں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کی ہی حرمت بیان ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: (وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ) ترجمہ: اور (تم پر حرام کر دی گئیں) تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں۔ (سورۃ النسآء، پارہ 04، آیت23)
اسی لیے منہ بولے بیٹے کی بیوی حرام نہیں ہوتی، کہ وہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ چنانچہ تفسیر جلالین میں ہے "{وحلائل} أزواج {أبنائكم الذين من أصلابكم} بخلاف من تبنيتموهم فلكم نكاح حلائلهم" ترجمہ: تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں برخلاف منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے، کہ ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا تمہارے لیے جائز ہے۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 288، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اوپر مذکور آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے "اس سے معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی بیٹے کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بھی بیٹوں میں داخل ہیں۔ " (صراط الجنان، ج 02، ص 192، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں ہے "قال الرملي قالوا لا يحرم على المرء زوجة من تبناه لأنه ليس بابن" ترجمہ: علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ علمائے کرام نے فرمایا: جسے گود لیا ہو اسکی زوجہ مرد پر حرام نہیں ہے کیونکہ وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں۔ (منحۃ الخالق علی بحر الرائق، جلد 3، صفحہ 101، مطبوعہ: بیروت)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا ’’بکر نے اپنی عورت منکوحہ کو طلاق دے دی اور ایام عدت بھی گزر گئے اب بکر کا باپ سوتیلا اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور وہ عورت بھی اپنے خسر سوتیلے سے رضامند ہے۔ موافق شریعت کے ان کا نکاح درست ہے یانہیں؟“
اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں درست ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 194، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5189
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1448ھ/10 جولائی 2026ء