شوہر اپنی بیوی کا حق مہر استعمال کر سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر کا بیوی کے حق مہر کو استعمال کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا شوہر کو زوجہ کا حق مہر استعمال کرنے کی اجازت ہے؟
جواب
شوہر، بیوی کی اجازت کے بغیر، یا اسے اجازت پر مجبور کر کے، حق مہر استعمال نہیں کر سکتا، ہاں! اگر عورت اپنی رضامندی سے شوہر کو حق مہر استعمال کرنے کی اجازت دے دے، تو شوہر اسے استعمال کر سکتا ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةًؕ-فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓــٴًـا مَّرِیْٓــٴًـا ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوش دلی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے پاکیزہ، خوشگوار (سمجھ کر) کھاؤ۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 04)
مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کریں۔ پھر اگر ان کی بیویاں خوش دلی سے اپنے مہر میں سے انہیں کچھ تحفے کے طور پر دے دیں، تو وہ اسے پاکیزہ اور خوشگوار سمجھ کر کھائیں۔ اس میں ان کا کوئی دنیوی یا اُخروی نقصان نہیں ہے۔۔۔مہر دینے کے بعد زبردستی یا انہیں تنگ کرکے واپس لینے کی اجازت نہیں۔ اگر عورتیں خوشی سے پورا یا کچھ مہر تمہیں دے دیں، تو وہ حلال ہے؛ اسے لے سکتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں لوگ عورتوں کو مہر واپس دینے یا معاف کرنے پر باقاعدہ تو مجبور نہیں کرتے، لیکن کچھ اپنی چرب زبانی سے، اور کچھ اپنے رویئے کو بگاڑ کر، موڈ آف کرکے اور میل برتاؤ میں انداز تبدیل کرکے، مہر کی معافی یا واپسی پر عورت کو مجبور کرتے ہیں۔ یہ سب صورتیں ممنوع ہیں، بلکہ بعض اعتبار سے اس میں زیادہ خباثت اور کمینگی ہے۔ ایسے لوگ مہر معاف بھی کروا لیتے ہیں اور اپنے نفس کو بھی راضی رکھتے ہیں کہ ’ہم نے کون سا مجبور کیا ہے؟‘ انہیں اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دے۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 2، ص 164، 165، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
ردالمحتار میں ہے "ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب" ترجمہ: خلاصہ كے کتاب الھبہ میں ہے: شوہر نے عورت کو مار پیٹ کرنے کی دھمکی کے ذریعے خوف دلایا اور عورت نے مہر معاف کر دیا تو مہر معاف نہ ہوا جبکہ شوہر مار پیٹ کرنے پر قادر ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 4، ص 239، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5076
تاریخ اجراء: 19 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء