رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رضاعی بہن کی سگی بہنوں سے نکاح کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رضاعت میں دودھ پینے والا لڑکا اور لڑکی کا نکاح حرام ہے، تو کیا اس کی دوسری بہنوں سے بھی نکاح حرام ہوگا؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
اگر کسی عورت نے کسی لڑکے کو شرعی مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا تو وہ لڑکا اس عورت کا رضاعی بیٹا بن جائے گا، اور اس عورت کی تمام بیٹیاں اس لڑکے کی رضاعی بہنیں شمار ہوں گی، چاہےان لڑکیوں میں سے کسی نے اس لڑکے کے ساتھ دودھ پیا ہو یا نہیں، چاہے وہ اس لڑکے کے دودھ پینے سے پہلے پیدا ہوئی ہوں، بعد میں پیدا ہوئی ہوں، یا اسی زمانے میں پیدا ہوئی ہوں، بہر صورت اس عورت کی کسی بھی بیٹی سے اس لڑکے کا نکاح جائز نہیں ہوگا۔
البتہ کئی اور صورتیں بھی ہوتی ہیں، آپ کو اگر کوئی مسئلہ حقیقت میں درپیش ہے تو متعین طور پر وہی صورت بتا کر جواب لے لیں۔
دودھ پلانے والی عورت کی تمام لڑکیاں دودھ پینے والے لڑکے کی رضاعی بہن ہوں گی اور نکاح حرام ہوگا، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ’’أن المرضعة تحرم على المرضع؛ لأنها صارت أما له بالرضاع ۔۔۔ وكذا بناتها يحرمن عليه سواء كن من صاحب اللبن أو من غير صاحب اللبن، من تقدم منهن ومن تأخر؛ لأنهن أخواته من الرضاعة وقد قال اللہ عز وجل {وأخواتكم من الرضاعة} أثبت اللہ تعالى الأخوة بين بنات المرضعة وبين المرضع والحرمة بينهما مطلقا من غير فصل بين أخت وأخت‘‘ ملتقطاً۔
ترجمہ: دودھ پلانے والی عورت دودھ پینے والے بچے پر حرام ہوجاتی ہے، کیونکہ دودھ پلانے کی وجہ سے وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی۔۔ ۔ اور اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کی تمام بیٹیاں بھی اس بچے پر حرام ہیں، خواہ وہ بیٹیاں اسی شوہر سے ہوں جس کے سبب دودھ پیدا ہوا تھا، یا کسی دوسرے شوہر سے، اور خواہ وہ بیٹیاں دودھ پلانے سے پہلے پیدا ہوئی ہوں یا بعد میں؛ کیونکہ وہ سب اس بچے کی رضاعی بہنیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور تمہاری وہ بہنیں جو رضاعت کے رشتے سے ہیں (وہ تم پر حرام ہیں)‘‘، لہذا اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے والی عورت کی بیٹیوں اور اس دودھ پینے والے بچے کے درمیان بہن بھائی کا رشتہ قائم فرمایا اور ان کے درمیان نکاح کی حرمت کو مطلق رکھا، کسی ایک بہن اور دوسری بہن کے درمیان فرق کیے بغیر۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، کتاب الرضاع، صفحہ 2، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1293
تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء