نکاح میں چھوہارے لٹانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نکاح پر چھوہارے پھینکنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح پر چھوہارے پھینکنا کیسا ہے؟
جواب
شادی کے موقع پر چھوہارے لٹانا حدیث پا ک سے ثابت سے ہے اور بعض علما ءنے اسے سنت سے بھی تعبیر کیا ہے۔
چنانچہ امام ابوبکربیہقی علیہ الرحمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کرتے ہیں: ’’ان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم تزوج بعض نسائه فنثر عليه التمر“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عورتوں سے نکاح فرمایا تو نکاح کے موقع پر چھوہارے لٹائے گئے۔
دوسری روایت میں ہے: ’’كان النبی صلى اللہ عليه وسلم إذا زوج أو تزوج نثر تمرا“ ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی کا نکاح پڑھاتے یا خود کسی سے نکاح فرماتے تو اس موقع پر چھوہارے لٹاتے۔ (السنن الکبری للبیھقی، ج 7، ص 469،دار الکتب العلمیہ بیروت)
علامہ عبد الروف مناوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”(كان إذا زوج أو تزوج امرأة نثر تمرا) فيه أنه يسن لمن اتخذ وليمة أن ينثر للحاضرين تمرا أو زبيبا أو لوزا أو سكرا أو نحو ذلك“ یعنی جب شادی کرتے یا کسی کا نکاح پڑھاتے تو کھجور یا چھوہارے لٹاتے، اس حدیث میں دلیل ہے کہ جو شخص ولیمہ کی دعوت رکھے وہ حاضرین پر کھجور، کشمش، بادام یا شکر وغیرہ لٹائے۔ (فیض القدیر، 5 / 141)
مبسوط سرخسی میں ہے: ”فجاء أبو يوسف إلى أبي حنيفة - رحمه اللہ - فسأله عن ذلك فقال لا بأس بذلك بلغنا «أن رسول اللہ - صلى اللہ عليه و سلم - مع أصحابه - رضي اللہ عنهم - كان في ملاك رجل من الأنصار نثير الثمر فجعل رسول اللہ - صلى اللہ عليه و سلم - يرفع ذلك و يقول لأصحابه انتهبوا»“ یعنی امام ابو یوسف، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس ( کھجور نچھاور کرنے) کے بارے میں دریافت کیا، تو امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنهم کے ساتھ ایک انصاری صحابی کی شادی کے موقع پر موجود تھے جہاں چھوہارےیا کھجوریں نچھاور کی جا رہی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (نچھاور شدہ چھوہاروں) کو اٹھانے لگے اور اپنے صحابہ سے فرمانے لگے: تم بھی لے لو۔ (مبسوط سرخسی، 30 / 128)
مبسوط سرخسی میں ہے: ”و قال أبو حنيفة لا بأس بنثر السكر و الجوز اللوز في العرس و الختان و أخذ ذلك إذا أذن لك أهله فيه و إنما يكره من ذلك أن يأخذ بغير إذن أهله و به نأخذ و كان ابن أبي ليلى يكره نثر ذلك و أن يؤخذ منه شيء و قد بينا هذا في أول الكتاب و القياس ما ذهب إليه ابن أبي ليلى قال: هذا تمليك من المجهول لأنه لا يدري من يأخذ وأي مقدار يأخذ و التمليك من المجهول باطل. و إذا بطل التمليك كان النثر تضييعا للمال و لكن تركنا هذا القياس بما روينا فيه من الآثار، و في التعامل الظاهر بين الناس أنهم يفعلون ذلك ولم ينقل من أحد أنه تحرز عن نثر ذلك أو عن تحرز أخذه و في الأخذ بطريق القياس في هذا إيقاع الناس في الحرج و قد أمرنا بترك العسر لليسر قال اللہ تعالى {يريد الله بكم اليسر و لا يريد بكم العسر}“
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ شادی اور ختنے کے موقع پر شکر، اخروٹ اور بادام نچھاور کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جب ان کے مالکان اجازت دے دیں تو ان چیزوں کو اٹھانا بھی جائز ہے۔ ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور ممانعت صرف اس صورت میں ہے جب مالکان کی اجازت کے بغیر اٹھایا جائے۔ جبکہ ابن ابی لیلیٰ ان چیزوں کو نچھاور کرنے اور ان میں سے کچھ بھی اٹھانے کو ناپسند کرتے تھے، اور ہم کتاب کے شروع میں اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ قياس کا تقاضا وہی ہے جو ابن ابی لیلیٰ نے اختیار کیا کہ یہ مجهول شخص کو تملیک کرنا یعنی مالک بنانا ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کون اٹھائے گا اور کتنی مقدار میں اٹھائے گا، اور مجهول کو مالک بنانا باطل ہے۔ جب تملیک باطل ٹھہری تو نچھاور کرنا مال کو ضائع کرنے کے مترادف ہوا، لیکن ہم نے اس قياس کو ان احادیث و آثار کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو ہم نے اس سلسلے میں روایت کی ہیں، نیز لوگوں کے باہمی رواج کی وجہ سے بھی کہ لوگ عملاً ایسا کرتے ہیں اور کسی کے بارے میں یہ نقل نہیں ہوا کہ اس نے اس طرح نچھاور کرنے یا اٹھانے سے پرہیز کیا ہو۔ اگر اس معاملے میں قياس پر عمل کیا جائے تو لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے، جبکہ ہمیں تنگی کو چھوڑ کر آسانی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔ (مبسوط سرخسی، 30 / 167)
نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں لُوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں اور یہ حدیث دارقطنی و بیہقی و طحاوی سے مروی ہے۔ (اَحْکَامِ شریعت، باب ملفوظات اعلٰی حضرت، حصہ دوم، ص 249)
نوٹ: فی زمانہ مسجد وں میں نکاح کا رواج ہے، اگر مسجد میں چھوہارے لٹائے جائیں تو مسجد کے آداب پامال ہونے کا قوی اندیشہ ہے لہذا اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ مسجد کے آداب پامال نہ ہوں۔ نیز مسجد میں ہوں یا مسجد سے باہر، بہرصورت کوئی چھوہارا پاؤں میں آکر ضائع نہ ہو اور کسی ایسی جگہ نہ لٹائے جائیں جہاں ان کے نالی میں گرنے، مٹی میں کر کر ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-035
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ / 01 اگست 2026ء