logo logo
AI Search

نکاح کا خطبہ کس طرح دیا جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح کا خطبہ بیٹھ کر دیں یا کھڑے ہوکر؟ نکاح سے پہلے یا بعد میں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح کا خطبہ بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنا ہی ضروری ہے؟ اگر خطبہ کوئی اور پڑھے اور نکاح کوئی دوسرا پڑھائے تو کیا یہ درست ہے؟ نیز کیا نکاح سے پہلے خطبہ دینا لازمی ہے؟ اگر بعد میں دے دیا تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

پوچھے گئے سوالات کے ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:

(۱) دیگر خطبات کی طرح نکاح کا خطبہ بھی کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ قیام سے آواز دور تک پہنچتی ہے اور حاضرین کی توجہ بھی زیادہ رہتی ہے۔ تاہم چونکہ نکاح کا خطبہ ایک نفل خطبہ ہے، اس لیے اسے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے؛ اس لیے کہ نافلہ خطبات بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہیں۔

(۲) اگر ایک شخص خطبہ پڑھے اور دوسرا نکاح پڑھائے یعنی ایجاب و قبول کروائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، شرعاً نکاح ہو جائے گا بشرطیکہ کوئی اور مانع نہ ہو؛ کیونکہ مجلس نکاح میں کسی کا بھی خطبہ پڑھ دینا کافی ہے، اس لیے کہ نکاح کی اصل بنیاد ایجاب و قبول اور اسی مجلس میں حسب شرائط دو گواہوں کا اسے سننا اور سمجھنا ہے، نکاح خواں اور خطیب کا ایک ہونا شرط نہیں، بلکہ فی نفسہ خطبہ بھی نکاح کا رکن یا لازمی جز نہیں۔

(۳) مستحب طریقہ یہی ہے کہ نکاح کا خطبہ ایجاب و قبول سے پہلے پڑھا جائے، پس اگر کوئی شخص نکاح کے بعد خطبہ پڑھتا ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نکاح ہو جائے گا، البتہ ایسا کرنا خلاف اولیٰ ہے۔

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا خطبہ نکاح کا کھڑے ہو کر پڑھنا چاہیے یا بیٹھ کر، اور کس طریقہ سے مسنون ہے؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: اگرچہ خطبہ میں مطلقاً افضل قیام ہے کہ آواز بھی دور پہنچتی ہے اور باعث توجہ حاضرین بھی ہوتا ہے، اور اس امر میں سب خطبے مشترک ہیں، ہاں جو خطبہ سواری پر ہوتا ہے جیسے خطبہ عرفہ، وہاں قیام مرکب قائم مقام قیام راکب ہے، مگر خطبِ نافلہ بیٹھ کر بھی ثابت ہیں۔ ابن جریر عن سماک بن حرب قال سمعت معرورا او ابن معرور التمیمی قال سمعت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ وصعد المنبر قعد دون مقعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بمقعدین فقال اوصیکم بتقوی اللہ و اسمعوا و اطیعوا من ولاہ اللہ تعالی امرکم (ابن جریر نے سماک بن حرب سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: میں نے معرور یا ابن معرور تمیمی سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا جبکہ آپ منبر پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نشست گاہ سے دو سیڑھیاں نیچے تشریف فرما ہوئے تو آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے تقوی کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے امور کے بنائے ہوئے والی کی اطاعت و سمع اختیار کرو۔ (ت)) اور خطبہ نکاح نفل ہی ہے تو بیٹھ کر بھی مضائقہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 222، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: (خطبہ نکاح) کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے اور قبلہ رو ہونا کچھ ضرور نہیں، سامعین کی طرف منہ ہونا چاہیے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، حصہ 3، صفحہ 345، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: يستحب أن يخطب العاقد أو غيره من الحاضرين خطبة واحدة بين يدي العقد“ ترجمہ: مستحب ہے کہ عاقد (نکاح کرنے والا) یا حاضرین میں سے کوئی اور شخص عقد سے پہلے ایک خطبہ دے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 19، صفحہ 189، دار السلاسل، الكويت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نکاح میں ضروری الفاظ ایجاب و قبول ہیں جن سے عقد سمجھا جائے... اور دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں مسلمان عاقل بالغ آزاد ان دونوں کی گفتگو کو معاً سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے، بس اسی قدر ضروری ہے، اس کے سوا خطبہ پڑھنا سنت ہے اور کلمے پڑھانا ایک اچھی بات ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 236، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: خطبہ پڑھا جانا یا ذکر مہر ہونا کچھ شرط نکاح نہیں، وہ مجلس اگر عقد کے لیے تھی عقد ہو گیا . . . الفاظ ایجاب و قبول ہونا اور دو شاہدوں کا سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہا ہے کافی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 259، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں: و يندب إعلانه وتقديم خطبة“ ترجمہ: اور نکاح کا اعلان کرنا اور خطبے کو مقدم کرنا (یعنی پہلے پڑھنا) مستحب ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب النکاح، صفحہ 177، دار الکتب العلمیة، بیروت)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: و ترك المستحب خلاف الأولى دائما“ ترجمہ: اور مستحب کا ترک کرنا ہمیشہ خلافِ اولیٰ ہوتا ہے۔ (منحة الخالق علی البحر الرائق، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيه، جلد 2، صفحہ 35، دار الكتاب الإسلامي)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: نکاح میں یہ امور مستحب ہیں: علانیہ ہونا، نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 5، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1184
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء