logo logo
AI Search

مہر کی رقم کب دینا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مہر کی رقم کس وقت دینا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عورت کو مہر کی رقم کیا شادی کے دن ہی دینا ضروری ہے یا بعد میں بھی دی جاسکتی ہے؟

جواب

مہر کی رقم دینے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ مہر تین قسم کا ہوتا ہے: (1) معجل، (2) مؤجل، (3) غیر مؤجل (مؤخر، مہر مطلق)۔

(1) مہر معجل: یہ وہ مہر ہے، جس کا فورا ادا کرنا قرار پایا ہو، خواہ عقد نکاح میں فورا ادا کرنے کی شرط لگائی گئی ہو، یا عقد نکاح ہوجانے کے بعد لگائی گئی ہو، یا وہاں کا عرف ہو کہ فورا ادا کیا جاتا ہے۔

مہر معجل کا حکم: یہ مہر فوراً واجب الادا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے ادا کرنے سے پہلے شوہر، عورت کو، اس کی اجازت کے بغیر ہاتھ نہیں لگا سکتا، بلکہ رخصت ہی نہیں کرا سکتا۔

(2) مہر مؤ جل: یہ وہ مہر ہے، جس کی ادائیگی کے لیے کوئی وقت مقرر کردیا گیا ہو، مثلا ایک سال بعد ادا کیا جائے گا، یا دس سال بعد وغیرہ۔

مہر موجل کا حکم: مہر کی ادائیگی کا جو وقت مقرر کردیا گیا، اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔

(3) مہر مطلق: یہ وہ مہر ہے کہ، نہ اس کی فورا ادائیگی مقرر ہوئی، اور نہ ادائیگی کے لیے کوئی میعاد اور وقت مقرر ہوا۔

مہر مطلق کا حکم: اس صورت میں عرف کا لحاظ ہوگا، اگروہاں کاعرف یہ ہے کہ عورت جب مطالبہ کرے، ادا کیا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں عورت کے مطالبہ کرنے پرادا کرنا ہوگا، اور اگر یہ عرف ہے کہ میاں، بیوی میں سے کسی وفات کے وقت، یا طلاق کے وقت ادا کیا جاتا ہے، تو اسی وقت ملے گا، اس سے پہلے مطالبہ نہیں ہوسکتا۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سےسوال ہوا: ایک مسئلہ شرعی بتادیجئے، وُہ یہ ہے کہ مہر کب واجب ہو تا ہے، اگرمعجل ہو تو کس وقت؟

تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: مہر معجّل وُہ مہر یا پارہ مہر کا ہے جس کا ادا کرنا فوراً قرار پایا ہو خواہ از رُوئے شرط کہ نفس عقد نکاح میں تعجیل مذکور ہویا عقد کے بعد شرط تعجیل ٹھہری خواہ ازروئے عرف جبکہ وُہ شرط صحیح کے مخالف نہ واقع ہو یہ مہر فوراً واجب الادا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے ادا سے پہلے شوہر عورت کو بے اس کی رضا کے ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ رخصت نہیں کراسکتا، اور مؤجّل وہ جس کے لئے کوئی میعاد معیّن قرار دی گئی ہو مثلاً ایک سال، دس سال، یا جس قدر ٹھہرائیں، یہ اُس وقت واجب الادا ہوگا جب وعدے کا وقت آجائے اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 142، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: اگر (مہر کی) کچھ مدّت مقرر نہ ہُوئی تھی تو وہاں اُس شہر کے عرف وعادت پر عمل ہوگا اگر وہاں کا عرف یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت جب طلب کرے ادا کیا جاتا ہے تو دعوٰی قابلِ سماعت ہے مہر ابھی دلایا جائے، اور اگر عرف یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب مرد و عورت میں کسی کا انتقال ہویا مرد طلاق دے دے اُس وقت مہر کا مطالبہ ہوتا ہے تو اُسی وقت ملے گا اس سے پہلے دعوٰی نہ سُنا جائے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 138، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5087
تاریخ اجراء: 23 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 09 جون 2026ء