حلالہ کرنے والے پر لعنت کا کیا مطلب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احادیث میں حلالہ کرنے والے کو لعنتی قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے احادیث سنی ہیں کہ حلالہ کرنے والے کو لعنتی قرار دیا گیا ہے، اہلسنت کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک میں حلالہ کرتا ہے، تو کیا اسے زنا کی سزا دی جائے گی؟
جواب
اولا یہ بات یاد رہے کہ اگر کسی عورت کو شرعاً تین طلاقیں ہوجائیں، تو میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام، اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی کی طرح ہوجاتے ہیں، اب ان کا اکٹھے رہنا شرعاً جائز نہیں ہوتا، اور عورت کو اختیار ہوتا ہے، کہ وہ بعدِ عدت نکاح کے احکام اور شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کسی اور سے نکاح کرلے، اس حوالے سے مرد عورت کو کسی بھی طرح سے مجبور نہیں کر سکتا۔ ہاں! اگر عورت بعدِ عدت کسی اور سے نکاح کر لیتی ہے، اور اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے، یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تواس کی عدتِ طلاق یا وفات گزارنے کے بعد، وہ عورت اور اس کا پہلا شوہر اگر نیا نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، جبکہ نئے سرے سےشروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں حدود اللہ قائم کرنے، اور ایک دوسرے کے حقوق صحیح طور پر ادا کرنے کا غالب گمان ہو۔ (اسی کو حلالہ کہتے ہیں) اس کے علاوہ وہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے لئےکسی طورپر حلال نہیں ہو سکتی، یہی بات قرآن پاک کی سورہ بقرہ، آیت نمبر230 میں واضح الفاظ میں موجود ہے۔
اور جہاں تک احادیث مبارکہ میں حلالہ کرنے والے پر لعنت ہونے کا معاملہ ہے، تو اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر عقد نکاح میں حلالہ کی شرط ذکر کی گئی، مثلا یوں کہا کہ: میں نے تجھ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ تجھے فلاں کے لیے حلال کردوں۔ یا عورت عقد نکاح میں اس طرح کہے، تو اس صورت میں لعنت والی وعید کا مستحق ہوگا، اور اگر نکاح کرتے ہوئے حلالہ کی شرط نہیں لگائی، صرف دل میں ہی ارادہ ہے، تو اس میں کسی قسم کا حرج اور کوئی گناہ نہیں ہے، اور اس صورت کا زنا سے بھی کوئی تعلق نہیں، لہذا اس صورت میں زنا کی سزا بھی نہیں ملے گی۔
نوٹ: یہ تاویل کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ حدیث پاک کے جوعمومی الفاظ ہیں کہ حلال کرنے والاملعون ہے، اس کے مطابق تو پھر عورت کا کسی سے بھی، اور کسی صورت میں بھی نکاح نہیں ہوسکتا، بہر صورت نکاح کرنے والا، ملعون ٹھہرے گا، حالانکہ یہ عموم کسی کے نزدیک بھی مراد نہیں ہے، پس واضح ہوا کہ حدیث پاک میں کوئی قید لگانی ہوگی کہ جس کی وجہ سے یہ عموم ختم ہو، تووہ قید یہی ہے کہ عقد نکاح کرتے وقت حلال کرنے کی شرط لگائے، فقط دل میں نیت ہونا کافی نہیں، کیونکہ نکاح کے اس طرح کے معاملے میں دل کی نیت پر دار و مدار نہیں ہے، مثلا کسی کے دل میں یہ نیت ہے کہ عورت کےساتھ فقط دو دن کے لیے نکاح کر رہا ہوں، تو فقط نیت سے نکاح موقت نہیں بنے گا، جب تک کہ عقد نکاح میں وقت کی قید نہ لگائے، پس یہی معاملہ یہاں بھی ہوگا۔
تین طلاقیں ہو جانے کے بعد دوبارہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنے کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ- فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-﴾ ترجمۂ کنز العرفان: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہر اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لَوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ (اب) اللہ کی حدوں کو قائم رکھ لیں گے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، الآیۃ 230)
دوسرے شوہر سے نکاح سے مراد اس کے ساتھ ہمبستری کرنا ہے، چنانچہ اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خازن، تفسیر روح المعانی، تفسیر طبری، بحر العلوم، تفسیر قرطبی، تفسیر نسفی، تفسیر جلالین، حاشیہ صاوی علی الجلالین، فتح الرحمٰن فی تفسیر القرآن وغیرہ کثیر تفاسیر میں ہے: (و النظم للاول) مذهب جمهور العلماء أن المطلقة بالثلاث لا تحل للزوج المطلقة منه بالثلاث إلا بشرائط، و هي أن تعتد منه ثم تتزوج بزوج آخر و يطأها، ثم يطلقها، ثم تعتد منه، فإذا حصلت هذه الشرائط فقد حلت للأول و إلا فلا‘‘ ترجمہ: جمہور علماء کرام کا یہ مؤقف ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہوں وہ اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی جس نے اسے تین طلاقیں دی ہیں مگر چند شرائط کے ساتھ اور وہ یہ ہیں کہ وہ عورت اس طلاق کی عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا شوہر ہمبستری کرنے کے بعد اسے طلاق دے، پھر وہ عورت اس طلاق کی عدت گزارے، جب یہ ساری شرائط پائی جائیں گی تو وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی ورنہ نہیں۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 164، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
تین طلاقوں کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کے متعلق بخاری شریف میں حضرت نافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو آپ نے فرمایا: لو طلقت مرۃ أو مرتین، فإن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أمرنی بھذا، فإن طلقتھا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجاً غیرک. ترجمہ: اگر تو نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوتیں (تو رجوع ہوسکتا تھا)، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگر تو نے تین طلاقیں دی ہیں تو وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی جب تک وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کر لے۔ (صحیح البخاری، رقم: 5264، ص 989،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح بخاری شریف میں ہے: عن عائشۃ ان رجلاً طلّق امراتہ ثلاثاً، فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم اتحل للاول؟ قال: لا، حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول“ ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پس اس عورت نے دوسری شادی کی، تو اس دوسرے شوہر نے (ہمبستری سے پہلے) طلاق دے دی۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی ہے؟ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے (یعنی ہمبستری کر لے)، جیسے پہلے شوہر نے چکھی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 5261، ص 988، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح کی حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: عن عائشة قال: العسيلة هي الجماع“ ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عسیلہ سے مراد ہمبستری کرنا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 20، صفحہ 236، دار إحياء التراث العربي)
فتاوی ہندیہ میں ہے: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا‘‘ ترجمہ: اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں اور باندی کو دو طلاقیں واقع ہوجائیں تو وہ شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے اور وہ دوسرا شوہر اس سے دخول کرے پھر اسے طلاق دے یا فوت ہوجائے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 473، مطبوعہ کوئٹہ)
حلالے سے متعلق حدیث پاک میں ہے ”أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: لعن المحل و المحلل له“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت ہے۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 2076، ص 332، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
صاحب مرقاۃ المفاتیح علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی: 1014ھ) اسی طرح کی حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: و اعلم أنه استدل بهذا الحديث في الفروع على كراهة اشتراط التحليل بالقول، فقالوا: إذا تزوجها بشرط التحليل بأن يقول: تزوجتك على أن أحللك له، أو تقول: هي، فمكروه كراهة تحريم المنتهضة سببا للعقاب للحديث المذكور، و قالوا: و لو نويا اشتراط التحليل و لم يقولا يكون الرجل مأجورا لقصد الإصلاح ۔ ۔ ۔ في الهداية: والمحلل الشارط هو محمل الحديث لأن عمومه و هو المحلل مطلقا غير مراد إجماعا، والا شمل المتزوج تزويج رغبة
ترجمہ: جان لے کہ اس حدیث پاک سے فروعات میں اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ الفاظ کے ساتھ حلالہ کی شرط لگانا مکروہ ہے، فقہاے کرام نے فرمایا: جب کوئی حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرے بایں طور کہ یوں کہے :میں نےتجھ سے اس شرط پر نکاح کیاکہ میں تجھے پہلے شوہر کے لیے حلال کروں، یا عورت اس طرح کی شرط لگا دے، تو یہ صورت مکروہ تحریمی ہے، جو حدیث پاک میں مذکور سزا کا سبب ہے۔ اور فقہا نے فرمایا: اگر دونوں حلالہ کی شرط کی نیت کرلیں لیکن (بوقت عقد) الفاظ کے ساتھ شرط نہ لگائیں، تو اس صورت میں اس حلالہ کرنے والے مرد کو اصلاح کے ارادے کی وجہ سے ثواب ملے گا ۔ ہدایہ میں ہے: شرط لگانے والا مُحلِّل ہی حدیث کا محمل ہے، کیونکہ حدیث کا عموم، یعنی ہر قسم کا مُحلِّل، بالاجماع مراد نہیں؛وگرنہ وہ شخص بھی وعید میں شامل ہو جائے گا، جو رغبت کے طور پر نکاح کرے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج 6، ص 405، 406، مطبوعہ:کوئٹہ)
درمختارمیں ہے(کرہ) التزوج للثانی (تحریما) لحدیث لعن اللہ المحلل و المحلل لہ (بشرط التحلیل) کتزوجتك علی ان احللک ۔ ۔ ۔ (اما اذا اضمرا ذلك لا) یکرہ (و کان) الرجل (ماجورا) لقصد الاصلاح“ ترجمہ: حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا مثلاً میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے (پہلے شوہر) کے لئے حلال کردوں گا، دوسرے شخص کے لئے مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عزوجل نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے، اور اگر دونوں نے دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں اور دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کا مستحق ہوگا۔ (درمختار مع رد المحتار،ج 5، ص 51، 52، مطبوعہ کوئٹہ)
بحر الرائق میں ہے ”و لو تزوجها و في نيته أن يقعد معها مدة نواها فالنكاح صحيح؛ لأن التوقيت إنما يكون باللفظ“ ترجمہ: اور اگر وہ اس عورت سے نکاح کرے اوراس کی نیت یہ ہو کہ وہ اس کے ساتھ ایک مدت تک رہے گا جسے اس نے اپنے دل میں مقرر کر رکھا ہو، تو نکاح صحیح ہے؛ کیونکہ وقت کی حدبندی صرف لفظ کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ (بحر الرائق، ج 3، ص 190، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز، شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز و گناہ ہے اور حدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 409، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: نکاح بشرط التحلیل (حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد نکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے، زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیے حلال ہوجائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 8، ص 180، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5112
تاریخ اجراء: 27 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 13 جون 2026ء