logo logo
AI Search

مضاربت میں انویسٹ کرنے والے کا کام کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی کو کاروبار کے لیے رقم دے کر ساتھ خود کام کرنے کی آفر دینا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے ایک شاگرد کو مضاربت کے طور پر مال دیا اور عقد مضاربت میں طے یہی ہوا تھا کہ کام مضارب کرے گا، میرے یعنی رب المال کے کام کی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔ تمام رقم اس کے حوالے کر دی تھی، جس سے تمام خریداری بھی اس نے کر لی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ کا م صحیح نہیں کر پا رہا تو میں نے اسے آفر کی کہ میں بھی روزانہ کچھ نہ کچھ وقت کام میں تمہاری معاونت کر دیا کروں گا، جس پر وہ راضی ہو گیا، لہذا اب میں کافی عرصہ سے کام میں معاونت کر رہا ہوں۔ اب ذہن میں شبہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ غلط نہ ہو رہا ہو کیونکہ مضاربت میں کام مضارب کے ذمہ پر ہوتا ہے۔

نوٹ: سائل نے وضاحت کی کہ میری طرف سے کام میں معاونت مفت فراہم کی جاری ہے۔

جواب

عقد مضاربت میں رب المال یعنی جس کی جانب سے سرمایہ ہو، اس پر وقت عقد ہی کام میں معاونت کی شرط رکھی جائے تو جائز نہیں ہے اور مضاربت درست نہیں ہوگی۔ اگر عقد کے وقت رب المال کے کام کی شرط نہ رکھی گئی ہو اور سرمایہ مضارب کے حوالے کر دیا گیا ہو، بعد میں کسی وجہ سے مضارب کی اجازت سے رب المال بھی کام میں مفت یا اجرت کی شرط کے ساتھ معاونت کر نے لگے تو جائز ہے، اس سے مضاربت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ اجرت کی شرط باطل ہوگی یعنی رب المال  نے مضارب سے چاہے طے بھی کر لیا ہو کہ طے شدہ نفع کے علاوہ، کام میں معاونت فراہم کرنے کی علیحدہ سے اجرت لوں گا، تب بھی رب المال کی یہ معاونت مفت ہی شمار ہوگی اور اسے صرف طے شدہ نفع ملے گا۔

اس تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت میں عقد مضاربت کے وقت جب آپ پر کام کی شرط نہیں رکھی گئی تھی، بلکہ طے یہی ہوا تھا کہ کام مضارب کرے گا، پھر کسی وجہ سے مضارب کی اجازت سے آپ نے کام میں مفت معاونت شروع کر دی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جائز ہے اور مضاربت درست طور پر برقرار ہے اور آپ دونوں کے درمیان نفع طے شدہ مقدار کے مطابق تقسیم ہوگا۔

تنویر الابصار میں ہے: "(المضاربۃ لا تفسد بدفع کل المال او بعضہ الی المالک بضاعۃ)۔ملخصا" سارا یا بعض مال مالک کو بطور بضاعت دینے سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی ۔" (تنویر الابصار مع رد المحتار، ج 8، ص 515، مطبوعہ کوئٹہ)

بدائع الصنائع میں ہے: "ولو سلم راس المال الی رب المال ولم یشترط عملہ ثم استعان بہ علی العمل او دفع الیہ المال بضاعۃ جاز لان الاستعانۃ بہ لا توجب خروج المال عن یدہ" اگر مضارب نے رب المال کو راس المال (سرمایہ) سپرد کیا لیکن رب المال کے عمل کی شرط نہ رکھی پھر رب المال نے خود کام میں مدد کی یا رب المال کو مضارب نے بطور بضاعت مال دے دیا تو یہ جائز ہے کیونکہ اس صورت میں (رب المال کا) مدد کرنا مضارب کے قبضے سے مال خارج ہونے کو ثابت نہیں کرتا۔ (بدائع الصنائع ، ج 8، ص 22، مطبوعہ کوئٹہ)

کنز و بحر الرائق میں ہے: "(ولا تفسد المضاربة بدفع المال إلى المالك بضاعة) لأن رب المال معين للمضارب في إقامة العمل والمال في يده على سبيل البضاعة۔ وأشار بالدفع إلى أن المضارب لا بد أن يسلم المال أولا حتى لو جعل المال بضاعة قبل أن يتسلمه لا يصح لأن التسليم شرط فيها كما لو شرط عمل رب المال ابتداء ملخصا"۔ مالک کو بطور بضاعت مال دینے سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی کیونکہ رب المال عمل قائم کرنے میں مضارب کا مددگار ہوگا اور اس کے قبضے میں مال بضاعت کے طور پر ہوگا، لفظ "دفع" سے ماتن نے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ ضروری ہے کہ مضارب پہلے (رب المال کو) مال سپرد کرے حتی کہ سپردگی سے پہلے اسے اگر بضاعت کے طور پر قرار دیا تو درست نہیں کیونکہ اس میں سپرد کرنا شرط ہے جیسا کہ ابتداءً رب المال کے عمل کی شرط کی (تو درست نہیں ہے)۔ (کنز مع بحر الرائق ، ج 7، ص 457، مطبوعہ کوئٹہ)

مضارب کے رب المال کو کام پر اجیر کرنے کے حوالے سے مبسوط سرخسی میں ہے: "المضارب لو ‌استأجر ‌رب ‌المال أن يشتري له ويبيع بعشرة دراهم في الشهر فاشترى له فربح، أو وضع كان ما صنع من ذلك جائزا على المضارب ولا أجر له؛ لأنه عامل في مال نفسه، فلا يستوجب على عمله أجرا بالشرط، وبه تبين الفرق بينه وبين الأجنبي مضارب نے اگر رب المال کو اپنے لیے خرید و فروخت کرنے پر ایک مہینے میں دس درہم کے بدلے اجیر کر لیا، اس نے مضارب کے لیے خریدا، پھر اسے نفع یا نقصان ہوا تو جو بھی کام ہوا وہ مضارب کے لیے جائز ہو جائے گا اور رب المال کے لیے کوئی اجرت نہیں ہوگی کیونکہ وہ اپنے مال میں ہی کام کر رہا ہے لہذا شرط کے ساتھ اپنے عمل پر اجرت کا مستحق نہیں ہوگا، اسی سے رب المال اور اجنبی میں فرق واضح ہو گیا۔ (المبسوط للسرخسی، ج 8، ص 83، مطبوعہ بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Mul-519
تاریخ اجراء: 06 ربیع الثانی 1444 ھ/02 نومبر 2022ء