logo logo
AI Search

کیا مضارب مال مضاربت خرید سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مضارب کا مال مضاربت خریدنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے خالد کو پانچ لاکھ روپے بطور مضاربت دئیے کہ اس سے پلاٹ خرید کر بیچو، نفع دونوں میں ففٹی ففٹی ہوگا، چنانچہ خالد نے پانچ لاکھ کا پلاٹ خرید لیا، ابھی اسے بیچا نہیں کہ اس کی قیمت ڈبل ہو گئی ہے یعنی وہ دس لاکھ کا ہو گیا ہے، اب خالد، زید سے کہتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ یعنی پانچ لاکھ اور جتنا تمہارا اس میں پرافٹ ہے یعنی اڑھائی لاکھ، اور ٹوٹل ساڑھے سات لاکھ میں تمہیں دے دیتا ہوں، تم یہ پلاٹ مجھے دے دو۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا خالد اس طریقے سے یہ پلاٹ زید سے لے سکتا ہے؟

جواب

جی ہاں صورت مسئولہ میں زید کا اصل سرمایہ اور زید کا جتنا پرافٹ بنتا ہے وہ، زید کو ادا کر کے خالد یہ پلاٹ اپنے لیے لے سکتا ہے۔ المبسوط للسرخسی میں ہے "وإذا اشترى المضارب بمال المضاربة متاعا، وفيه فضل أو لا فضل فيه، فأراد المضارب أن يمسكه حتى يجد به ربحا كثيرا، وأراد رب المال أن يبيعه فإن كان لا فضل فيه، أجبر المضارب على أن يبيعه، أو يعطيه رب المال برأس ماله؛ لأنه لا حق للمضارب في المال في الحال، فهو يريد أن يحول بين رب المال، وبين ماله بحق موهوم عسى يحصل له وعسى لا يحصل، وفيه إضرار برب المال، والضرر مدفوع وإن كان فيه فضل، وكان رأس المال ألفا، والمتاع يساوي ألفين، فالمضارب يجبر على بيعه؛ لأن في تأخيره حيلولة بين رب المال، وبين ماله، وهو لم يرض بذلك حين عاقده عقد المضاربة، إلا أن للمضارب هنا أن يعطي رب المال ثلاثة أرباع المتاع برأس ماله، وحصته من الربح، ويمسك ربع المتاع، وحصته من الربح۔"

ترجمہ: اور جب مضارب مال مضاربت کے بدلے سامان خریدے اور اس میں نفع ہو یا کوئی نفع نہ ہو، تو مضارب اس کو روکنا چاہے جب تک اس میں کثیر نفع نہ پائے اور رب المال اسے بیچنا چاہے تو اگر اس میں کوئی نفع نہیں ہے تو مضارب کو مجبور کیا جائے گا کہ اسے بیچے یا رب المال کو یہ چیز راس المال کی صورت میں دے دے (یعنی اس کی قیمت رب المال کو دے دے) کیونکہ فی الحال مال میں مضارب کا کوئی حق نہیں ہے تو وہ رب المال اور اس کے مال کے درمیان ایسے موہوم حق کے بدلے حائل ہونا چاہتا ہے جو حاصل ہو بھی سکتا ہے اور حاصل نہیں بھی ہو سکتا ہے اور اس میں رب المال کو ضرر پہنچانا ہے اور ضرر مدفوع ہے۔ اور اگر اس میں نفع ہو اور راس المال ایک ہزار ہو اور سامان دو ہزار کے برابر ہو تو مضارب کو اس کے بیچنے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ اس کی تاخیر میں رب المال اور اس کے مال کے درمیان حائل ہونا ہے اور وہ اس پر راضی نہیں تھا جب اس نے اس کے ساتھ عقد مضاربت کیا تھا مگر یہ کہ اس صورت میں مضارب، رب المال کو سامان کی تین چوتھائی، راس المال اور نفع میں جتنا اس کا حصہ ہے اس صورت میں دے دے، اور سامان کا چوتھا حصہ اور نفع میں جتنا اس کا حصہ ہے، وہ روک لے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب المضاربت، ج 22، ص 68، مطبوعہ بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے ''وإذا اشتری المضارب بالمال متاعا ثم قال المضارب أنا أمسکہ حتی أجد ربحا کثیرا وأراد رب المال بیعہ فہذا علی وجہین إما أن یکون فی مال المضاربۃ فضل بأن کان رأس المال ألفا واشتری بہ متاعا یساوی ألفین أو لم یکن فی مال المضاربۃ فضل بأن کان اشتری بہ متاعا یساوی ألفا ففی الوجہین جمیعا لم یکن للمضارب حق إمساک المتاع من غیر رضا رب المال إلا أن یعطی رب المال رأس المال إن لم یکن فیہ فضل، أو رأس المال وحصتہ من الربح إن کان فیہ فضل فحینئذ لہ حق إمساکہ''

ترجمہ: اور جب مضارب مال کے بدلے سامان خرید لے پھر مضارب کہے کہ جب تک کثیر نفع نہیں حاصل ہوجاتا اس وقت تک میں اسے روکے رکھوں گا اور رب المال بیچنا چاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں یا تو مالِ مضاربت میں نفع ہوا ہوگا یوں کہ راس المال ہزار تھا اور اس سے سامان خریدا جو دو ہزار کے برابر ہے یا مالِ مضاربت میں کوئی نفع نہیں ہوا ہوگا یوں کہ اس نے مال کے بدلے ایسا سامان خریدا جو ہزار ہی کے برابر ہے، تو دونوں صورتوں میں مضارب کو رب المال کی رضا کے بغیر سامان روکنے کا حق نہیں مگر اس صورت میں روک سکتا ہے کہ اگر اضافہ نہیں ہوا تو رب المال کو راس المال دے دے یا اگر اضافہ ہوا ہے تو راس المال اور نفع میں جتنا اس کا حصہ بنتا ہے وہ اسے دے دے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب المضاربۃ، الباب الرابع، ج 4، ص 295، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10766

تاریخ اجراء: 15 ذو الحجۃ 1442ھ/26 جولائی 2021ء