logo logo
AI Search

میسج سلام کا جواب لکھ کر دینا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا ٹیکسٹ میسج کے سلام کا جواب لکھ کر دینا لازم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی کو ٹیکسٹ میسج کے ذریعے عربی یا اردو رسم الخط میں السلام علیکم لکھ کر بھیجے، تو کیا اس کا تحریری طور پر و علیکم السلام لکھ کر جواب دینا شرعاً لازم ہے؟

جواب

تحریری موصول ہونے والے سلام کا جواب تحریری طور پر لکھ کر ہی دینا واجب نہیں، بلکہ زبانی بھی دیا جاسکتا ہے،اس سے بھی جواب دینے کا واجب ادا ہوجائے گا۔ لیکن فوراً دیا جائے کہ سلام کے جواب میں تاخیر کی اجازت نہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ جیسے ہی کسی کا سلام موصول ہو، تو فوراً زبان سے سلام کا جواب دیدے، تاکہ تاخیر کی وجہ سے گنہگار بھی نہ ہو اور پھر ٹیکسٹ میسج کا جواب دیتے ہوئے بھی سلام کا جواب دے دینا چاہیے، تاکہ وہ شخص کسی بدگمانی کا شکار بھی نہ ہو۔

نوٹ: جس طرح بالمشافہ کیے گئے سلام میں بھی صرف سلام تحیت (یعنی جو بنیادی طورپر زیارت و ملاقات کے لیے آنے والا کرے، اپنے کسی اور کام کے لیے نہ آیا ہو) کا جواب دینا لازم ہوتا ہے، اسی طرح تحریری سلام کا جواب لازم ہونے کے لیے بھی سلامِ تحیت ہونا ضروری ہے، سلامِ تحیت کے علاوہ سلام کا جواب دینے نہ دینے کا اختیار ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء