logo logo
AI Search

کعبے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے اور طواف کرنے کی حکمت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے اور اس کا طواف کرنے کی وجہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ سوال یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ بتوں کی پوجا کرنا کفر ہے تو ہم بھی کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے پھیرے کرتے ہیں ارد گرد گھومتے ہیں تو یہ کفر کیوں نہیں حالانکہ یہ بھی پتھر ہے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ اعتراض در حقیقت مسلمانوں کی عبادت (طواف کرنا) کی حقیقت، اور قبلے کے تعین کی حیثیت کو نہ جاننے کی وجہ سے ہے۔ مشرکین پتھروں کو معبود سمجھتے ہیں، اور ان کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہیں، جبکہ ایک مسلمان نہ تو کعبے کو معبود سمجھتا ہے اورنہ کعبے کو سجدہ کرتا ہے، اور نہ اس کی عبادت کرتا ہے، وہ ہمیشہ عبادت صرف اور صرف اللہ تعالی ہی کی کرتا ہے، اور اسی کو معبود بر حق سمجھتا ہے، تاہم عبادت کیلئے کعبہ شریف کو ایک قبلے کی حیثیت سے اللہ تعالی ہی کی طرف سے متعین کیا گیا ہے، جس کی حکمت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو ان کے زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود ایک سمت کی طرف متوجہ کیا جائے، اگر نماز میں ایک خاص سمت مقرر نہ ہوتی، تو کوئی کسی طرف رخ کرکے کھڑا ہوجاتا، اورکوئی کسی طرف، یہ اختلاف ہوتا رہتا، اس خاص سمت کو مقرر کرنے نے اس ا ختلاف کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔

مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1421ھ) سے سوال ہوا غیرمسلم کا قول وفعل سے اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی مورتی کو سامنے رکھ کر ایک ذات کی پوجا کرتے ہیں، ایک واحد شکتی کو یاد کرتے ہیں جیسا کہ آپ لوگ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں گویا خانہ کعبہ کو سامنے رکھتے ہیں؟ مکمل جواب دیا جائے

تو آپ علیہ الرحمۃنے ارشاد فرمایا: ہندوؤں کا اعتراض لغو ہے۔ ہندو مورتی کو معبود اعتقاد کر کے اس کی پوجا کرتے ہیں، مسلمان کعبہ کو معبود نہیں جانتا، نہ اس کی پرستش کرتا، معبود صرف اللہ عز و جل کو جانتا ہے۔ اسی کی عبادت کرتا ہے، چوں کہ اس نے کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز کا حکم دیا ہے اس لیے کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ:272، مطبوعہ: برکات المدینۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5100
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء