طلبہ کے جمع کردہ موبائلز میں خرابی کی ذمہ دار کس کی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طلبہ کے جمع کردہ موبائلز میں خرابی آ جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہاسٹل اور مدارس میں یہ قانون لگایا جاتا ہے، کہ تمام طلبہ اپنا موبائل جمع کروائیں، اس شرط پر کہ اگر موبائل ٹوٹے، یا خراب ہو، اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا، جبکہ طلبہ اس شرط پر راضی نہ ہونے کے باوجود جمع کروا دیتے ہیں، اب اس صورت میں اگر موبائل خراب ہو، یا ٹوٹے، تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
جواب
بیان کی گئی صورت میں مدرسے یا ہاسٹل کا ناظم، جس کے پاس موبائل فونز وغیرہ جمع رہیں گے، اس کی شرعی حیثیت امین کی ہے، اور امین کے پا س کوئی چیز امانت رکھوائی جائے، اور اس کی طرف سے کوئی تعدی و زیادتی نہ ہو، تو پھر اس پر تاوان لازم نہیں ہوتا، ورنہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگرچہ انتظامیہ کی طرف سے یہ شرط لگا بھی دی جائے، کہ ہماری ذمہ داری نہیں، تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اس کی حفاظت میں انتظامیہ کی کوتاہی ثابت ہو جائے، تو اس پر تاوان لازم ہوگا۔
در مختار میں ہے "أمانة لا تضمن إلا بالتعدي" ترجمہ: بلاتعدی امانت کے ہلاک ہونے پر ضمان لازم نہیں آتا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 431، مطبوعہ : کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”لاضمان علی الامین الا بالتعدی“ ترجمہ: امین پر صرف تعدی ہی سے ضمان لازم ہوتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 154، رضا فاونڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ”دوسرے شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر مقرر کر دینے کو ایداع کہتے ہیں اور اُس مال کو ودیعت کہتے ہیں جس کو عام طور پر امانت کہا جاتا ہے جس کی چیز ہے اُسے مودِع اور جس کی حفاظت میں دی گئی اُسے مودَع کہتے ہیں۔۔۔ ودیعت کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز مودَع کے پاس امانت ہوتی ہے اُس کی حفاظت مودَع پر واجب ہوتی ہے اور مالک کے طلب کرنے پر دینا واجب ہوتا ہے۔ ودیعت کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ودیعت ہلاک ہو جائے تو اس کا ضمان واجب نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 03، حصہ 14، صفحہ 31، 32، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
"الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ" میں ہے "قال الحنفية والشافعية والحنابلة، وهو أحد وجهين عند المالكية: إن شرط نفي الضمان فيما يجب ضمانه لا يسقطه" ترجمہ: حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ نے فرمایا، اور یہی مالکیہ کا بھی ایک موقف ہے کہ جہاں تاوان لازم ہوتا ہو، وہاں تاوان کی نفی کی شرط لگانے سے تاوان ساقط نہیں ہوتا۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، ج 05، ص 190، الکویت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5077
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء