میت نے فدیہ کی وصیت نہ کی ہو تو فدیہ کسے دیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرحوم نے فدیہ کی وصیت نہ کی ہو تو فدیہ دینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر میت نے وصیت نہ کی ہو اور ولی اس کی نمازوں، روزوں کا فدیہ دینا چاہے، تو کیا دے سکتا ہے اور اگر دے سکتا ہے، تو کیا شرعی فقیر کو دینا ضروری ہے،یا کسی بھی فرد کو (خواہ وہ غنی ہو یا میت کے اصول و فروع میں سے ہویا ہاشمی ہو، ان) کو دے سکتا ہے؟
جواب
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمے قضا نمازیں اور روزے ہوں اور اس نے ان کا فدیہ ادا کرنے کے متعلق وصیت بھی نہ کی ہو، یا مال ہی نہ چھوڑا ہو کہ جس کے متعلق وصیت کرتا، لیکن ورثا اس کی طرف سے فدیہ ادا کرنا چاہیں، تو ان کا ایسا کرنا بلا شبہ جائز، بلکہ باعث ثواب اور اس کے ساتھ بہت بڑی خیرخواہی اور عمدہ نیکی ہے۔ ایسی صورت میں فدیہ کس کو دیاجائے گا؟ تو قوانینِ شرعیہ اور عباراتِ فقہاء سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فدیہ کے مَصرف کے معاملے میں وصیت و عدم وصیت دونوں صورتیں برابر ہیں، یعنی جس طرح میت نے وصیت کی ہو، تو اس کی نمازوں، روزوں کا فدیہ مستحق زکوۃ شخص (یعنی غیر ہاشمی، شرعی فقیر کہ جو میت کے اصول و فروع میں سےنہ ہو، اس) کو ہی دیا جا سکتا ہے، اسی طرح جب میت نے وصیت نہ کی ہو، تب بھی خاص ایسے شرعی فقیر کوہی دینا ضروری ہے، لہٰذا غنی، میت کے اُصول و فروع اور ہاشمی کو فدیہ نہیں دے سکتے۔
تفصیل: اس صورت میں وصیت اور عدم وصیت کا حکم برابر ہونے کی درج ذیل چند وجوہات ہیں،
(1) مطلق اصول؛ فقہائے کرام نے مطلقاًیعنی میت کی طرف سے وصیت و عدمِ وصیت دونوں صورتوں میں شرعی فقیر کو ہی کفارہ دینے کا حکم بیان کیا ہے۔ (جیساکہ علامہ شامی علیہ الرحمۃنے صراحت کی)۔
(2) فقہی تصریحات؛ جہاں بطورِ خاص عدم وصیت کی صورت ذکر کی، وہاں بھی ولی کے لیے تبرع کا حکم بیان کرنے کے باوجود شرعی فقیر کو کفارہ دینے کی صراحت کی۔ (مزید تفصیل نیچے جزئیات کے ساتھ ملاحظہ کیجیے۔)
(3) فقہی نظیر؛ جہاں مالی عبادات اور کفارات (مثلاً؛زکوۃ، صدقہ فطر، قسم اور منت کے کفارے) کے فدیے کے متعلق یہ فرمایاکہ اگر فوت ہونے والے نے ادائیگی کی وصیت نہ کی ہو،تو ورثا بطور تبرع بھی ادا کرسکتے ہیں، وہاں ان کی ادائیگی کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ فقیر یا مسکین کو دئیے جائیں۔ فقیر اور مسکین کی قید کے ساتھ ذکر کرنا اس بات کی طرف مشعر ہے کہ ولی اگر بطور تبرع بھی دے گا، تو مصارف وہی رہیں گے،جو زندگی میں ادا کرتے وقت ملحوظ ہوتے ہیں، لہٰذا جس طرح زکوٰۃ وغیرہ صدقات واجبہ کے کفارے میں شرعی فقیر کو دینا لازم ہے، یونہی نماز، روزہ کے فدیے میں بھی اسی کو دینا لازم ہوگا۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جس طرح دیگر صدقاتِ واجبہ(زکوۃ ،صدقہ فطر،منت ،وغیرہا) اپنے اُصول (ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اوپر تک آباء و اجداد) و فروع(بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں نیچے تک اولاد) میں سے کسی کو نہیں دے سکتے، نہ ہی ہاشمی کو دے سکتے ہیں، اسی طرح نماز، روزے کا فدیہ بھی میت کے اصول و فروع اور ہاشمی کو نہیں دے سکتے، خواہ فوت ہونے والے نے وصیت کی ہو، یا نہ کی ہو۔
بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجیے؛
فوت ہونے والے نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو،تب بھی ورثا اس کا فدیہ ادا کرسکتے ہیں، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری اور عامۂ کتب فقہ میں ہے: و في فتاوى الحجة و إن لم يوص لورثته و تبرع بعض الورثة يجوز" ترجمہ: اور فتاوی حجۃ میں ہے کہ اگر اس نے اپنے وارثوں کو وصیت نہیں کی اور بعض ورثا نے تبرعاً فدیہ دے دیا، تو جائز ہے۔ (الفتاویٰ الھندیہ، جلد 1، صفحہ 125، مطبوعہ کوئٹہ)
فقہائے کرام نے مطلقاً یعنی میت کی طرف سے وصیت و عدمِ وصیت دونوں صورتوں میں شرعی فقیر کو فدیہ دینے کی صراحت فرمائی، علامہ شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نےکفارہ، فدیہ اور حیلہ اسقاط کے متعلق مکمل رسالہ منۃ الجلیل لبیان اسقاط علی الذمۃ من کثیر و قلیل تحریر کیا اور اس میں اولاً فدیہ کے متعلق وصیت و عدم وصیت دونوں کا ذکر کیا، پھر ان کا ایک ہی حکم بیان کیا، چنانچہ لکھتے ہیں: بیان الاسقاط و الکفارۃ و الفدیۃ، و کونہ بوصیۃ من الشخص اولیٰ من ان یفعلہ عنہ وارثہ تبرعاً وھو یجری فی الصلاۃ، و الواجب فیھا ان یعطی للفقیر عن کل فرض نصف صاع من بر … الی غیر ذالک مما ذکر فی باب الفطرۃ" ترجمہ: اسقاط،کفارہ اور فدیہ کا بیان: اور ورثا کے تبرعاً فدیہ ادا کرنے سے بہتر یہ ہے کہ کوئی بھی شخص فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے، فدیہ کا یہ حکم نماز کے متعلق بھی ہے اور فدیہ ادا کرنے میں واجب یہ ہےکہ فقیر کو ہر فرض کے بدلے نصف صاع گندم دی جائے یا دیگر چیزیں جو فطرہ کے باب میں بیان کی جاتی ہیں۔ (رسائل ابن عابدین، رسالة:منۃ الجلیل، جلد 1، صفحہ 210، سہیل اکیڈمی، لاہور)
اسی طرح علامہ حافظ الدین محمد بن محمد بزّازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 827ھ) نے بھی فتاوی بزازیہ میں بیان کیا۔ (الفتاوی البزازیۃ علی حاشیۃ الھندیہ، التاسع عشرفی الفوائت، جلد 4، صفحہ 69، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) نے بھی فتاوی بزازیہ کے جزئیے کو اپنے رسالہ تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصلاۃ و الصیام میں نقل کر کے برقرار رکھا۔
مفتی اعظم ہند، مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1402ھ / 1981ء) سے فتاوی مصطفویہ میں فدیہ کی ادائیگی کے معاملے میں دو مختلف رائج طریقوں کے متعلق سوال ہوا، دونوں سوال جواب ملاحظہ کیجیے۔
پہلے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ علاقے میں رواج ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے، تو وہاں حیلہ اسقاط کا طریقہ یہ اپنایا جاتا ہے کہ چند قرآن کریم جن کا ہدیہ 8 آنے سے زیادہ نہیں ہوتا اور نہایت بوسیدہ ہوتے ہیں، کسی نے اسی غرض سے رکھےہوتے ہیں ،میت کے ورثا خریدکر مستحق و غیر مستحق کا لحاظ کیے بغیر مسجد کے امام کو دیتے ہیں، امام صاحب لے کر طاق میں رکھ لیتے ہیں، پھر جب کوئی فوت ہوتا ہے، تو یہی عمل دہرایا جاتا ہے،یوں انہی قرآن کریم کے بدلے میں امام صاحب رقم لیتے رہتے ہیں، تو ان کا ایسا کرنا اور یوں اسقاط کا عمل کرنا کیسا؟
تو اس کے جواب میں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: یہ رواج برا ہے۔ بازار بھاؤ سے جو کاغذ کی قیمت ہو گی وہی اسقاط کے حساب میں آئے گی، وہ بھی اس وقت جب کہ مستحق کو پہنچے اور اگر اسقاط میں وہ قرآن عظیم نہیں دئیے جاتے، بلکہ یوہیں بغرض ایصال ثواب دئیے جاتے ہیں، تو جب کہ وہ ناقابل تلاوت ہیں، تو قرآن عظیم دینے سے جو مقصود ہے وہ حاصل نہ ہو گا۔
دوسرے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ علاقے میں رواج ہے کہ جب کوئی فوت ہوجائے، تو اس علاقے کے سب ائمہ کو جمع کیا جاتا ہے، پھر مستحق، غیر مستحق کی تفریق کے بغیر میت کا فدیہ دیا جاتا ہے، اس میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جس علاقے کے لوگوں نے دوسرے علاقے کے امام کو کچھ دیا ہوتا ہے، تو بدلے میں اس علاقے کے امام کو دیا جاتا ہے، ورنہ اس کو بھی کچھ نہیں دیا جاتا، ایسا کرنا شرعاً کیسا؟
تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً فرمایا: یوں تقسیم یہ سرے ہی سے ناجائز ہے، جبکہ اس میں مستحق نامستحق کا کچھ لحاظ نہیں ہوتا، ایک جگہ کی مسجد کا امام مستحق ہے، اسے دیا گیا، تویہ دینا ٹھیک ہوا، دوسری جگہ کا، نا مستحق ہے، اسے دیا گیا، یہ جائز نہ ہوا، نہ اس کے دیئے اسقاط، صحیح۔ اور پھر اس خیال سے کہ وہاں کے لوگوں نے ہمارے یہاں کے امام کو دیا تھا ہم وہاں کے امام کو دیں، نہ دیں گے تو مفت نزاع ہوگا یہ دینا خالصا خدا کے لئے دنیا بھی نہ ہوا، جو اس پر لڑتے ہیں،جاہل ہیں، گناہ کرتے ہیں۔ اور اگر اس کا لحاظ بھی رہے کہ نا مستحق کونہ دیا جائے، مستحقین ہی کو پہونچے جب بھی اس طریقہ کو ضروری خیال کرنا ٹھیک نہیں۔ کہ جب مساکین ہی کو دینا ہے تو وہ جہاں کے ہوں اور اپنے محتاج اقرباءکا خیال مقدم پھر الاقرب فالاقرب نیز الاحوج،فالاحوج پر نظر بہتر۔ امام زمرہ فقراء و مساکین میں وہی داخل ہو گا جو فقیر و مسکین ہو۔ امامت مسکینی نہیں کہ جو امام ہو مسکین ہو۔ جو امام مسکین ہے، اسے فدیہ لیناجائز ہے جب کہ ہاشمی نہ ہو۔ جومسکین نہیں، اسے حرام ہے۔ قرآن عظیم کا ارشاد ہے۔ اِنَّما الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ، نہ اسے دینا جائز، نہ اسے دئیے فدیہ ادا ہو، نہ میت کو اس کا کوئی ثواب کہ نامستحق کو دینے کا کوئی ثواب ہی نہیں۔ (فتاوی مصطفویہ، ملخصاً،جلد 1، صفحہ 147 -156 ، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
یونہی مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ / 1992ء)سے سوال ہوا کہ نماز یا روزوں کا فدیہ کس قسم کے لوگوں کو دیا جاسکتا ہے؟ کیا اس میں زکوٰۃ کی طرح کچھ حدود و قیود ہیں؟ تو جواب میں فرمایا: نماز، روزے کا فدیہ انہیں لوگوں کا دیا جا سکتا ہے،جو زکوۃ کے مستحق ہیں۔ ( وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 196، بزم وقار الدین، کراچی)
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ فقہائے کرام نے فدیےکے باب میں دو طرح کا کلام کیا، ایک ولی اور وارث کے حق میں ادائیگی کے لحاظ سے کہ اس پر کب دینا واجب اور کب نفل؟ اور دوسرا میت کے ذمہ سے ساقط ہونے کے اعتبار سے کہ کس طرح ادائیگی کی جائے گی، تو میت برئ الذمہ ہوگی؟ تو وارث کے اعتبار سے تو تقسیم کاری کی وصیت کی صورت میں واجب اور وصیت نہ ہو، تو نفل۔ لیکن میت کے ذمہ سے ساقط ہونے کے طریقے میں کوئی تقسیم کاری نہیں کی، بلکہ مطلقاً فرمایا کہ بہر صورت مسکین یا شرعی فقیر کو دینا ہی ضروری ہے ۔بظاہر اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وصیت کے بغیر دینے والا اگرچہ یہ فعل بطورِ تبرع کے کررہا ہے لیکن ولی یا وارث چونکہ میت کے ذمہ پر واجب عبادات کا فدیہ اسی کی طرف سے ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی طرف سے ادا ئیگی درست ہونےکے لیے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے مصرف یعنی شرعی فقیر کا ہوناہی ضروری ہے اور اسی وجہ سے فقہائے کرام نے خاص عدمِ وصیت کی صورت میں بھی شرعی فقیر ہی کو فدیہ دینے کی صراحت کی ہے، چنانچہ علامہ شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے رسالہ شفاء العلیل و بل الغلیل فی حکم الوصیۃ میں لکھتے ہیں: و اعلم المذکور فیما رأیتہ من کتب ائمتنا فروعا و اصولا انہ اذالم یوص بفدیۃ الصوم یجوز ان یتبرع منہ ولیہ و ھو من لہ التصر ف فی مالہ بوراثۃ او وصایۃ قالوا: و لو لم یملک شیأیستقرض الولی شیأ فید فعہ للفقیر ثم یستو ھبہ منہ ثم یدفعہ لآخر و ھکذا حتی یتم" ترجمہ: اور میرے علم کے مطابق ہمارے ائمہ کی کتب اصول و فروع میں یہ مذکور ہے کہ جب میت نے فدیۂ صوم کی وصیت نہ کی ہو،تو اس کا ولی بطور نفل فدیہ دے سکتا ہے اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جواس کے مال میں بطور وارث یا وصی ہونے کے اعتبار سے تصرف کر سکتا ہو، فقہائےکرام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ولی کسی چیز کامالک نہ ہو، تو کسی سے قرض لے کر فقیر کو دے اس سے بطور ہبہ واپس لے پھر فقیر کو دے، اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ فدیہ مکمل ادا ہوجائے۔ (رسائل ابن عابدین، رسالة: شفاء العلیل، جلد 1، صفحہ 196، سہیل اکیڈمی، لاہور)
علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1069ھ / 1658ء) امداد الفتاح میں لکھتے ہیں: لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع بما لا يفي بذلك عن الواجبات التي بيناها (يدفع ذلك المقدار للفقير) بقصد إسقاط ما يريد عن الميت (فيسقط عن الميت بقدره ثم) بعد قبضه (يهبه الفقير للولي ويقبضه)لتتم الهبة و تملك (ثم يدفعه) الولي للفقير بجهة الإسقاط (فيسقط عن الميت بقدره) أيضاً، ثم (يهبه الفقير للولي ويقبضه ثم يدفعه) الولي (للفقير، و هكذا) يفعل مراراً (حتى یسقط ما كان) يظنه (على الميت من صلاة و صيام) و نحوهما مما ذكرناه من الواجبات و هذا هو المخلص في ذلك ان شاء بمنہ و کرمہ
ترجمہ: اگر میت نے وصیت نہ کی اور ولی اتنے مال کے ذریعے تبرعا ادا کرنا چاہے جو میت کے ان واجبات کو پورا نہیں کرتا جسے ہم نے بیان کر دیا، تو وہ جتنے واجبات میت کی طرف سے ادا کرنا چاہتا ہے، ان کوساقط کرنے کی نیت سے اتنی مقدار فقیر کو دے گا، تو میت سے اسی کی مقدار ساقط ہوجائے گی پھر قبضہ کے بعد فقیر وہ مال، ولی کو ہبہ کر دے اور ولی قبضہ کر لے تاکہ ہبہ تام ہو جائے اور مالک ہو جائے پھر ولی (دوبارہ)اسقاط کے طور پر فقیر کو دے، تو میت سے واجبات کی اتنی مقدار ساقط ہو جائے گی ، پھر فقیر وہ مال، ولی کو ہبہ کر دے اور وہ قبضہ کر کے دوبارہ فقیر کو دے دے، اسی طرح بار بار کرتا رہے یہاں تک کہ وہ میت پر جن نماز ، روزوں اور ان کی مثل واجبات میں سے ہماری بیان کردہ چیزوں کا گمان کرتا ہے، وہ سب ساقط ہوجائیں، اگر اللہ نے چاہاتواس کے فضل و کرم سے اس معاملے میں یہی خلاصی کی صورت ہے۔ (امداد الفتاح، صفحہ 485، مطبوعہ کوئٹہ)
یہی مفہوم وقار الفتاوی میں بھی موجود ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 195، مطبوعہ بزمِ وقار الدین)
فقہی نظیر کے جزئیات:
کسی نے اپنی زکوٰۃ،وغیرہ صدقاتِ واجبہ ادا نہ کیے اور وصیت بھی نہ کی، تو ورثا بطورِ تبرع ادا کر سکتے ہیں، چنانچہ علامہ زَبِیدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 800ھ / 1397ء) لکھتےہیں: و إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر ۔ ۔ ۔ و لم يوص بذلك لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك و هم من أهل التبرع" ترجمہ: جب کوئی ایساشخص فوت ہوجائے کہ اس کے ذمے زکوٰۃ، فطرہ، کفارہ، منت کی ادائیگی باقی تھی اور اس نے مرنے سے پہلے ان کے متعلق وصیت بھی نہ کی، تو ہمارے نزدیک اس کے ترکہ میں سے ان کی ادائیگی نہیں کی جائے گی، البتہ اگر ورثا بطورِ احسان ادا ئیگی کریں اور وہ تبرع کے اہل بھی ہوں ،تو جائز ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 135، المطبعة الخيرية)
ان چیزوں کے کفارے کی ادائیگی میں شرعی فقیر کا لحاظ ضروری ہے، جیساکہ اس کی صراحت کرتے ہوئے ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: و إن لم يؤد حتى مات أثم لتضييق الوجوب عليه في آخر العمر، و هل يؤخذ من تركته؟ ينظر إن كان لم يوص لا يؤخذ و يسقط في حق أحكام الدنيا عندنا كالزكاة و النذر، و لو تبرع عنه ورثته جاز عنه في الاطعام و الكسوة، و أطعموا في كفارة اليمين عشرة مساكين أو كسوتهم، و في كفارة الظهار و الافطار أطعموا ستين مسكينا و لا يجبرون عليه" ترجمہ: اور اگر کسی نے (واجب کفارہ وغیرہ) ادا نہ کیا حتی کہ مر گیا، تو زندگی کے آخری حصے میں وجوب کو تنگ کر دینے (یعنی تاخیر کرتے رہنے) کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا۔ (اب) کیا اس کے ترکے سے ادا کیا جائے گا یا نہیں؟ اگر اس نے وصیت نہ کی ہو،تو ہمارے نزدیک اس کے ترکے سے نہیں لیا جائے گا اور دنیاوی احکام کے لحاظ سے ساقط ہو جائے گا، جیسا کہ زکوٰۃ اور نذر کا حکم ہے۔ البتہ اگر اس کے ورثا اس کی طرف سے بطورِ تبرع ادا کر دیں، تو کھانا کھلانے اور کپڑا پہنانے کی صورت میں یہ جائز ہوگا اور ورثا قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا انہیں کپڑا پہنائیں اور ظہار اور روزہ توڑنے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں، لیکن ورثا کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 96، مطبوعہ مصر)
یہی بات امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جدالممتار میں لکھی: (فائدة مهمة): لو أن رجلا وجب عليه كفارة يمين … مات … و إن لم يوص و أحبوا أن يكفروا عنه لم يجزءهم أقل من إطعام عشرة مساكين أو كسوتهم، و لا يجوز لهم أن يعتقوا عنه" ترجمہ: مفہوم اوپر گزر چکا۔ (جدالممتار، ملخصاً،جلد 3، صفحہ 522، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اور فتاوی رضویہ میں نمازو روزہ اور زکوٰۃ سب کے لیے فدیہ کا حکم بیان کرتے ہوئے فقیر کو دینے کا حکم بیان کیا، چنانچہ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ایک سال کی نمازوں کے دو ہزار ایک سو تیس فدیے ہوئے اور تیس فد یے یعنی فدیے رمضان المبارک کے ملا کر دو ہزار ایک سو ساٹھ، انہیں ساٹھ میں ضرب دینے سے ایک لاکھ انتیس ہزار چھ سو ہوتے ہیں، اتنی بار وارث و فقیر میں تصدق و ہبہ کی الٹ پھیر ہونی چاہئے، تو فدیہ ادا ہو، یہ صرف صوم و صلوۃ کا فدیہ ہوا، اور ہنوز اور بہت فدیے و کفارے باقی ہیں، مثلاً زکوۃ فرض کیجئے ہزار روپے زکوۃ کے اس (میت) پر مجتمع ہو گئے تھے اور نیم صاع کی قیمت دو آنے ہے، تو آٹھ ہزار دور بہ نیت زکوۃ دینے لینے کو درکار ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 540، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ان جزئیات سے واضح ہوا کہ زکوٰۃ، قسم اور منت کے کفارے کی طرح نماز و روزہ کے فدیہ میں بھی شرعی فقیر کو دینا ضروری ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Fsd-10003
تاریخ اجراء: 06ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء