نومولود کے نام پر دودھ تقسیم کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نومولود بچہ فوت ہوجائے تو دودھ ایصال ثواب کرنا، نیز ناف سمیت ہی بچے کو دفن کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
(1) بعض لوگوں نے ہمیں کہا ہے کہ اس بچی کے نام پر چالیس دن تک دودھ تقسیم کرکے ایصالِ ثواب کرنا ہوگا۔ کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟
(2) بچی کی ناف (نال) ڈاکٹر نہیں کاٹ سکے۔ ہم نے بھی بہت کوشش کی، مگر وہ الگ نہ ہوسکی، اس لیے اسی حالت میں تدفین کردی۔ کیا اس صورت میں ہم پر کوئی گناہ ہوگا؟
جواب
(1) بچہ یا بچی کے نام پر دودھ تقسیم کرنا ایصال ثواب کی ایک صورت ہے۔ یہ ایصال ثواب کرنا اچھا عمل ہے لیکن ضروری نہیں اور چالیس دن کی قید بھی فضول اور بے معنی ہے۔
(2) عام طور پر زندہ بچے کی نال وقت گزرنے کے ساتھ خود بخود خشک ہو کر الگ ہو جاتی ہے، اُس کو خود وقت سے پہلے الگ کرنے میں زندہ بچے کوتکلیف ہوتی ہے اور جس طرح زندہ کو بلاوجہ شرعی تکلیف دینا جائز نہیں، اسی طرح مردہ کوبھی بلاوجہ شرعی تکلیف دینا جائز نہیں۔ نیز شرعی حکم یہ ہے کہ میت کو اس کے تمام اجزاء سمیت دفن کیا جائے گا۔ لہذا اگر کسی نومولود بچہ یا بچی کا انتقال اس حال میں ہو جائے کہ اس کی ناف (نال) ابھی الگ نہ ہوئی ہو، تو اسے نال سمیت ہی دفن کردیا جائے گا، نال کو کاٹنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ آپ نے بچی کو نال سمیت دفن کیا، تواس میں کوئی گناہ نہیں، بلکہ یہی شرعی طریقہ تھا۔ البتہ نال کو الگ کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں تھا۔
ایصال ثواب میں کسی خاص چیز کی تقسیم کاری، یا کسی خاص دن،یا چند دنوں کو معین کرنا صرف عرفی تعیین ہے جس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اُسے لازم نہ سمجھے۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: اموات کو ایصال ثواب قطعاً مستحب، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ“ ترجمہ: جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو چاہیے کہ اسے نفع پہنچائے۔ اور یہ تعینات عرفیہ ہیں، ان میں اصلاً حرج نہیں جبکہ انھیں شرعاً لازم نہ جانے، یہ نہ سمجھے کہ انہی دنوں ثواب پہنچے گا آگے پیچھے نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 604، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
زندہ انسان کی طرح مُردہ کوبھی بلا وجہ شرعی تکلیف پہنچانا،ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ سنن ابی داؤد میں ہے: عن عائشة، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: «كسر عظم الميت ككسره حيا»‘‘ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میت کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے اُسے زندہ حالت میں توڑنا۔ (سنن ابی داؤد، جلد 3، صفحہ 212، رقم الحدیث: 3207، المكتبة العصرية، بيروت)
اس حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاة المفاتيح میں فرماتے ہیں: يعني في الإثم كما في رواية. قال الطيبي: إشارة إلى أنه لا يهان ميتا، كما لا يهان حيا. قال ابن الملك: و إلى أن الميت يتألم. قال ابن حجر: و من لازمه أنه يستلذ بما يستلذ به الحي اهـ. و قد أخرج ابن أبي شيبة عن ابن مسعود قال: أذى المؤمن في موته كأذاه في حياته‘‘ ترجمہ: یعنی گناہ میں (دونوں برابر ہیں)، جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے۔ امام طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میت کی بے حرمتی نہ کی جائے، جس طرح زندہ کی بے حرمتی نہیں کی جاتی۔ ابن الملک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میت کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اور اس کا لازم یہ ہے کہ میت کو ان چیزوں سے لذت حاصل ہوتی ہے جن سے زندہ شخص لذت حاصل کرتا ہے۔ انتہی۔ اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "مؤمن کو اس کی وفات کے بعد تکلیف پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے اس کی زندگی میں اسے تکلیف پہنچانا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1226، دار الفکر، بیروت)
میت کو اس کے تمام اجزاء سمیت دفن کرنا سنت ہے، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: و السنة أن يدفن الميت بجميع أجزائه، و لهذا لا تقص أظفاره وشاربه ولحيته، ولا يختن‘‘ ترجمہ: اور سنت یہ ہے کہ میت کو اس کے تمام اجزاء سمیت دفن کیا جائے، اسی لیے اس کے ناخن، مونچھیں اور داڑھی نہیں کاٹی جائے گی، اور نہ ہی اس کا ختنہ کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 301،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
نال جسم کی ایک زائد کھال ہوتی ہے جس کو کاٹنا ختنہ میں زائد کھال کاٹنے کے مشابہ ہے اور ختنہ کے متعلق حکم یہ ہے کہ میت کا ختنہ بالاتفاق نہیں کیا جائے گا، لہذا نال بھی نہیں کاٹی جائے گی، چنانچہ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: الميت فإنه لا يسن فيه إزالة الجزء كما في الختان حيث يفرق بين الحي والميت فيه. بأن يختن الحي و لا يختن الميت بالاتفاق، فكذا في كل زينة تتضمن إبانة الجزء يجب أن يفرق بينهما‘‘ ترجمہ: میت، تو اس کے حق میں جسم کا کوئی حصہ الگ کرنا مسنون نہیں، جیسا کہ ختنہ میں زندہ اور مردہ کے درمیان فرق کیا جاتا ہے، اس طرح کہ زندہ کا ختنہ کیا جائے گا، جبکہ میت کا بالاتفاق ختنہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر وہ زینت جو جسم کے کسی حصے کے جدا کرنے کو شامل ہو، اس میں بھی زندہ اور میت کے درمیان فرق کیا جائے گا۔ (العنایہ شرح الھدایہ، جلد 2، صفحہ 111،دار الفكر، بيروت)
بہار شریعت میں ہے: میّت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اُکھاڑنا، ناجائز و مکروہ و تحریمی ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جس حالت پر ہے اُسی حالت میں دفن کر دیں۔(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 816، مکتبہ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1246
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ / 01 جولائی 2026ء