logo logo
AI Search

میت کو تلقین کرنے کا ثبوت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میت کو تلقین کرنے کا شرعی حکم ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میت کو جو تلقین کی جاتی ہے کیا یہ بزرگوں کا طریقہ ہے، یا نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟

جواب

میت کو تلقین کرنا مستحب ہے۔ تلقین کرنے کی اصل حدیثِ مبارک سے ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میت کو تلقین کرنے کا طریقہ ارشاد فرمایا اور اس کی فضیلت بھی بیان فرمائی۔ نیز صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ تعالی سے میت کو تلقین کرنے کا معمول چلا آ رہا ہے۔

چنانچہ المعجم الکبیر للطبرانی کی حدیث پاک ہے: ’’عن سعيد بن عبد اللہ الأودي، قال: شهدت أبا أمامة وهو في النزع، فقال: إذا أنا مت، فاصنعوا بي كما أمرنا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن نصنع بموتانا، أمرنا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فقال: "إذا مات أحد من إخوانكم، فسويتم التراب على قبره، فليقم أحدكم على رأس قبره، ثم ليقل: يا فلان بن فلانة، فإنه يسمعه ولا يجيب، ثم يقول: يا فلان بن فلانة، فإنه يستوي قاعدا، ثم يقول: يا فلان بن فلانة، فإنه يقول: أرشدنا رحمك اللہ، ولكن لا تشعرون. فليقل: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا اللہ، وأن محمدا عبده ورسوله، وأنك رضيت باللہ ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، وبالقرآن إماما، فإن منكرا ونكيرا يأخذ واحد منهما بيد صاحبه ويقول: انطلق بنا ما نقعد عند من قد لقن حجته، فيكون اللہ حجيجه دونهما". فقال رجل: يا رسول اللہ، فإن لم يعرف أمه؟ قال: «فينسبه إلى حواء، يا فلان بن حواء»‘‘

ترجمہ: حضرت سعید بن عبداللہ اَودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت حاضر تھا جب ان کی وفات کا وقت قریب تھا۔ انہوں نے فرمایا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ وہی معاملہ کرنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے مُردوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تمہارا کوئی بھائی فوت ہوجائے اور تم اس کی قبر پر مٹی برابر کرچکو تو تم میں سے کوئی شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور کہے: اے فلاں بن فلانۃ! وہ اسے سنے گا لیکن جواب نہیں دے گا۔ پھر دوبارہ کہے: اے فلاں بن فلانۃ !تو وہ سیدھا بیٹھ جائے گا۔ پھر تیسری مرتبہ کہے: اے فلاں بن فلانۃ! تو وہ کہے گا: اللہ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کر، لیکن تمہیں اس کی بات کا شعور نہیں ہوتا۔پھر وہ شخص کہے: ’’اس بات کو یاد کر جس پر تم دنیا سے رخصت ہوئے تھے: یعنی یہ گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ تم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھے‘‘۔ پس (تلقین کی اس وجہ سے) منکر نکیر میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے: چلو، ہم اس شخص کے پاس کیوں بیٹھیں جسے اس کی حجت یاد کرا دی گئی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں کے مقابلے میں اس کی حجت بن جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر وہ شخص اس کی ماں کو نہ پہچانتا ہو (یعنی اس کا نام نہ جانتا ہو) تو کیا کہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حضرت حوا علیہا السلام کی طرف منسوب کرکے کہے: اے فلاں بن حوا! (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 8، صفحہ 299، 298، سعید بن عبد اللہ الاودی عن ابی امامۃ، رقم الحدیث: 7979، مطبوعہ قاھرۃ)

علامہ محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ ’’بنایہ شرح ہدایہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قلت: وكيف لا يفعل! وقد روي عنه - عَلَيْهِ السَّلَامُ – «أنه أمر بالتلقين بعد الدفن، فيقول يا فلان بن فلان، أو يا فلانة بنت فلانة دينك الذي كنت عليه» إلى آخر ما ذكرناه في شرح الوجيز‘‘ ترجمہ: میں کہتا ہوں: تلقین کیوں نہ کی جائے! حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دفن کے بعد تلقین کرنے کا حکم دیا کہ تلقین کرنے والا یوں کہے: اے فلاں بن فلاں! یا اے فلانۃ بنت فلانۃ! تمہارا وہ دین جس پر تم دنیا میں قائم تھے، آخر تک، یہ وہ ہے جو ہم نے شرح الوجیز میں ذکر کیا ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 3، صفحہ 178، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں المعجم الکبیر کے حوالے سے تلقین کی حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’امام ابن الصلاح وغیرہ محدثین اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں: ’’اعتضد بشواھد وبعمل اھل الشام قدیما۔ نقلہ العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ‘‘ ( یعنی یہ حدیث شواہد اوراہل شام کے قدیم عمل سے قوت پاتی ہے۔ علامہ ابن امیر الحاج نے اسے حلیہ میں نقل کیا ہے) اسی طرح امام نقاد الحدیث ضیائی مقدسی و امام خاتم الحفاظ حافظ الشان، ابو الفضل احمد بن حجر عسقلانی نے اس کی تقویت اور امام شمس الدین سخاوی نے اس کی تقریر فرمائی اور اس باب میں خاص ایک رسالہ تالیف فرمایا، اور امام احمد رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کرنا علمائے شام سے نقل فرمایا، اور امام ابوبکر ابن العربی نے اہل مدینہ اور بعض دیگر علماء میں اہل قرطبہ وغیرہ سے اس کا عمل نقل کیا۔

میں کہتا ہوں: یہ عمل زمانہ صحابہ و تابعین سے ہے حضرت ابو امامہ صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے خود ، اپنے لیے تلقین کی وصیت فرمائی ۔ کما اخرجہ ابن مندہ من و جہ اٰ خر کما ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور قلت بل والطبرانی ایضاً علٰی ماساق لفظہ البدر المحمود فی البنایۃ شرح الھدایۃ۔ جیسا کہ ابن مندہ نے دوسرے طریق سے اس کی روایت کی، اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں اس کے الفاظ ذ کر کیے ہیں۔ (ت) اور تین تابعیوں سے عنقریب منقول ہوگا کہ اسے مستحب کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے ان کی یہ نقل نہ ہوگی مگر صحابہ یا اکابر تابعین سے جو ان سے پہلے ہوئے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ علامہ ابن حجر مکی کی شرح مشکوٰۃ میں ہے: ’’اعتضد بشواھد یرتقی بھا الٰی درجۃ الحسن‘‘ (یہ حدیث بوجہ شواہد درجہ حسن تک ترقی کیے ہوئے ہے) اسی طرح ذیل مجمع بحار الانوار میں تصریح کی کہ اس نے شواہد سے قوت پائی۔ و تعالٰی اعلم۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 732، 731، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ’’امام زاہد صفار نے کتاب مستطاب تلخیص الادلہ میں تصریح فرمائی کہ تلقین موتٰی مسلک اہلسنت ہے اور منعِ تلقین مذہب معتزلہ پر مبنی کہ وہ میّت کو جماد (بے جان) مانتے ہیں، امام حاکم شہید نے کافی اور امام خبازی نے خبازیہ میں ان سے نقل فرمایا: ’’ان ھذا (ای منع التلقین) علٰی مذھب المعتزلۃ لان الاحیاء بعد الموت عندھم مستحیل، اما عنداھل السنہ فالحدیث ای لقنوا موتاکم لا الٰہ الا ﷲ محمول علی حقیقتہ، لان ﷲ تعالٰی یحییہ علی ماجاءت بہ الاثار، وقد روی عنہ علیہ الصلوۃ والسلام انہ امر بالتلقین بعدا لدفن الخ ذکرہ فی رد المحتار عن معراج الداریۃ‘‘ تلقین سے ممانعت معتزلہ کا مذہب ہے اس لیے کہ موت کے بعد زندہ کرنا ان کے نزدیک محال ہے لیکن اہلسنت کے نزدیک حدیث تلقین (اپنے مردوں کو لا الہ الا اللہ سکھاؤ) اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے اس لیے کہ اللہ تعالٰی مُردے کو زندہ فرمادیتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے اور حضور صلی تعالٰی علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ سرکار نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا الخ۔ اسے رد المحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ذکر کیا۔ (ت) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 779، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1292

تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1448ھ/08 اگست 2026ء