logo logo
AI Search

نمازِ جنازہ میں صرف درود ابراہیمی ہی پڑھ سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز جنازہ میں درود ابراہیمی پڑھنا ضروری ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز جنازہ میں دوسری تکبیر کے بعد درود ابراہیمی پڑھنا ضروری ہے یا کوئی بھی درود پاک پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب

نمازِ جنازہ میں دوسری تکبیر کے بعد کوئی بھی درود پاک پڑھا جا سکتا ہے، جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ درودِ ابراہیمی پڑھا جائے۔

فتح القدیر میں ہے: ”ويصلي بعد التكبيرة الثانية كما يصلي في التشهد، وهو الأولى“ اور دوسری تکبیر کے بعد درود پاک پڑھے گا، جس طرح تشہد میں پڑھتا ہے اور وہ (یعنی نماز والا درود پڑھنا) بہتر ہے۔ (فتح القدیر، ج 02، ص 125، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”نماز جنازہ کا طریقہ یہ ہے کہ کان تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے حسب دستور باندھ لے اور ثنا پڑھے، پھر بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہے اور درود شریف پڑھے، بہتر وہ دُرود ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور کوئی دوسرا پڑھا جب بھی حرج نہیں۔“ (بھار شریعت، ج 01، ص 829، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-473
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1444ھ/13 ستمبر 2022ء