logo logo
AI Search

مقروض کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقروض کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مقروض کی نماز جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے، جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس حدیث پاک کا کیا جواب ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار فرمایا۔

جواب

چند مخصوص لوگوں کے علاوہ ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقروض ان مخصوص لوگوں میں شامل نہیں، لہذا مقروض کی نماز جنازہ بھی فرض کفایہ ہے، بلکہ جس حدیث پاک کا سوال میں ذکر ہو رہا ہے، اس میں بھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اگرچہ خود نماز جنازہ پڑھنے سے انکار فرمایا، مگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کو پڑھنے کا حکم دیا، اگر مقروض کی نماز جنازہ جائز ہی نہ ہوتی، تو پڑھنے کا حکم بھی ارشاد نہ فرمایا جاتا۔

باقی رہا یہ معاملہ کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مقروض کے نماز جنازہ سے پھر انکار کیوں فرمایا؟ فقہاء و محدثین نے اس کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ اس سے مقصود لوگوں کو زجر و توبیخ کرنا تھا، تاکہ لوگ معمولی باتوں پر قرض لینے اور قرض لے کر اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے سے بچیں، جیسا کہ خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے سے بھی آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انکارفرمایا، تاکہ لوگ اس برے کام سے باز آئیں۔ نیز نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقروض کی نماز جنازہ سے انکار اور دوسروں کو پڑھنے کا حکم دینا بھی اس وقت تھا، جب تک فتوحات نہیں ہوئی تھیں، جب اللہ تعالی نے فتوحات عطا فرمائیں، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان میت کا قرض اپنے ذمہ لے لیا اور کسی کی نماز جنازہ سے انکار نہ فرمایا۔

سنن ابو داود کی حدیث پاک ہے: ”الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت برا کان او فاجرا وان ھو عمل الکبائر“ ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے، نیک ہو یا بد، چاہے اُس نے کتنے ہی گناہ کبیرہ کیے ہوں۔ (سنن ابو داود، باب فی الغزو مع ائمۃ الجور، ص 405، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”ھی فرض علٰی کل مسلم مات، خلا اربعۃ، بغاۃ، وقطاع طریق اذا قتلوا فی الحرب، ومکابر فی مصر لیلا، وخناق خنق غیر مرۃ۔ ملخصاً“ نماز جنازہ ہر فوت ہونے والےمسلمان کی فرض (کفایہ) ہے۔ سوائے چار آدمیوں کے، باغی، ڈاکو جبکہ لڑائی میں مارے جائیں، رات کو شہر میں غنڈہ گردی کرنیوالا اور گلا گھُونٹنے والا جس نے کئی مرتبہ یہ کاروائی کی ہو۔ (تنویر الابصار ودر مختار، باب صلوٰۃ الجنازۃ  ، ج 03، ص 126، 125 مطبوعہ کوئٹہ)

صحیح بخاری میں ہے: ”عن سلمة بن الأكوع رضي اللہ عنه قال: كنا جلوسا عند النبي صلى اللہ عليه وسلم إذ أتي بجنازة فقالوا: صل عليها. فقال: هل عليه دين؟ قالوا: لا فصلى عليها، ثم أتي بجنازة أخرى، فقال: هل عليه دين؟ قالوا: نعم، قال: "فهل ترك شيئا؟" قالوا: ثلاثة دنانير فصلى عليها ثم أتي بثالثة فقال هل عليه دين؟ قالوا: ثلاثة دنانير. قال: هل ترك شيئا؟ قالوا: لا، قال: "صلوا على صاحبكم" قال أبو قتادة: صل عليه يا رسول اللہ وعلي دينه فصلى عليه“

سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں ہم حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے عرض کی، اس کی نماز پڑھایے۔ فرمایا: اس پر کچھ دَین ہے؟ عرض کی، نہیں۔ اُس کی نماز پڑھا دی۔ پھر دوسرا جنازہ آیا، ارشاد فرمایا: ''اس پر دَین ہے؟ عرض کی، ہاں۔ فرمایا: کچھ اس نے مال چھوڑا ہے؟ لوگوں نے عرض کی، تین دینا ر چھوڑے ہیں۔ اس کی نماز بھی پڑھا دی۔ پھر تیسرا جنازہ حاضر لایا گیا، ارشاد فرمایا: ''اس پر کچھ دَین ہے؟ لوگوں نے عرض کی، تین دینار کا مدیون ہے۔ ارشاد فرمایا: اس نے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا، نہیں۔ فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول ﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نماز پڑھا دیں، دَین کا ادا کر دینا میرے ذمہ ہے۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی۔ (صحیح بخاری، کتاب الحوالات، ص 409، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت نزہۃ القاری میں ہے: ”وہ شخص (یعنی مقروض) مسلمان ہے تو اس کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نماز جنازہ پڑھیں، اسی لیے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ''صلوا علی صاحبکم'' تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ (نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 03، ص 500، مطبوعہ فرید بک سٹال، لاھور)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقروض کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمانے کی وجہ کے متعلق مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”وقال القاضي البيضاوي لعله صلى اللہ عليه وسلم امتنع عن الصلاة عن المديون الذي لم يترك وفاء تحذيرا عن الدين وزجرا عن المماطلة" قاضی بیضاوی فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس مقروض کا نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمانا، جس نے ادا کے لئے کچھ نہ چھوڑا ہو، قرض سے ڈرانے، ادائیگی ِقرض میں ٹال مٹول سے زجر کرنے کے لئے تھا۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، ج 12، ص 160، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

فتح الباری میں ہے: ”قال العلماء كان الذي فعله صلى اللہ عليه وسلم من ترك الصلاة على من عليه دين ليحرض الناس على ‌قضاء ‌الديون ‌في ‌حياتهم والتوصل إلى البراءة منها لئلا تفوتهم صلاة النبي صلى اللہ عليه وسلم“ علماء نے فرمایا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مدیون پر نماز جنازہ نہ پڑھنے کا عمل لوگوں کو اپنی زندگی میں قرض ادا کرنے پر ابھارنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے تھا، تاکہ لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے محروم نہ رہیں۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، 05، ص601، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

لمعات التنقیح میں ہے: ”قولہ: (صلوا علی صاحبکم) فیہ زجر وتشدید علی الدین والمماطلۃ فی ادائہ“ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ''تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ''قرض لینے اور قرض لے کر اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے پر زجر اور سختی کے لئے ہے۔ (لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح، ج 05، ص 600، مطبوعہ لاھور)

مراۃ المناجیح میں ہے: ”انصار مدینہ قرض لینے کے بہت عادی تھے، ان کے مکان جائیدادیں، سامان یہود کے ہاں گروی تھے، معمولی باتوں پر قرض لے لیا کرتے تھے، اس بری رسم کو مٹانے کے لیے حضور نے مقروضوں پر یہ سختی فرمائی۔“ (مراۃ المناجیح، ج 04، ص 324، مطبوعہ قادری پبلشرز، لاھور)

جس طرح خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار فرمانا، زجر و توبیخ کے لئے تھا، اسی طرح مقروض کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار بھی زجر و توبیخ کے لئے ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے جہاں پر خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ سے انکار فرمانے کی وجہ زجر و توبیخ بیان فرمائی، ساتھ ہی بطور ِتمثیل مقروض کی نماز جنازہ سے انکار کی وجہ بھی یہی بیان فرمائی۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”أقول: قد يقال: ‌لا ‌دلالة ‌في ‌الحديث على ذلك لأنه ليس فيه سوى أنه عليه الصلاة والسلام لم يصل عليه فالظاهر أنه امتنع زجرا لغيره عن مثل هذا الفعل كما امتنع عن الصلاة على المديون“ (علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں: یہ کہاجا سکتا ہے کہ اس حدیث میں اس امر پر کوئی دلالت نہیں کہ خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، کیونکہ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (زجر و توبیخ کے طور پر) خود اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ ا س لیے نہیں پڑھاتا کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اور کوئی خودکشی نہ کرے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مقروض کا جناز ہ پڑھنے سے منع فرمادیا تھا۔ (رد المحتار علیٰ الدر المختار، ج 03، ص 127، مطبوعہ کوئٹہ)

جب فتوحات ہوئیں تونبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے قرض کا ذمہ خود لے لیا، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے: ”عن أبي هريرة رضي اللہ عنه: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى، عليه الدين، فيسأل: هل ترك لدينه فضلا فإن حدث أنه ترك لدينه وفاء صلى، وإلا قال للمسلمين: صلوا على صاحبكم فلما ‌فتح ‌اللہ ‌عليه الفتوح قال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه، ومن ترك مالا فلورثته“ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کوئی وفات یافتہ شخص لایا جاتا جس پر قرض ہوتا، تو آپ پوچھتے کیا اس نے ادائے قرض کے لیے کچھ چھوڑا ہے، پھر اگر خبردی جاتی کہ اس نے ادائے قرض کے لیے چھوڑا ہے، تو نماز پڑھ لیتے وگرنہ مسلمانوں سے فرمادیتے کہ اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو جب ﷲ نے آپ پر فتوحات عطا فرمائیں، تو فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہوں، تو جو مسلمان فوت ہو قرض چھوڑے، تو اس کی ادا میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ (صحیح البخاری، باب الدین، ص 412، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

فتح الباری میں ہے: ”انہ ترک ذلک بعد ان فتح اللہ علیہ الفتوح“ جب اللہ تعالی نے فتوحات عطا فرمائیں، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل (یعنی مقروض کی نما زجنازہ سے منع فرمانے) کو ترک فرمادیا۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، 05، ص 588، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

عمدۃ القاری میں ہے: ”وحدیث ابی ھریرۃ یدل علی النسخ، ملخصا“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (سابقہ عمل کے) منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 12، ص 160، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: mul-524
تاریخ اجراء: 14 ربیع الثانی 1444ھ/10 نومبر 2022ء