logo logo
AI Search

جنازہ گاہ میں جوتے پہن کر جانا اور نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جنازہ گاہ میں جوتے پہن کر جانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جنازہ گاہ کا حکم بعینہٖ مسجد کے حکم کی طرح ہوتا ہے؟ جنازہ گاہ میں جوتے پہن کے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ اگرکوئی شخص نماز جنازہ پڑھنے والوں کو روکے کہ جوتے باہر اتار کر جنازہ گاہ میں آئیں تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ حالانکہ سردی کے موسم میں جوتے اتار کر ننگے پاؤں نماز پڑھنے میں سردی کی وجہ سے آزمائش ہوتی ہے۔ نیز کیا جوتے پہن کر نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے؟

جواب

جنازہ گاہ کا حکم بعینہٖ مسجد کا حکم تو نہیں ہے بلکہ اس میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ اقتداء کے مسائل میں جنازہ گاہ، مسجد ہی کے حکم میں ہے کہ اگرچہ امام اورمقتدی کے درمیان کتنی ہی جگہ کا فاصلہ ہو، اقتداء درست ہوجائے گی، با قی احکام میں یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے۔ لہذا جنازہ گاہ میں جوتے پہن کے جانا، گناہ نہیں ہے، اس حکم میں اس کا مسجد والا حکم نہیں ہوگا، یعنی جنازہ گاہ میں جوتے پہن کر جانا بے ادبی شمارنہیں ہوگا، البتہ جنازہ گاہ اگر ایسی ہو کہ اس کی روزانہ یا وقتا فوقتا صفائی ہوتی ہو اور جوتے پہن کرجانے سے اس کے فرش، ٹائلز وغیرہ پرجوتوں کی مٹی، نجاست یا دیگر گندگی کا اندیشہ ہو اور اسی وجہ سے انتظامیہ یہ کہتی ہے کہ جوتے اتار کر آئیں تاکہ صفائی باقی رہے اور گندگی نہ پھیلے تو ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے، اب جوتے اتار کر ہی جانا چاہیے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگوں کا ڈرائنگ روم ایسا ہوتا ہے کہ جوتا پہن کر وہاں جاتے ہیں اور کچھ لوگوں نے کارپیٹ وغیرہ بچھائے ہوتے ہیں اور خود بھی جوتا بالخصوص باہر کا جوتا لے کر نہیں آتے تو وہاں جوتے لے کر جانا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملہ کا تعلق تقدس اور ادب سے نہیں بلکہ صفائی ستھرائی سے متعلقہ اخلاقی آداب سے ہے۔ یہی معاملہ جنازہ گاہ کا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جہاں جوتے لے جانے کا ماحول نہیں ہے وہاں سردی سے بچنے کیلئے جرابیں، موزے وغیرہ استعمال کئے جائیں، کیونکہ صاف ستھری جگہ کو جوتوں کی مٹی وغیرہ سے گندہ کردینا ادب و تہذیب کے بھی خلاف ہے۔

جنازہ گاہ کو نجاست سے بھی بچانے کا حکم ہے کہ مسجد کے حکم میں نہ ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اب اس میں پیشاب کرنا شروع کر دے یا پھر کسی بھی طرح سے نجاست سے آلودہ کرے۔ جنازہ گاہ کو ناپاکی سے بچانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ جوتے پہن کرنمازجنازہ پڑھنے کی صورت میں ضروری ہے کہ جوتا بھی پاک ہو اورنیچے کی زمین بھی پاک ہو، تب نماز ہوجائے گی اگر جوتے میں یا نیچے کی زمین میں مانعِ نماز ناپاکی ہوئی تو نماز نہیں ہوگی، چونکہ باہر پہنے جانے والےجوتوں کے تلوے ناپاکیوں سے آلودہ رہنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لئے فقہاء نے فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ جوتا اتار کر اس کے اوپر کھڑا ہوجائے تاکہ اگر جوتے کا تلوا یا زمین ناپاک بھی ہوئی تو بھی نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔

جنازہ گاہ کا حکم بیان کرتے ہوئےالبحر الرائق، در مختار اور حاشیہ شرنبلالی علی الدرر میں ہے: (اللفط لحاشیۃ الشرنبلالی) ذكر الصدر الشهيد المختار للفتوى في الموضع الذی يتخذ لصلاة الجنازة و العيد أنه مسجد فی حق جواز الاقتداء، و ان انفصل الصفوف رفقا بالناس و فيما عدا ذلك ليس له حكم المسجد، كذا ذكره الامام المحبوبی۔ ترجمہ: صدر شہید رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ فتوے کیلئے مختار قول یہ ہے کہ جو جگہ جنازہ کیلئے یا عید کیلئے بنائی گئی ہو وہ اقتداء کے جائز ہونے کیلئے مسجد کے حکم میں ہے، اگرچہ نماز جنازہ کی صفیں متصل نہ ہوں (تب بھی اقتداء ہوجائے گی۔) لوگوں کی آسانی کیلئے اس قول کو اختیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ جو احکام ہیں ان میں یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے، اسی طرح امام محبوبی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا۔ (حاشیہ شرنبلالی علی الدرر، جلد 1، صفحہ 110، مطبوعہ کراچی)

جنازہ گاہ کو بھی نجاست سے بچایا جائے گا۔بحرالرائق میں،اسی طرح رد المحتار میں بھی بحر ہی کے حوالے سے ہے: (و اللفظ للبحر) ظاهر ما فی النهاية أنه يجوز الوطء و البول و التخلی فی مصلى الجنائز و العيد و لا يخفى ما فيه فان البانی لم يعده لذلك فينبغی أن لا تجوز هذه الثلاثة و ان حكمنا بكونه غير مسجد و انما تظهر فائدته فی بقية الأحكام التی ذكرناها و من حل دخوله للجنب و الحائض۔ (البحر الرائق جلد 2، صفحہ 64، مطبوعہ کوئٹہ)

بہارشریعت میں ہے: عید گاہ یا وہ مقام کہ جنازہ کی نماز پڑھنے کے ليے بنایا ہو، اقتدا کے مسائل میں مسجد کے حکم میں ہے کہ اگرچہ امام و مقتدی کے درمیان کتنی ہی صفوں کی جگہ فاصل ہو اقتدا صحیح ہے اور باقی احکام مسجد کے اس پر نہیں، اس کایہ مطلب نہیں کہ اس میں پیشاب پاخانہ جائز ہے بلکہ یہ مطلب کہ جنب اور حیض و نفاس والی کو اس میں آنا جائز۔ (بھار شریعت جلد 1، حصہ 3، صفحہ 645، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

جوتے پہنے ہوئے نماز جنازہ پڑھنے کا حکم بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تلا ناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔ (فتاوی رضویہ جلد 9، صفحہ 188، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے: بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں، اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، بقدر مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے۔ (بھارشریعت جلد 1، حصہ 4، صفحہ 826، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-2771
تاریخ اجراء: 25 جمادی الآخرۃ 1444ھ / 18جنوری 2023ء