logo logo
AI Search

رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا پڑھنے کی فضیلت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبَّا وَ بِالْإِسْلَامِ دِينًا و بِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا پڑھنے کے فضائل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے کہ اس دعا کی فضیلت حدیث پاک کے حوالے سے ارشاد فرما دیں: رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبَّا وَ بِالْإِسْلَامِ دِينًا و بِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا

جواب

سوال میں ذکر کردہ جملہ بڑا متبرک جملہ ہے، احادیث مبارکہ میں اس جملے کے حوالے سے کئی فضائل مذکور ہیں:

(1) ایک حدیث پاک کے مطابق اس طرح پڑھنے والے کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔

(2) ایک حدیث پاک کے مطابق جو صبح و شام اس طرح پڑھے، تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن راضی کر دے۔

(3) ایک حدیث پاک کے مطابق صبح کے وقت اس طرح پڑھنے والے کے لیے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ کفالت فرمائی ہے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ضرور جنت میں لے جاؤں گا۔

سنن ابی داؤد میں ہے ”أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: "من قال: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا، وجبت له الجنة"“ ترجمہ: "بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کہا: میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 249، رقم الحدیث 1529، دارالکتب العلمیۃ، بيروت)

سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ما من مسلم أو إنسان، أو عبد يقول حين يمسي وحين يصبح: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، إلا كان حقا على اللہ أن يرضيه يوم القيامة" ترجمہ: کوئی مسلمان، انسان یا بندہ ایسا نہیں جو صبح و شام یہ پڑھے "رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا" مگر اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی فرمائے گا۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 757، رقم الحدیث 3870، دارابن کثیر، دمشق)

المعجم الكبير للطبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "من قال إذا أصبح: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، فأنا الزعيم لآخذ بيده حتى أدخله الجنة" ترجمہ: جو صبح کے وقت یہ پڑھے: "رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا" تو میں اس بات کا ضامن ہوں کہ میں اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے ضرور جنت میں داخل کروں گا۔ (المعجم الكبير للطبرانی، جلد 20، صفحہ 355، مطبوعہ: قاہرہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5369

تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ/02 ستمبر 2026ء