بیعت کو اہمیت دینے کی وجہ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیعت کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں بیعت کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ کیا اس کے بغیر کامل مسلمان نہیں بنا جا سکتا؟
جواب
اولاً یہ جان لیں کہ کسی جامع شرائط پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ایک امر مستحسن اور اولیاء و صالحین کا طریقہ، بلکہ ان کی عادتِ متوارثہ ہے، نیز بیعت کا ثبوت خود قرآن و حدیث سے ہے، اسی لیے علمائے کرام نے اسے اصل کے اعتبار سے سنت قرار دیا ہے۔ یہی بات اس کی اہمیت کے لیے کافی ہے، مگر اس کے علاوہ بھی کسی پیر کامل کی بیعت کرنے کے بہت سے دنیوی و اخروی فائدے ہیں، جو اہل نظر پر مخفی نہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
(۱) بیعت کے ذریعے آدمی کا سلسلہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہو جاتا ہے۔
(۲) خداوند قدوس کے نیک بندوں سے خصوصی نسبت قائم ہو جاتی ہے جو کہ فی نفسہ سعادت ہے۔
(۳) صوفیا و صالحین اور راہ سلوک پر چلنے والوں سے مشابہت حاصل ہوتی ہے اور اچھوں کی مشابہت کے اپنے فوائد ہیں۔
(۴) اللہ کے محبوب بندوں کی صحبت میسر آتی ہے، بلکہ ان کے غلاموں کے گروہ میں شمولیت ہوتی ہے جو کہ خوش بختی ہے۔
(۵) سلسلے کے مشائخ کرام اپنے متعلقین و مریدین سے غافل نہیں رہتے اور بعطائے الہی دنیا و آخرت میں ان کی فریاد رسی کرتے ہیں۔
(۶) مرشد کی رہنمائی اور اس کی تربیت سے ظاہری و باطنی احکامِ شریعت پر چلنے کا سلیقہ نصیب ہوتا ہے۔
(۷) سب سے بڑھ کر یہ کہ بیعت کی برکت سے قرب الہی پانے کی راہ آسان ہو جاتی ہے اور اس پر چلنے کے لیے رہبری حاصل ہوتی ہے۔ بلاشبہ راہِ سلوک اور معرفت کے دقائق بہت باریک اور یہ راستہ نہایت کٹھن ہے۔ جس طرح علم سیکھنے کے لیے ماہر استاد کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح نفس کی اصلاح اور شیطان کے مکائد سے بچنے کے لیے ایک کامل مرشد کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ تنہا اس راہ میں چلنے والا بھٹک جاتا ہے۔
اس سب کے علاوہ عام آدمی کے لیے مرشد کامل کی بیعت اس پُرفتن دور میں نت نئے فتنوں سے بچنے کا اور ایمان کی حفاظت کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور حفاظتِ ایمان ایک مسلمان کا اولین فرض ہے۔ یہ وجوہات ہیں جن کے باعث بیعت کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے جو کہ بجا ہے۔
رہا یہ کہ بغیر بیعت کے کامل مسلمان نہیں بنا جا سکتا، تو ایسا نہیں ہے، اگر کوئی مسلمان صحیح العقیدہ سنی ہے، گناہوں سے بچتا ہے، اپنے امام کی تقلید کرتا اور علمائے کرام کی تشریحات کے مطابق شریعت پر عمل کرتا ہے، تو وہ بیعتِ خاصہ کے بغیر بھی فلاح اور نجات پانے والا ہے کہ فلاح تقوی کے لیے اتنا کافی ہے، بلکہ ایسا شخص بے پیر بھی نہیں کہلائے گا؛ کیونکہ اس کا ہاتھ شریعتِ مطہرہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مرشدِ عام کلام اللہ، کلامِ رسول اور ائمہ دین ہیں، پس بیعت کے بغیر بھی آدمی شریعت پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر کامل مسلمان بن سکتا ہے۔ تاہم روحانی بالیدگی، نفس کے تزکیے اور کمالِ معرفت کے درجے تک پہنچنے کے لیے کسی مرشدِ خاص سے بیعت ہونا اور اس کی رہنمائی میں منازل سلوک طے کرنا فلاح احسان کے لیے نہایت اہم اور ممد و معاون ہے، بلکہ اس راہ پر چلنے والے کو اس کے بغیر چارہ نہیں۔
واضح رہے کہ فلاح تقوی سے مراد عذاب الہی سے بچ جانا اور فضل الہی سے جنت میں داخل ہونا ہے، جبکہ فلاح احسان سے مراد خاص ولایت الہی کا حاصل ہو جانا ہے جس کی جد و جہد اعلی درجے کا مطلوب و محبوب عمل ہے۔ نیز فلاح احسان، فلاح تقوی سے بر تر اور عظیم ہے۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ’’بے شک جو لوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘ (پارہ 26، سورۃ الفتح 48، آیت 10)
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/ 1971ء) لکھتے ہیں: ”(اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ) بزرگوں کے ہاتھ پر بیعت سنت صحابہ ہے، خواہ بیعت اسلام ہو یا بیعت تقوی یا بیعت توبہ یا بیعت اعمال وغیرہ۔“ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 816، فرید بک ڈپو لمیٹڈ، دھلی)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت35)
علامہ احمد بن عبد الرحیم شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1176 ھ / 1762ء) لکھتے ہیں: ”المراد بالوسيلة هي مبايعة المرشد“ ترجمہ: آیت میں وسیلہ سے مراد بیعت مرشد ہے۔ (القول الجميل في بيان سواء السبيل، صفحہ 10، مخطوطہ) (شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل، صفحہ 39، مطبوعہ لاھور)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”أقول: قرآن کریم کے لطائف لامتناہی ہیں، اس بیان سے آیۂ کریمہ: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جان لڑاؤ اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ ت)" کے مبارک جملوں کا حسن ترتیب واضح ہوا۔ یہ فلاح احسان کی طرف دعوت ہے، اس کے لیے تقوی شرط ہے تو اولا اس کا حکم فرمایا کہ ﴿اتَّقُوا اللّٰهَ﴾ (اللہ سے ڈرو۔ ت) "اب کہ تقوی پر قائم ہو کر راہ احسان میں قدم رکھنا چاہتا ہے اور یہ عادۃً بے وسیلہ شیخ ناممکن ہے، لہذا دوسرے مرتبہ میں قبل سلوک تلاش پیر کو مقدم فرمایا: ﴿وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ﴾ (اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ ت)" اس لیے کہ ’’الرفیق ثم الطریق‘‘ (پہلے ساتھی تلاش کرو پھر راستہ لو۔ ت) اب کہ سامان مہیا ہو لیا اصل مقصود کا حکم دیا کہ ﴿جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ﴾ اس کی راہ میں مجاہدہ کرو ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ تاکہ فلاح احسان پاؤ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 518، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اور شرف و برکت اتصال بمحبوبِ ذوالجلال علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پر بیعت سنت متوارثہ مسلمین ہے اور اس میں بے شمار منافع و برکت دین و دنیا و آخرت ہیں، بلکہ وہ ﴿وَابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ﴾ (اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ ت)" کے طرق جلیلہ سے ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 575، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”مرید ہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضور سید عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔ ...صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگر انتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں، جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں قبر میں حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 570، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”بیعت بیشک سنت محبوبہ ہے، امام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عوارف شریف سے شاہ ولی اللہ دہلوی کی قول الجمیل تک اس کی تصریح اور ائمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 586، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
امام ابو محمد عبد الوہاب بن احمد شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 973ھ/1565ء) لکھتے ہیں: ”ان أئمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم ويلاحظون أحدهم عند طلوع روحه وعند سؤال منكر ونكير له وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط ولا يغفلون عنهم في موقف من المواقف...كان مشايخ الصوفية يلاحظون مريدهم في جميع الأهوال والشدائد في الدنيا والآخرة“ ترجمہ: بے شک فقہا اور صوفیہ کے ائمہ سب اپنے مقلدین کے لیے شفاعت کرتے ہیں اور وہ ان (اپنے متعلقین) میں سے ایک ایک کی نگہبانی کرتے ہیں، اس کی روح نکلنے کے وقت، منکر و نکیر کے سوال ہونے کے وقت، نشر، حشر، حساب، میزان اور پل صراط (پر چلنے) کے وقت، اور وہ کسی بھی مرحلے میں ان سے غافل نہیں ہوتے۔ صوفیہ کے مشائخ اپنے مریدوں کا دنیا اور آخرت کی تمام ہولناکیوں اور سختیوں میں خیال رکھتے تھے۔ (الميزان الكبری، جلد 1، صفحہ 245، دار التقوی، دمشق)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”(بیعت برکت) مفید اور بہت مفید، اور دنیا و آخرت میں بکار آمد (کام آنے والی) ہے، محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھا جانا ان سے سلسلہ متصل ہو جانا فی نفسہٖ سعادت ہے۔ اولاً ان کے خاص غلاموں سالکانِ راہ سے اس امر میں مشابہت، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "من تشبہ بقوم فھو منھم" جو جس قوم سے مشابہت پیدا کر لے وہ انہی میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد)...ثانیاً ان غلامانِ خاص کے ساتھ ایک سلک میں منسلک ہونا، ’’بلبل ھمیں کہ قافیہ گل شود بس است‘‘ (بلبل کو یہی کہ پھول کی صحبت ہو کافی ہے۔ ت) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "ھم القوم لایشقی بھم جلیسھم" وہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔ (جامع ترمذی) ثالثاً محبوبان خدا آیۂ رحمت ہیں، وہ اپنا نام لینے والے کو اپنا کر لیتے ہیں اور اس پر نظر رحمت رکھتے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 507-508، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: ”مرید ہونے کے بہت سے فوائد ہیں، ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ سلسلہ کے بزرگانِ دین کی مرید پر خصوصی توجہ ہوتی ہے، جو مرید نہیں ہوتا وہ اس توجہ سے محروم رہتا ہے۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 236، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ پیری مریدی کا جو سلسلہ صدیوں سے رائج ہے، اس میں بہت سے دینی فوائد ہیں: (۱) تجدید ایمان ہو جاتا ہے، حدیث میں ہے: "جددوا ایمانکم" اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ (۲) گناہوں سے تو بہ ہو جاتی ہے، (۳) ان میں سے اکثر شریعت کے پابند ہو جاتے ہیں، (۴) کچھ اللہ کا نام لینے لگتے ہیں، (۵) اپنے شیخ کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے دینی کاموں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، (۶) عقیدہ میں پختہ ہو جاتے ہیں بد مذہبوں کے جال میں گرفتار نہیں ہوتے، (۷) بزرگان دین سے عقیدت بڑھ جاتی ہے جو بہت بڑی نعمت ہے، (۸) پیری مریدی کے رشتہ کی وجہ سے اپنے مرشد کی کم از کم زیارت کرتا رہتا ہے، دینی مقتداؤں کی زیارت اور خدمت بہت بڑی نعمت ہے، وغیر ذالک۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 238، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ /1921ء) لکھتے ہیں: ”صاف روشن کہ دقائق سلوک اور حقائق معرفت بے مرشد کامل خود بخود قرآن و حدیث سے نکال لینا کس قدر محال ہے! یہ راہ سخت باریک اور بے شمع مرشد نہایت تاریک ہے، بڑے بڑوں کو شیطان لعین نے اس راہ میں ایسا مارا کہ تحت الثّری تک پہنچا دیا، تیری کیا حقیقت کہ بے رہبر کامل اس میں چلے اور سلامت نکل جانے کا ادعا کرے۔ ائمہ کرام فرماتے ہیں: آدمی اگر چہ کتنا ہی بڑا عالم زاہد کامل ہو (مکاشفات و قربِ خاص کی راہ پر چلنے کے لئے) اس پر (طریقت کا) واجب ہے کہ ولی عارف کو اپنا مرشد بنائے بغیر اس کے ہرگز چارہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 463، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اس (فلاح تقوی) کے لیے مرشد خاص کی ضرورت باایں معنی نہیں کہ بے اس کے یہ فلاح مل ہی نہ سکے، یہ۔۔۔ فلاح ظاہر ہے، اس کے احکام واضح ہیں۔ آدمی اپنے علم سے یا علما سے پوچھ پوچھ کر متقی بن سکتا ہے، اعمال قلب میں اگر چہ بعض دقائق ہیں مگر محدود، اور کتب ائمہ مثل امام ابو طالب مکی و امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہما میں مشروح، تو بے بیعت بھی اس کی راہ کشادہ اور اس کا دروازہ مفتوح، یہ جب کہ اسی قدر پر اقتصار کرے۔۔۔اگر چہ کسی خاص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی ہو کہ یہ جس راہ میں ہے اس میں مرشد عام کے سوا مرشد خاص کی ضرورت ہی نہیں، تو جتنا پیر اسے درکار ہے حاصل ہے۔ فلاح تقوی بلا شبہ فلاح ہے، اگر چہ فلاح احسان اس سے اعظم و اجل ہے۔“ (ملخصاً فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 513-514، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”سنی صحیح العقیدہ کہ ائمۂ ہدی کو مانتا، تقلید ائمہ ضروری جانتا، اولیائے کرام کا سچا معتقد، تمام عقائد میں راہ حق پر مستقیم، وہ ہر گز بے پیر نہیں، وہ چاروں مرشدانِ پاک یعنی کلام خدا و رسول و ائمہ و علمائے ظاہر و باطن اس کے پیر ہیں، بلکہ اگر اسی حالت پر ہے تو مثل اور لاکھوں مسلمانان اہلسنت کے اس کا ہاتھ شریعت مطہرہ کے ہاتھ میں ہے، اگر چہ بظاہر کسی خاص بندۂ خدا کے دست مبارک پر شرف بیعت سے مشرف نہ ہوا ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 481-482، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”فلاح انسان کے لیے بے شک مرشد خاص کی حاجت ہے اور وہ بھی شیخ ایصال کی، شیخ اتصال اس کے لیے کافی نہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی بیعت ارادت ہو، بیعت برکت یہاں بس نہیں۔ اس راہ میں وہ شدید باریکیاں اور سخت تاریکیاں ہیں کہ جب تک کامل مکمل اس راہ کے جملہ نشیب و فراز سے آگاہ و ماہر حل نہ کرے، حل نہ ہوں گی، نہ کتب سلوک کا مطالعہ کام دے گا کہ یہ دقائق تقوی کی طرح محدود و معدود نہیں جن کا ضبط کتاب کر سکے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 516، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”أقول: بات یہ ہے کہ تقوی عموماً ہر مسلمان پر فرض عین ہے، اور اس فلاح یعنی عذاب سے رستگاری کے لیے بفضل الٰہی حسب وعدۂ صادقہ کافی و وافی، احسان یعنی سلوک راہ ِولایت اعلی درجے کا مطلوب و محبوب ہے مگر اس کی طرح فرض نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 514، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1196
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء