logo logo
AI Search

سودی لین دین کرنے والی کمپنی کا ٹیکس ریٹرن فائل کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سودی کام کرنے والی کمپنی کا ٹیکس ریٹرن فائل کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایسی فرم میں جاب کرتا ہوں جہاں میرا کام ٹیکس ریٹرن فائل بنا کر دینا ہوتا ہے، اسی کا مجھے معاوضہ ملتا ہے۔ اب میرے پاس ایسی کمپنیز کی فائلز بھی آتی ہیں جو سودی لین دین نہیں کرتیں، لیکن اس کے برعکس بعض اوقات ایسی کمپنیز کی فائلز بھی آجاتی ہیں جو کہ جزوی طور پر سود کا لین دین کرتی ہیں لیکن اصل کام جائز ہی ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ میرا اُن کمپنیز کے سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، میرا کام تو فقط کمپنی کی ٹیکس ریٹرن فائل بنا کر دینا ہوتا ہے۔ آپ سےمعلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میرا اُس فرم میں جاب کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا سودی کام سے براہ راست تعلق نہیں ہے ۔اگر ایسی کمپنی کے ٹیکس ریٹرن تیار کرتے ہیں جس کی جزوی آمدنی سود کی بھی ہے تو آپ اس کے سودی کام کے گناہ میں شریک نہیں کہلائیں گے کیونکہ کمپنی کے ان معاملات کا براہِ راست آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے آپ کا اُس فرم میں جاب کرنا شرعاً جائز ہے۔ کیونکہ آپ کا بنیادی کام تو فقط کمپنی کی آمدنی کا جائزہ لینے، اس کے ڈاکومنٹس کی جانچ وغیرہ کرنے اور اسی کی بنیاد پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے تک محدود ہے، لہٰذا ان تمام کاموں میں کہیں بھی کسی سودی معاملے میں براہِ راست آپ کی معاونت نہیں پائی جارہی۔ اب جو کمپنیز سود کا لین دین کرتی بھی ہیں تو اُن کا وبال آپ پر نہیں آئے گا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اُٹھائے گی۔(پارہ22،سورۃ فاطر،آیت 18)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر نسفی میں ہے: ” ولا تحمل نفس آثمة إثم نفس أخرى“ یعنی کوئی گنہگار جان کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔(تفسیر نسفی،جلد03، صفحہ 83، مطبوعہ دار الکلم الطیب)

کسی گناہ کے کام پر معاونت نہ پائی جائے، تو ملازمت کرنا ، جائز اور جب تک معاوضہ میں ملنے والی رقم کا سودی مد سے ہونا متعین نہ ہو تو اس کا لینا بھی جائز ہے ۔ جیساکہ امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:’’ اگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہے، تنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہٖ سود میں آیا ہو نہ لے، اورمخلوط ونامعلوم ہو تو لے سکتاہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 522، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقار الفتاویٰ میں ہے: ” جن ملازمین کو سود لکھنا نہیں پڑتا مثلاً دربان اور ڈرائیور وغیرہ تو ان کی ملازمت بھی جائز ہے اور تنخواہ بھی۔ “(وقار الفتاوی، جلد 03، صفحہ 325،بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-634

تاریخ اجرا: 26 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ/21جون 25 20ء