logo logo
AI Search

ایک کا سرمایہ، دونوں کا کام اور نفع کی تقسیم کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سرمایہ ایک شریک کا اور کام دونوں کا اور دکان کا کرایہ 5 فیصد نفع ہوگا، اس ڈیل کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر پیزا(pizza) کے کام کے لئے پارٹنرشپ کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں مکمل سرمایہ زید کا ہوگا، کام زید اور بکر دونوں کریں گے، حاصل ہونے والا نفع دونوں آدھا آدھا تقسیم کر لیں گے ۔ زید اور بکر اس کام کے لئے خالد سے ایک دکان کرایہ پر لینا چاہتے ہیں لیکن خالد دکان کا ایک متعین کرایہ طے کرنے کے بجائے اس کاروبار کے مجموعی نفع کے پانچ فیصد کا مطالبہ کر رہا ہے۔اب سوال یہ ہےکیا زید اور بکر کا یہ معاہدہ درست ہے؟اور کیا دکان کے کرایہ کے طور پر خالد کو کاروبار کے نفع کا پانچ فیصد دینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

بیان کردہ معاہدہ شرعی اصولوں کے تحت درست نہیں ؛ کیونکہ سرمایہ کی بنیاد پر جو شرکت کی جاتی ہے اس میں تمام شرکاء کا سرمایہ شامل کرنا ضروری ہے، ہاں سرمایہ کم زیادہ ہوسکتا ہے۔ اگر سرمایہ ایک فریق کی جانب سے ہو اور کام دوسرے فریق کی جانب سے ہو تو شرعی اصطلاح میں اسے مضاربت کہتے ہیں ، اس میں یہ شرط لگانا، جائز نہیں کہ سرمایہ لگانے والا کام کرے گا۔

صورتِ مسئولہ نہ تو شرکت کے اصولوں کے تحت درست ہے کہ سب کی طرف سے سرمایہ نہیں اور نہ ہی مضاربت کے اصولوں کے تحت درست ہے کہ سرمایہ لگانے والے کا کام کرنا بھی طے کیا گیا ہے۔ اور خالد نے جو دکان اس شرط پر دینے کا مطالبہ رکھا ہےکہ کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع کا پانچ فیصد مجھےدیا جائے گا ، یہ بھی درست نہیں ، یہ اجارہ فاسدہ کی صورت ہے،کیونکہ یہاں دکان کا کرایہ مجہول ہے، معلوم نہیں کہ کاروبار سے نفع کتنا ہوگا ،یا پھر ہوگا بھی کہ نہیں ، یوں اجارہ فاسد ہوگا جوکہ ناجائز و گناہ ہے۔

اس کا درست طریقہ کار یہ ہے کہ تینوں افراد رقم ملائیں اگرچہ کوئی کم اور کوئی زیادہ ملائے، اگر کسی کے پاس رقم نہ ہو تو وہ کسی سے یا پارٹنر سے قرض لے کر رقم شامل کر لےاور یہ قرض کی رقم واپس کرنا لازم ہوگا، چاہے شرکت میں نفع ہو یا نقصان۔اور تینوں نفع فیصد کے اعتبار سے طے کریں ، نفع برابر برابر یا کم زیادہ طے کرسکتے ہیں ، البتہ اگر کوئی شریک کام نہیں کرے گا تو اس کا نفع سرمائے کے تناسب سے زیادہ مقرر نہیں کیا جا سکتا، نیز نقصان ہر فریق پر اس کی لگائی ہوئی انویسٹمنٹ کی فیصد کے حساب سےلازم آئے گا۔

رہی بات دکان کی تو دکان باہمی رضا مندی سے متعین ماہانہ کرایہ طے کر کے کرایہ پر لےلی جائے ۔ یہ کرایہ دیگر اخراجات کی طرح شرکت کے مال سے ادا کیا جائے ۔

رب المال کے مضارب کے ساتھ کام کرنے کی شرط سے مضاربت فاسد ہوجاتی ہےجیساکہ درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: ”ان شرطا ان يعمل المالك مع المضارب فسدت المضاربة“ یعنی اگر یہ شرط کی کہ مالک بھی مضارب کے ساتھ کام کرے گا تو مضاربت فاسد ہوگی۔ (درر غرر، جلد 2، صفحہ 311، مطبوعہ دار احياءالکتب العربیۃ)

نفع کے بدلے دکان کرایہ پر دینا جائز نہیں جیساکہ محیط میں ہے : ’’ولو استأجر حانوتا بنصف ما يربح فيه فالإجارة فاسدة، وكان على المستأجر أجر مثل الحانوت، وإنما فسدت الإجارة أما؛ لأن ما يربح مجهول؛ أو لأنه جعل الأجر بعض ما يحدث من عمله، فيكون في معنى قفيز الطحان‘‘ یعنی: اگر کسی نے دکان کو دکان کے آدھے نفع کے بدلے اجرت پر لیا تو اجارہ فاسد ہے، اور مستاجر پر دکان کی اجرت مثل لازم ہو گی ،اور اجارہ یا تو اس لئے فاسد ہوگا کہ حاصل ہونے والا نفع مجہول ہے ،یا اس لئے کہ مستاجر جو عمل کرے گا اس کا کچھ حصہ اجرت مقرر کیا جارہا ہے ،تو یہ قفیز طحان کے معنی میں ہو گا۔ ( المحيط البرهاني،جلد7،صفحہ 473،مطبوعہ بیروت)

شرکت بالمال میں سارے شرکاء کا مال ملانا ضروری ہے جیساکہ درر الحکام میں ہے: ”يجب في شركة الأموال أن يكون لجميع الشركاء رأس مال“ یعنی:شرکتِ مال میں ضروری ہے کہ تمام شرکا کی طرف سے راس المال ہو۔(درر شرح مجلۃ ، جلد 3، صفحہ366، دار الجیل )

ایک کا مال ہو اور دونوں اس کے ذریعہ کام کریں، جائز نہیں، اس کی جوازی صورت کے حوالہ سے فتاوی عالمگیری میں ہے: ”لو كان مع أحدهما مال ولا مال مع الآخر فاشتركا على أن يعملا بمال صاحب المال لا يجوز والحيلة في ذلك أن يقرض صاحب المال بعض ماله صاحبه حتى يجوز“ یعنی:اگر ایک کے پاس مال ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو اور دونوں یوں شرکت کریں کہ دونوں مال والے کی رقم سے ہی مل کر کام کریں گے تو یہ جائز نہیں۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مال والا اپنے مال میں سے اپنے پارٹنر کو کچھ رقم قرض دے دے تب یہ جائز ہوجائےگا۔ (الفتاوى الهندية، جلد 6، صفحه 405، مطبوعه مصر)

شریک شخص کا ذاتی دکان شرکت میں کرایہ پر دینا جائز ہے جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”وكل ما لا يستحق الأجرة بغير إيقاع العمل في المال المشترك فالإجارة جائزة مثل أن يستأجر منه دارا ليحرز فيها الطعام أو سفينة أو جوالق أو رحى قال فخر الدين قاضي خان الفتوى على ما ذكر في العيون والقدوري“ یعنی:جہاں اجرت کا استحقاق مالِ مشترک میں بغیر عمل كئے نہ ہوتا ہو وہاں اجارہ جائز ہوتا ہے، مثلا شریک سے گھر کرایہ پر لیا تاکہ اس میں غلہ رکھے یا كشتی یا بوریاں یا چکی کرایہ پر لی۔ امام فخر الدین قاضی خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ فتوی اسی پر جو قدوری اور عیون میں مذکور ہے۔ (الفتاوى الهندية، جلد 4، صفحه 457، مطبوعه مصر)

شرکت میں نفع نقصان کے حوالہ سے بہارِ شریعت میں ہے:”نفع میں کم و بیش کے ساتھ بھی شرکت ہو سکتی ہے مثلاً ایک کی ایک تہائی اور دوسرے کی دو تہائیاں اور نقصان جو کچھ ہو گا وہ راس المال کے حساب سے ہو گا، اس کے خلاف شرط کرنا باطل ہے مثلاً دونوں کے روپے برابر برابر ہیں اور شرط یہ کی کہ جو کچھ نقصان ہو گا اُس کی تہائی فلاں کے ذمہ اور دو تہائیاں فلاں کے ذمہ، یہ شرط باطل ہے اور اس صورت میں دونوں کے ذمہ نقصان برابر ہوگا۔“(بہارِ شریعت، جلد 2، صفحہ 491، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-725

تاریخ اجرا: 26ربیع الآخر1447ھ/20 اکتوبر2025ء