logo logo
AI Search

دکان ایک کی محنت دوسرے کی کیا یہ شراکت جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک طرف سے دکان دوسری طرف سے محنت کے ساتھ شرکت کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بھائی موٹر سائیکل مکینک ہے ، میں نے اپنے بھائی کے ساتھ پارٹنرشپ کا یوں معاہدہ کیا کہ میری ایک دکان ہے تم اس میں بیٹھ کر بائیک مکینک کا کام کرو، اس کے اوزار بھی تمہارے پاس ہیں اور تم یہ کام کرنا بھی جانتے ہو۔ میں نہ ہی تمہارے کام میں کسی قسم کی کوئی مداخلت کروں گانہ ہی تمہارے ساتھ کام کروں گا البتہ ہر مہینے کے آخر میں ہم حساب کتاب کریں گے، دکان کے اخراجات جیسے بجلی کا بل وغیرہ نکال کر جو بچے گا، اس کا 30 فیصد نفع میں لے لوں گا اور 70 فیصد نفع تم لے لینا۔ میرا بھائی بھی اس پر راضی ہوگیا اور ہم نے یہ کام شروع کردیا ۔اس کام کو شروع کئے ہوئے تقریباًابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ ہمیں کسی نے بتایا ہے کہ اس انداز پر پارٹنرشپ کرنا تو جائز نہیں ہے، آپ چاہو تو اس پرشرعی رہنمائی لے لو۔

آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا واقعی ہماری یہ پارٹنر شپ ناجائز طریقے پر تھی؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا کوئی جائز حل بھی ارشاد فرما دیں۔

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق دو لوگوں کا اس طرح شرکت کرنا کہ ان میں سے ایک شخص کی جانب سے کسی چیز مثلاً سواری یا دکان کی منفعت ہو اور دوسرا اس چیز کے ذریعے لوگوں کو سروس فراہم کرےاور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا نفع طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوجائے، یہ شرکتِ فاسدہ کی صورت ہےاور ایسی شرکت کرنا شرعاً جائز نہیں۔

پوچھی گئی صورت میں چونکہ ایک جانب سے دکان کی منفعت اور دوسری جانب سے عمل ہے،تو یہ بھی شرکتِ فاسدہ ہی کی صورت ہے، لہٰذافریقین پر لازم ہے کہ اس ناجائز معاہدے کو ختم کرکے اس گناہ سے توبہ کریں۔ ایک مہینے میں آپ کے بھائی نے اس دکان میں جو کام کیا ہے اُس سے حاصل ہونے والا سارا نفع آپ کے بھائی کا ہے اور دکان کے بل وغیرہ کے اخراجات بھی آپ کے بھائی پر آئیں گے۔ ہاں! آپ کو دکان کی ایک ماہ کی اجرتِ مثل یعنی واجبی کرایہ ملے گا۔

اس کا جائز ایک حل یہ ہے کہ آپ اپنی دکان بھائی کو ماہانہ طے شدہ کرایہ پر دے دیں۔ اس صورت میں کام سے ہونے والا سارا نفع و نقصان آپ کے بھائی کا ہی ہوگا۔ آپ کو دکان کا طے شدہ کرایہ ملے گا۔

دوسرا حل یہ ہے کہ آپ اپنے کام نہ کرنے کی شرط ختم کردیں اور یہ معاہدہ کریں کہ آپ بھی ا س کے ساتھ کچھ نہ کچھ کام کریں گے ، ایسی صورت میں شرکتِ عمل پائی جائے گی اور شرکتِ عمل کے اصولوں کی روشنی میں مطلوبہ مقاصد کے تحت یہ معاہدہ جائز ہوسکتا ہے۔

اپنا جانور دوسرے کو دیا کہ کام میں استعمال کرو ، جو نفع ہوگا آدھا آدھا تویہ شرکت ناجائز ہوگی ،اس صورت میں نفع عامل کا ہوگا اور جانور کے مالک کو اس کی اجرتِ مثل ملے گی۔ جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے: ”اذا دفع الرجل الی رجل دابة ليعمل عليها ويؤاجرها على أن ما رزق اللہ تعالى من شیء، فهو بينهما، فإن أجر العامل الدابة من الناس وأخذ الأجر، كان الأجر كله لرب الدابة، وللعامل أجر مثل عمله. و إن كان لا يؤاجر الدابة من الناس وإنما يتقبل الأعمال من الناس ثم يستعمل الدابة في ذلك، فإن الأجر يكون للعامل و على العامل أجر مثل الدابة هكذا في المحيط“ ترجمہ: ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنا جانور دیا تاکہ اس پر کام کرے اور اسے کرایہ پر دے، اس شرط پر کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی رزق دے، وہ ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ اگر کام کرنے والا لوگوں کو صرف جانور کرایہ پر دے اور اجرت لے، تو وہ پوری اجرت جانور کے مالک کی ہو گی، اور عامل کو اس کے اپنے کام کی اجرت مثل ملے گی۔ اور اگر وہ لوگوں کو جانور کرایہ پر نہیں دیتا، بلکہ وہ لوگوں سے کام وصول کرتا ہے پھر اس کام میں جانور کو استعمال کرتا ہے، تو وہ اجرت عامل کی ہو گی، اور عامل پر جانور کی اجرتِ مثل لازم ہو گی، اسی طرح محیط میں ہے ۔(فتاوی ہندیہ ، جلد 04 ، صفحہ 503 ،دار الکتب العلمیہ،بیروت)

الذخیرۃ البرہانیہ میں اس مسئلہ کی علت بیان کرتے ہوئےفرمایا: ”لانہ اذا تقبل الاعمال من الناس فما یاخذ من الاجر یکون بدل عملہ لا بدل منافع دابتہ۔۔۔فیکون لہ وعلیہ اجر مثل الدابۃ لانہ استعمل دابۃ الغیرباذنہ ببدل مجہول ترجمہ:کیونکہ جب عامل لوگوں سے کام وصول کرے گا تو حاصل ہونے والی اجرت اس عامل کے عمل کا بدلہ ہوگی نہ کہ جانور کے منافع کا عوض لہٰذا نفع عامل کا ہوگا اور عامل پر جانور کی اجرتِ مثل لازم ہوگی کیونکہ اس نے دوسرے کے جانور کواس کی اجازت سے مجہول عوض کے بدلے استعمال کیا ہے۔ (الذخیرۃ البرہانیہ ،جلد 11، صفحہ 513 ،دار الکتب العلمیہ،بیروت، ملتقطا)

دکان کے نفع میں شرکت کاحکم سواری کے نفع میں شرکت کرنے کی طرح ہے چنانچہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ’’والدكان كالدابة“ ترجمہ: دکان (کے نفع میں شرکت کاحکم) سواری( کے نفع میں شرکت کرنے) کی طرح ہے۔ (مجلۃ الاحکام العدلیہ ، صفحہ 257 ،مطبوعہ کراچی)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں:’’ یوں(شرکت) ہوئی کہ ایک کے اوزار ہوں گے اور دوسرا کام کریگا تو یہ شرکت ناجائز ہے۔‘‘(بہارِ شریعت ، جلد 02 ، صفحہ 509 ، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-690

تاریخ اجرا: 21صفرالمظفر1447ھ/16اگست2025ء