مال مضاربت کی زکوٰۃ کس پر لازم ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مال مضاربت کی زکوۃ کون دے گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو افراد نے مل کر پارٹنر شپ کی ہے، ایک شخص بطور ورکنگ پارٹنر کام کرتا ہے جبکہ رقم ساری دوسرے پارٹنر کی ہے، کام صرف ورکنگ پارٹنر ہی کرتا ہے، نفع نقصان آدھا آدھا کرتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مال کی زکوۃ ورکنگ پارٹنر پر لازم ہوگی یا انویسٹر پر؟ یا دونوں پر؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں، شرائطِ زکوٰۃ پائے جانے کی صورت میں، انویسٹر پر اصل سرمایہ،اپنے حصے کے نفع ، مال مضاربت سے خریدی گئی وہ چیزیں جس کو کام کے لئے بطور آلہ خریدا گیا ، ان سب کی زکوٰۃ لازم ہوگی ، جبکہ ورکنگ پارٹنر پر صرف اپنے نفع کے حصے کی زکوٰۃ لازم ہے جبکہ شرائط پائی جائیں ۔
یاد رہے کہ مضاربت میں مضارب(ورکنگ پارٹنر) پر نقصان کی شرط لگانا باطل ہے، اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں، اگر مضارب کی طرف سے تعدی(کوتاہی) نہ پائی جائے تو سارا نقصان انویسٹر کو برداشت کرنا ہوگا۔
مبسوط للسرخسی میں ہے: ’’واما مال المضاربة فعلى رب المال زكاة راس المال، وحصته من الربح، وعلى المضارب زكاة حصته من الربح‘‘ یعنی:جہاں تک مال مضاربت کی زکوۃ لازم ہونے کا مسئلہ ہے تو اس کا حکم یہ ہے رب المال پر راس المال اور اس کے حصے کے نفع کی زکوۃ لازم ہوگی اور مضارب پر اس کے حصے کے نفع کی زکوۃ لازم ہوگی۔(المبسوط للسرخسى،جلد2،صفحہ204،مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
محیط رضوی و فتاوی عالمگیری میں ہے: واللفظ للاول:’’اشترى بالف المضاربة جارية تساوى الفين فحال الحول ولامال لهما غير ذلك فعلى رب المال زكاة ثلاثة ارباع الجارية؛ لانه ملك ثلاثة ارباعها الف راس ماله وخمسمائة حصته من الربح وعلى المضارب زكاة الربع؛ لانه حصته من الربح ‘‘ یعنی:مال مضاربت کے ایک ہزار درہم کی ایک باندی خریدی جس کی مالیت دوہزار تھی، زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر رب المال اور مضارب کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تو رب المال پر باندی کی تین چوتھائی کی مقدار پر زکوۃلازم ہے کیونکہ وہ باندی کے اتنے حصے کا ہی مالک ہے،ہزار اس کی اصل انویسٹمنٹ اور پانچ سو نفع میں اس کا حصہ ہے جبکہ مضارب پر ایک چوتھائی کی زکوۃ لازم ہوگی کیونکہ اس کا نفع میں اتنا ہی حصہ ہے۔(المحيط الرضوى،جلد6،صفحہ248،مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
بہارِ شریعت میں ہے :”مضارب مالِ مضاربت سے جو کچھ خریدے، اگرچہ تجارت کی نیّت نہ ہو، اگرچہ اپنے خرچ کرنے کے لیے خریدے،اس پر زکاۃ واجب ہے یہاں تک کہ اگر مالِ مضاربت سے غلام خریدے پھر ان کے پہننے کو کپڑا اور کھانے کے لیے غلّہ وغیرہ خریدا تو یہ سب کچھ تجارت ہی کے لیے ہیں اور سب کی زکاۃ واجب۔ “ ( بہارشریعت،جلد 1،صفحہ 884، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-0527
تاریخ اجرا: 21رمضان المبارک 1446ھ /22مارچ 2025ء