logo logo
AI Search

حضرت عمر کا حضرت علی کی بیٹی سے نکاح کا ثبوت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت عمر فاروق کے حضرت علی رضی اللہ عنھما کی بیٹی سے نکاح کا ثبوت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا ہے، یہ عقیدہ رکھنا درست ہے؟

جواب

جی ہاں، یہ بات درست ہےکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا ہے۔ چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے "عن معمر، عن أيوب، عن عكرمة قال: تزوج عمر بن الخطاب أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، و هي جارية تلعب مع الجواري، فجاء إلى أصحابه فدعوا له بالبركة، فقال: إني لم أتزوج من نشاط بي، و لكن سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: «‌إن كل سبب و نسب منقطع يوم القيامة إلا سببي و نسبي»، فأحببت أن يكون بيني، و بين نبي اللہ صلى اللہ عليه و سلم سبب و نسب" معمر نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدتنا ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہما سے نکاح کیا، جبکہ وہ کم عمر لڑکی تھیں، جو دوسری لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اصحاب کے پاس آئے، تو انہوں نے انہیں برکت کی دعا دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے یہ نکاح کسی خاص رغبت کی بنا پر نہیں کیا، بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے سبب اور میرے نسب کے۔ لہٰذا میں نے پسند کیا کہ میرے اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے درمیان بھی سبب اور نسب قائم ہو جائے۔ (مصنف عبدالرزاق، ج 06، ص 163، مطبوعہ: بیروت)

سير أعلام النبلاء میں ہے أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب الهاشمية ابن عبد المطلب بن هاشم الهاشمية، شقيقة الحسن و الحسين. ولدت: في حدود سنة ست من الهجرة، و رأت النبي صلى اللہ عليه و سلم و لم ترو عنه شيئا. خطبها عمر بن الخطاب و هي صغيرة، فقيل له: ما تريد إليها؟ قال: إني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: (كل سبب و نسب منقطع يوم القيامة إلا سببي و نسبي) ترجمہ: اُمِّ کلثوم بنتِ علی بن ابی طالب ہاشمیہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما کی حقیقی بہن تھیں، ان کی ولادت 6 ہجری میں ہوئی، انہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، البتہ انہوں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کوئی روایت نقل نہیں کی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے کم سنی کے زمانے میں ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، لوگوں نے عرض کیا: آپ ان سے نکاح کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے سبب اور میرے نسب کے۔ (سير أعلام النبلاء، جلد 3، صفحہ 500، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5105
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء