logo logo
AI Search

ولیمے میں جانور ذبح کرنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا ولیمے میں جانور ذبح کرنا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عقیقہ کی طرح ولیمہ میں بھی جانور ذبح کرنا ضروری ہے یا بغیر جانور ذبح کیے دیگر کھانوں کے ساتھ بھی ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی؟ اور جو حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ: ”ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔“ کیا اس سے ولیمہ میں جانور ذبح کرنے کا ضروری ہونا ثابت نہیں ہوتا؟ اس حدیث شریف کی وضاحت بھی فرمادیں۔

جواب

ولیمہ میں جانور ذبح کرنا یا گوشت کے ساتھ دعوت کرنا ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی کھانے کی چیز سے ولیمہ کیا جا سکتا ہے۔ خود رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم نے اپنی متعدد ازواجِ مطہرات کے ولیموں میں جانور ذبح نہیں فرمایا، بلکہ جو کھانے کی چیزیں اس وقت میسر تھیں، انہی سے دعوتِ ولیمہ فرمائی۔ اسی طرح حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کا ولیمہ بھی جانور ذبح کیے بغیر عام کھانوں کے ساتھ ہوا۔

باقی حدیث شریف میں یہ ارشاد آیا ہے کہ: ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو تو اس میں بکری کا ذکر وجوب کے طور پر نہیں، بلکہ یہ فرمان چونکہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم نے اپنے پیارے صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہُ عنہ سے فرمایا تھا، تو یہ ان کی خوش حالی اور مالی استطاعت کے پیشِ نظر تھا، کیونکہ وہ بکری ذبح کرنے کی قدرت رکھتے تھے اور یہ ان کے لیے دشوار نہ تھا۔ اسی بنا پر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے مطابق کرنا مستحب ہے۔ نیز صاحب استطاعت کے لیے بالخصوص گوشت سے دعوت کرنا مستحب ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء