logo logo
AI Search

نکاح پڑھانے کا کیا طریقہ ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح پڑھانے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

نکاح پڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟ تفصیلاً بیان کردیجئے۔ نیز بعض علما کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نکاح سے قبل کلمے اور استغفار وغیرہ پڑھاتے ہیں، کیا نکاح سے پہلے کلمے یا استغفار پڑھنا درست اور ضروری ہے؟

جواب

عام طور پرہمارے یہاں لڑکا لڑکی خود ایجاب و قبول نہیں کرتے، بلکہ نکاح خواں یہ کام سرانجام دیتے ہیں، اور عموما مجلس نکا ح میں لڑکی موجود نہیں ہوتی، بلکہ کمرے میں ہوتی ہے، لہذا پہلے تو نکاح خواں کے نام کی لڑکی سے وکالت لے لی جائے، کہ: کیا فلاں بن فلاں بن فلاں کو فلاں بن فلاں بن فلاں کے ساتھ اتنے مہر پر اپنے نکاح کا وکیل کیا۔؟ عورت کہہ دے جی ہاں۔

(نوٹ: اگر دادا کے نام کے بغیر بھی لڑکی کو نکاح خواں کی، اور لڑکے کی پہچان ہوجائے، تو دادا کا نام لینا ضروری نہیں، اور اگر دادا کا نام لیے بغیر امتیاز اور پہچان حاصل نہ ہو، تو پھر جس کی پہچان دادا کا نام لیے بغیر نہ ہوگی، اس کے ساتھ، اس کے دادا کا نام ذکر کرنا ضروری ہے۔ یہی تفصیل باپ کا نام لینے میں بھی ہے، کہ جس کی پہچان باپ کا نام لیے بغیر بھی ہوجائے، تو اس کے ساتھ باپ کا نام لینا بھی ضروری نہیں، ورنہ ضروری ہے۔)

پھرپہلے خطبہ پڑھا جائے کہ یہ مستحب ہے، پھر نکاح خواں کم ازکم دو مسلمان مردوں یا ایک مسلمان مرداور دو مسلمان عورتوں کی موجودگی میں دولہا سے یوں کہے: میں نے مذکورہ گواہوں کی موجودگی میں اپنی مؤکلہ فلانہ بنت فلاں بن فلاں (ہندہ بنت زید بن بکر) کا اتنے حق مہر کے بدلے میں تجھ سے نکاح کیا، یا اسے تیرے نکاح میں دیا۔ لڑکا کہے: میں نے قبول کیا۔ اوریہ ایجاب و قبول ایک وقت میں تمام گواہ سن اور سمجھ لیں، تو نکاح درست ہوگیا۔

(نوٹ: یہاں بھی لڑکی کی پہچان، لڑکے یا گواہوں میں سے کسی کو دادا کے نام کے بغیر نہ ہو، تو پھر دادا کا نام لینا ضروری ہے، اور اگر لڑکے اور گواہوں سب کو لڑکی کی پہچان اس کے دا دا کا نام لیے بغیر ہوجائے، تو اب دادا کا نام لینا ضروری نہیں ہے۔ نیز یہی تفصیل باپ کا نام لینے میں بھی ہے، کہ اگر لڑکی کی پہچان، لڑکے اور گواہوں، سبھی کو باپ کا نام لیے بغیر بھی ہوجائے، تو اب لڑکی کے نام کے ساتھ اس کے باپ کا نام لینا بھی ضروری نہیں، ورنہ ضروری ہے۔)

اور جہاں تک نکاح کے وقت کلمے اور استغفار پڑھانے کا معاملہ ہے، تو یاد رہے کہ نکاح پڑھانے سے قبل کلمے یا استغفار وغیرہ پڑھانا اگرچہ ضروری نہیں کہ ان کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے۔ البتہ نکاح کے وقت کلمے پڑھنا مستحسن عمل ہے کہ ان کلمات میں اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر ہے، اور ان کا ذکر نزولِ برکات کا سبب ہے، خصوصاً اس اہم موقع پر ویسے ہی حصولِ برکت و سلامتی کے لئے کثرت سے ذکر کرنا مناسب ہے کہ اب سے دونوں کی نئی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے، اور اس کا آغاز اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بابرکت نام سے کرنا نیک فال ہے۔ نیز اس کے علاوہ زبان کی بے احتیاطی اور شرعی معلومات سے دوری کی بناء پر ممکن ہے کہ انسان سے کوئی ایسی بات صادر ہوجائے جو ایمان کے منافی ہو، لہذا تجدید ایمان کے طور پر کلمہ و استغفار پڑھانا بہتر ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ اگر دولہا کو کلمے یاد ہیں اور بھرے مجمع میں وہ پڑھ سکتا ہے تو پڑھ دے ورنہ بھری محفل میں اس کو شرمندگی سے بچانے کے لئے نکاح خواں اسے پڑھاتا جائے۔

نوٹ: نکاح کی شرائط اور نکاح کے حوالے سے دیگر مفید معلومات جاننے کے لیے بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7 کا مطالعہ کیجئے۔

بغیر گواہوں کے نکاح نہ ہونے کے متعلق حدیث پاک میں ہے ”‌لانكاح إلا بولى و شاهدين“ ترجمہ: ولی اور دو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ (کنز العمال، کتاب النکاح، الباب الرابع، جلد 16، صفحہ 308، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

ہدایہ میں ہے ”ان الشھادۃ شرط فی باب النکاح ، لقولہ علیہ السلام: لا نکاح الا بشھود“ ترجمہ: نکاح کے معاملہ میں گواہ ہونا شرط ہے، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا۔ (الھدایۃ مع البنایۃ، کتاب النکاح، جلد 4، صفحہ 491، مطبوعہ: کوئٹہ)

ردالمحتارمیں ہے "و ان کانت غائبۃ و لم یسمعوا کلامھا بان عقد لھا وکیلھا فان کان الشھود یعرفونھا کفی ذکر اسمھا اذا علموا انہ ارادھا وان لم یعرفوھا لابد من ذکر اسمھا و اسم ابیھا وجدھا" ترجمہ: اگر عورت غائب ہو اور گواہوں نے اس کا کلام نہ سنا اس طرح کہ اس کے وکیل نے اس کا عقد کیا تو اگر گواہ اس عورت کو پہچانتے ہوں اور یہ معلوم ہو کہ وکیل کی مراد وہی عورت ہے تو اس کا نام ذکر کرنا ہی کفی ہے اور اگر گواہ اسے نہ پہچانتے ہوں تو اس عورت کا، اس کے با پ کا اور دادا کا نام ذکر کرنا ضروری ہے۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 98، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے پس اگر بحالتِ غیبت صرف بنتِ عمی یا فلانۃ یا بنتِ عمی فلانۃ یا ان کے مثل جس لفظ سے شہود اسے متمیز کرلیں تو اس قدر کافی، ورنہ ذکرِ اب وجد یعنی فلانہ بنتِ فلاں بن فلاں کہنا ضروری ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 112، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے یعنی کہیں تونے فلاں بن فلاں بن فلاں کوفلاں بن فلاں بن فلاں کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کا وکیل کیا ۔ ۔ ۔ دُلھن کہے ہُوں (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 153، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الفاظ نکاح کے متعلق بہار شریعت میں ہے ایجاب و قبول یعنی مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دیا۔ دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ یہ نکاح کے رکن ہیں۔ پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں۔ ۔ ۔ ایجاب و قبول میں ماضی کا لفظ ہونا ضروری ہے، مثلاً یوں کہے کہ میں نے اپنا یا اپنی لڑکی یا اپنی موکلہ کا تجھ سے نکاح کیا یا اِن کو تیرے نکاح میں دیا، وہ کہے میں نے اپنے ليے یا اپنے بیٹے یا مؤکل کے ليے قبول کیا یا ایک طرف سے امر کا صیغہ ہو دوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً یوں کہ تو مجھ سے اپنا نکاح کر دے یا تو میری عورت ہو جا، اُس نے کہا میں نے قبول کیا یا زوجیت میں دیا ہو جائے گا یا ایک طرف سے حال کا صیغہ ہو دوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً کہے تُو مجھ سے اپنا نکاح کرتی ہے اُس نے کہا کیا تو ہوگيا یا یوں کہ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں اُس نے کہا میں نے قبول کیا تو ہو جائے گا، اِن دونوں صورتوں میں پہلے شخص کو اس کی ضرورت نہیں کہ کہے میں نے قبول کیا۔ اور اگر کہا تُو نے اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دیا اُس نے کہا کر دیا یا کہا ہاں تو جب تک پہلا شخص یہ نہ کہے کہ میں نے قبول کیا نکاح نہ ہوگا اور ان لفظوں سے کہ نکاح کروں گا یا قبول کروں گا نکاح نہیں ہوسکتا۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 6، 7، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہارِ شریعت میں نکاح کے مستحبات بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 5، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نکاح کے لیے دو مردوں یا ایک مرد دو عورتیں گواہ ہونا لازم ہے، صرف ایک مرد کے سامنے ایجاب و قبول کرلینے سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (فتاویٰ رضویہ، کتاب النکاح، جلد 11، صفحہ 294، 295، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نکاح میں کلمے وغیرہ پڑھانے کے حوالے سے امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: زید کہتا ہے کہ متناکحین بالغین کو بوقت نکاح کلمے اور صفت ایمان مجمل و مفصل پڑھانا بہت ضرور و بہتر ہے، اس کو کرنا چاہئے، شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی قدس سرہ کے فتاوٰی میں ہےاز روئے شریعت غرانکاح درمیان مومن و کافر منعقد نمی گردد ظاہر است کہ ازانسان درحالت لاعلمی یا از روئے سہوا کثر کلمہ کفر صادر مے گردد کہ برآں متنبہ نمی شود، دریں صورت اگر نکاح متناکحین واقع شد منعقد نمی شود، لہٰذا متاخرین از علمائے محتاطین احتیاطا صفت ایمان مجمل و مفصل رابحضور متناکحین می گویند و می گو یا نند تا انعقاد بحالت اسلام واقع شود فی الحققیت علمائے متاخرین ایں احتیاط را در عقد نکاح افزو دہ اند خالی از نزاکت اسلامی نیست کسائے کہ از اسلام بہر ہ ندارند بلطف آن کے میرسند۔ انتہی

(یعنی: روشن شریعت کی روسے مومن و کافر کے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا، ظاہر ہے کہ انسان سے لاعلمی میں کبھی سہواً کوئی کلمہ کفر صادر ہوجاتا ہےجس پر وہ آگاہ ہی نہیں ہوتا، تو اس صورت میں اگر مرد وعورت کا نکاح ہوا تو منعقد نہیں ہوگا، لہذا محتاط علماء متاخرین مجلس نکاح میں صفت ایمان مجمل و مفصل خود بھی کہتے ہیں اور مرد و عورت سے بھی کہلواتے ہیں تا کہ نکاح بحالت اسلام واقع ہو، علماء متاخرین نے عقد نکاح میں اس احتیاط کا جو اضافہ فرمایا ہے وہ در حقیقت اسلامی نزاکت سے خالی نہیں، جو لوگ اسلام کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے وہ اس کی لطافت تک کب پہنچ سکتے ہیں)۔ یہ قول زید کا صحیح ہے یا نہیں؟

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: بہتر ہونے میں کیا کلام کہ ذکر خدا و رسول جل جلالہ، و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خیر محض ہے، خصوصاً تجدید ایمان، کہ ویسے بھی حدیث میں اس کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں: ان الایمان لیخلق فی جوف احدکم کما یخلق الثوب الخلق فاسئلوا ﷲ تعالٰی، ان یجدد الایمان فی قلوبکم (بیشک ایمان تم میں کسی کے باطن میں پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا کہنہ ہوجاتا ہے توا للہ عزوجل سے مانگو کہ تمھارے دلوں میں ایمان کو تازہ فرمائے ۔ ۔ ۔ تو اس قدر ضرور مسلم کہ اس کو کرنا چاہئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 207، 208، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقار الفتاوی میں ہے نکاح صحیح ہونے کیلئے یہ شرط نہیں ہے کہ کلمہ بھی پڑھایا جائے۔ لیکن آج کل زبان آزاد ہے اور جو منہ میں آتا ہے انسان بول دیتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کلمہ اور استغفار پڑھا دیا جائے۔ لیکن بغیر پڑھائے بھی نکاح ہو جاتا ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 82، بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5089
تاریخ اجراء: 23 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 09 جون 2026ء