logo logo
AI Search

نانا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نانا نے پھوپھی سے شادی کی، اس سے ہونے والی بیٹی سے نواسے کے نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

نانا کی بیٹی اس کی خالہ ہے اور خالہ سگی ہو یا سوتیلی، اس سے نکاح کرنا حرام قطعی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کا اپنے نانا کی بیٹی یعنی اپنی خالہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ﴾ ترجمہ کنز العرفان: تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 23)

فتاویٰ رضویہ میں ہے: سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سوتیلی بہن۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 340، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2515
تاریخ اجراء: 16 ربیع الآخر 1447ھ / 10 اکتوبر 2025ء