خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اپنی خالہ کی بیٹی کی بیٹی یعنی خالہ کی نواسی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
لڑکے کا اپنی خالہ کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ ان کے درمیان کوئی اور وجہِ حرمت مثلاً رضاعت یا مصاہرت وغیرہ نہ ہو۔
خالہ کی بیٹی کی بیٹی حرام کردہ رشتوں کے علاوہ ہے چنانچہ الدر المنتقی فی شرح الملتقی مع مجمع الانہر میں اور بنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ”حرم اللہ العمۃ و الخالۃ ولم یحرم بناتھما وکذا اولادھم وان سفلوا یجوز التناکح فیما بینھم“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے پھوپھی اور خالہ کو حرام قرار دیا اور ان دونوں کی بیٹیوں اور ایسے ہی ان کی اولادوں کو حرام قرار نہیں دیا، اگرچہ ان کی اولاد میں سے نیچے تک کوئی ہو، ان کے ساتھ باہم نکاح کرنا جائز ہے۔ (البنایۃ شرح ہدایہ، جلد 5، صفحہ 22، مطبوعہ بیروت)
امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ زید و عمر و حقیقی چچا زاد بھائی ہیں اب عمرو کی دختر کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے جائزہے یا نہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یا غیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی دادا کا حقیقی بھائی ہو، اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایک نہ باپ میں شریک نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں یہ سب عورتیں شرعاً حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت و مصاہرت قائم نہ ہو۔ قال ﷲ تعالٰی ”وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُم“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محرمات کے علاوہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 11، صفحہ 413، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملخصاً)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2423
تاریخ اجراء: 28 صفر المظفر 1447ھ / 23 اگست 2025ء