logo logo
AI Search

بیوی کی خالہ سے زنا کرنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیوی کی خالہ سے زنا کیا تو نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کی خالہ سے زنا کیا، تو کیا اس سے اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

جواب

کسی شخص کا اپنی بیوی کی خالہ سے زنا، گناہِ کبیرہ اور سخت حرام کام ہے، جس سے سچی توبہ کرنا اس پر لازم ہے، البتہ! اس عمل کی وجہ سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس کی بیوی اس پر حرام ہوتی ہے۔

بدکاری سے دور رہنے سے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ- وَ سَآءَ سَبِیْلًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور بد کاری کے پاس نہ جاؤ ،بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔ (القرآن، پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت: 32)

زنا کی صورت میں زانی اور زانیہ پرایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہوتے ہیں جبکہ خالہ اصول و فروع میں سے نہیں ہے، چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے ”فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت، و كذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدیر“ ترجمہ: جس نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس عورت کی ماں اوپر تک، کسی بھی درجے میں ہو (یعنی اپنی ماں، پھر ماں کی ماں، پھر اس کی ماں وغیرہ سب) زانی پر حرام ہوگئی، اور اس عورت کی بیٹی، نیچے تک کسی بھی درجے میں ہو، زانی پر حرام ہوگئی۔ اسی طرح زانیہ، زانی کے آباؤ و اجداد پر حرام ہوجاتی ہے، وہ آبا و اجداد اوپر تک کسی بھی درجے میں ہوں، اور زانی کے بیٹوں پر حرام ہوجاتی ہے، اگرچہ وہ کتنے ہی نچلے درجے کے ہوں، ایسے ہی فتح القدیر میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب النکاح، ج 1، ص 274، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوٰی امجدیہ میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ زید نے اپنی سالی سے زنا کیا اور اس کو حمل بھی رہ گیا تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: معاذ اللہ یہ فعل بیشک حرام ہے،مگر اس کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹا، وہ بدستور اس کی زوجہ ہے۔ زنا سے صرف چار حرمتیں ثابت ہوتی ہیں: مزنیہ زانی کے اصول و فروع پرحرام ہوجاتی ہے اور زانی پر مزنیہ کے اصول و فروع حرام، بہن نہ اصول میں ہے نہ فروع میں تو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، صفحہ 72، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5082
تاریخ اجراء: 29 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 15 جون 2026ء