logo logo
AI Search

ایک وقت میں دو بہنوں سے نکاح کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ایک وقت میں دو بہنو ں کو نکاح میں رکھ سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا، خواہ ایک ہی عقد یعنی ایک ہی ایجاب و قبول کے ذریعے ہو یا الگ الگ عقدوں کے ذریعے، بہر صورت قرآنِ کریم کی واضح صریح نص کے مطابق حرامِ قطعی ہے، جس کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ اس کی حرمت میں احادیث مبارکہ اور فقہی نصوص وارد ہیں۔ اگر کوئی شخص دونوں بہنوں سے ایک ہی عقد میں نکاح کرلے ،تو کسی سےبھی نکاح نہیں ہوگا۔ اگر ایک بہن پہلے سے نکاح میں ہو اور پھر دوسری بہن سے الگ عقد کے ذریعے نکاح کرے، تو پہلی کا نکاح برقرار رہے گا، مگر دوسری بہن سے کیا گیا نکاح باطل ہوگا۔ پھر اگر دوسری سے ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، تو پہلی والی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی حرام ہوجائے گا، یہاں تک کہ دوسری کو جُدا کردے اور اس کی عدت گزرجائے، تو اب پہلی والی حلال ہوجائے گی۔ ان سے متعلقہ مزید احکام کتبِ فقہ میں مذکور ہیں۔ تفصیل کے لیے بہار شریعت ،محرمات کا بیان، حصہ 7 کا مطالعہ کیجئے۔

بہرحال دو بہنوں کو ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا سخت ناجائزوحرام ہے۔ البتہ اگر پہلی بہن کا انتقال ہوجائے، یا اُسے طلاق دے دی جائے اور اس کی عدت بھی مکمل ہوجائے، تو اس کے بعد دوسری بہن سے نکاح کرنا ،جائز ہوگا، کیونکہ اب دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرنے کی صورت باقی نہیں رہے گی۔ واضح رہے کہ اس حکم میں نسبی بہنیں چاہے سگی ہوں، باپ شریک ہوں، یا ماں شریک ہوں اور رضاعی(دودھ کے رشتے کی) بہنیں سب شامل ہیں۔ البتہ جن رشتوں کو معاشرتی طور پر ’’بہن‘‘ کہہ دیا جاتا ہے، جیسے اپنی یا بیوی کی کزنز یعنی چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کی بیٹیاں،تو وہ شرعی اعتبار سے بہن کے حکم میں نہیں۔ لہذا ایک وقت میں بیوی اوراُس کی کزن سے نکاح کرنا شرعاًجائز ہے، اس کی ممانعت نہیں۔

جزئیات ملاحظہ ہوں:

دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا (حرام ہے۔) البتہ جوپہلے گزر گیا۔(پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 23)

دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا ،چاہے ایک عقد میں ہو، یا ایک سے نکاح کے بعد دوسرے سے الگ عقد ہو، بہرصورت یہ ناجائز و حرام ہے، چنانچہ امام احمد بن علی ابو بكر رازی جصاص حنفی رحمۃ اللہ علیہ احكام القرآن للجصاص میں فرماتے ہیں: قوله تعالى: ﴿و ان تجمعوا بين الاختين إلا ما قد سلف﴾ قال أبو بكر: قد اقتضى ذلك تحريم الجمع بين الأختين في سائر الوجوه لعموم اللفظ; والجمع على وجوه: منها أن يعقد عليهما جميعا معا فلا يصح نكاح واحدة منهما; لأنه جامع بينهما، و ليست إحداهما بأولى بجواز نكاحها من الأخرى، و لا يجوز تصحيح نكاحهما مع تحريم الله تعالى الجمع بينهما، وغير جائز تخيير الزوج في أن يختار أيتهما شاء من قبل أن العقدة وقعت فاسدة مثل النكاح في العدة أو هي تحت زوج، فلا يصح أبدا. ومن الجمع أن يتزوج إحداهما ثم يتزوج الأخرى بعدها، فلا يصح نكاح الثانية; لأن الجمع بها حصل وعقدها وقع منهيا عنه و عقد الأولى وقع مباحا، فيفرق بينه و بين الثانية

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: اور یہ (حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوچکا کے بارے میں ابو بکر نے فرمایا: اس آیت کا عموم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دو بہنوں کو ہر صورت میں جمع کرنا حرام ہے۔ اور جمع کرنے کی کئی صورتیں ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں سے ایک ساتھ نکاح کرلے، تو ان دونوں میں سے کسی ایک کا نکاح بھی صحیح نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس نے دونوں کو جمع کیا ہے، اور ان میں سے ایک دوسری کے مقابلے میں نکاح کے جواز کی زیادہ حق دار نہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے جب دونوں کو جمع کرنا حرام قرار دیا ہے، تو دونوں کے نکاح کو صحیح قرار دینا بھی جائز نہیں۔ اور شوہر کو یہ اختیار دینا بھی درست نہیں کہ وہ ان دونوں میں سے جسے چاہے اختیار کرلے؛ کیونکہ نکاح کا عقد ہی فاسد واقع ہوا ہے، جیسے عدت والی عورت سے نکاح یا ایسی عورت سے نکاح جو کسی اور کے نکاح میں ہو، تو ایسا نکاح کبھی صحیح نہیں ہوتا۔ اور جمع کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے ایک بہن سے نکاح کرے، پھر اس کے بعد دوسری بہن سے نکاح کرے، تو دوسری کا نکاح صحیح نہیں ہوگا؛ کیونکہ اسی کے ذریعے دونوں بہنوں کو جمع کرنا پایا گیا، اور اس کا عقد ممنوع طریقے پر واقع ہوا، جبکہ پہلی کا عقد مباح طریقے پر ہوا تھا، لہٰذا اس شخص اور دوسری عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 164، 163، دار الكتب العلمية بيروت)

دو بہنیں چاہے نسبی ہوں یا رضاعی، اُنہیں نکاح میں جمع کرنا، جائز نہیں، چنانچہ اوپر مذکور آیت کےتحت تفسیر بغوی و تفسیر خازن میں ہے: (واللفظ للاول): قوله تعالى: و ان تجمعوا بين الاختين، لا يجوز للرجل أن يجمع بين الأختين في النكاح سواء كانت الأخوة بينهما بالنسب أو بالرضاع، فإذا نكح امرأة ثم طلقها بائنا جاز له نكاح أختها‘‘ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کافرمان: اور (حرام ہے کہ) تم دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرو۔ (لہذا) کسی مرد کے لیے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا، جائز نہیں، خواہ ان دونوں کے درمیان بہن ہونے کا تعلق نسب کے ذریعے ہو یا رضاعت کے ذریعے۔ پس جب کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرے، پھر اسے طلاقِ بائن دے دے، تو اس کے لیے اس عورت کی بہن سے نکاح کرنا، جائز ہوجاتا ہے۔ (تفسیر بغوی، جلد 1، صفحہ 553، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

دو بہنیں چاہے سگی ہوں، باپ شریک ہوں، یا ماں شریک ہوں سب اس ممانعت میں داخل ہیں، چنانچہ تفسیر ابن جزی میں ہے: و أن تجمعوا بين الأختين يقتضي تحريم الجمع بين الأختين سواء كانتا شقيقتين أو لأب أو لأم‘‘ ترجمہ: اور دو بہنوں کو جمع کرنا (حرام ہے) یہ (آیتِ کریمہ) دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے، چاہے وہ بہنیں سگی ہوں یا باپ شریک ہوں یا ماں شریک ہوں۔ (التسهيل لعلوم التنزيل (تفسير ابن جزي)، جلد 1، صفحہ 186، مطبوعہ بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں ارشاد فرماتے ہیں: اختین سے مراد ہر قسم کی بہنیں ہیں۔ سگی ہوں، یا ماں، یا باپ شریکی، یا دودھ کی، یعنی اے مسلمانو!تم پریہ بھی حرام ہے کہ کسی بھی قسم کی دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ (تفسیرِ نعیمی، جلد 4، صفحہ 577، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

احادیثِ مبارکہ سے بھی دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت ثابت ہوتی ہے، چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث پاک ہے:أن أم حبيبة قالت: قلت: يا رسول اللہ، انكح أختي بنت أبي سفيان، قال: و تحبين؟ قلت: نعم لست بمخلية، و أحب من شاركني في خير أختي، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: "إن ذلك لا يحل لي‘‘ ترجمہ: (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجہ)حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بہن، ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح فرما لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! میں اکیلی تو رہنے والی نہیں، اور مجھے یہ پسند ہے کہ جو خیر مجھے حاصل ہے، اس میں میری بہن بھی شریک ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں۔(صحیح البخاری، جلد 7، صفحہ 32، رقم الحدیث: 5097،دار التأصيل، القاهرہ)

اس کے تحت علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں: قوله: (إن ذلك لا يحل لي) لأنه جمع بين الأختين، و هذا كان قبل علم أم حبيبة بالحرمة، أو ظنت أن جوازه من خصائص النبي صلى الله تعالى عليه و سلم، لأن أكثر حكم نكاحه يخالف أحكام أنكحة الأمة‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان: (یہ میرے لیے حلال نہیں) کیونکہ یہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا ہے۔ اور یہ واقعہ اُس وقت کا تھا جب اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اس حرمت کا علم نہیں تھا، یا انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ اس کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خصائص میں سے ہے، کیونکہ آپ کے نکاح کے بہت سے احکام امت کے نکاح کے احکام سے مختلف ہیں (لیکن دوبہنوں کو جمع کرنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے بھی جائز نہیں تھا)۔ (عمدۃ القاری، جلد 20، صفحہ 94، دار إحياء التراث العربي)

دو بہنوں سے ایک عقد میں نکاح کیا،دونوں نکاح باطل ہوں گے، لیکن اگر پہلے ایک سے کیا، پھر اس کی موجودگی میں دوسری سے تو دوسری سے نکاح باطل ہوگا، چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے: فإن تزوجهما في عقدة واحدة بطل نكاحهما؛ لأنه لا وجه لتصحيح نكاح إحداهما بغير عينها فإن النكاح عقد تمليك فلا يثبت في المجهولة ابتداء، و لا بعينها إذ ليست إحداهما بأولى من الأخرى، و لا يمكن تصحيح نكاحهما؛ لأن الجمع محرم بالنص فتعين البطلان، و إن نكح إحداهما قبل الأخرى فنكاح الأولى جائز؛ لأن بهذا العقد لا يصير جامعا و نكاح الثانية فاسد؛ لأن بهذا العقد يصير جامعا بين الأختين فتعين فيه جهة البطلان فيفرق بينهما

ترجمہ: پس اگر دونوں بہنوں سے ایک ہی عقد میں نکاح کیا تو دونوں کا نکاح باطل ہوگا کیونکہ کسی ایک کے نکاح کو بغیر تعیین کے صحیح قرار دینے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح ایک ملکیت کا عقد ہے، اور ابتداءً یہ مجہول (غیر معین) صورت میں ثابت نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی ایک کو معین کرکے صحیح قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں میں سے کوئی ایک دوسری کے مقابلے میں نکاح کے جواز کی زیادہ حق دار نہیں اور دونوں نکاحوں کو صحیح قرار دینا بھی ممکن نہیں، کیونکہ نص کے ذریعے دونوں کو جمع کرنا حرام قرار دیا گیا ہے، لہٰذا بطلان متعین ہوگیا۔ اور اگر ایک بہن سے پہلے نکاح کرے اور پھر دوسری سے نکاح کرے تو پہلی بہن کا نکاح جائز ہے؛ کیونکہ اس عقد کے ساتھ وہ ’’دو بہنوں کو جمع کرنے والا‘‘ نہیں بنتا۔ جبکہ دوسری بہن کا نکاح فاسد ہے؛ کیونکہ اس عقد کے ذریعے وہ دو بہنوں کو جمع کرنے والا بن جاتا ہے، لہٰذا اس میں بطلان لازم ہوگیا اور دونوں میں جدائی کردی جائے گی۔ (مبسوط سرخسی، جلد 2، صفحہ 201، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر دونوں (بہنوں) سے ایک ساتھ نکاح کیا دونوں حرام، اور اگر آگے پیچھے کیا توپہلی کا نکاح بے خلل، دوسری کا حرام، پھر جب دوسری سے قربت (ہمبستری) کی پہلی سے قربت بھی حرام ہوگئی، جب تک اُسے جدا کر کے عدت نہ گزر جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 217، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: تاحیاتِ زوجہ جب تک اُسے طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے، اُس کی بہن سے جو اُس کے باپ کے نطفے، یا ماں کے پیٹ سے، یا دودھ شریک ہے نکاح حرام ہے۔ قال اللہ تعالٰی: و ان تجمعوا بین الاختین (اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا حرام ہے) اورا ن کے سوا زوجہ کی رشتہ کی بہنیں مثلاً چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کی بیٹیاں اس کے شوہر پر ہر وقت حلال ہیں کل ذلک مصرح بہ فی کتب الفقہ (ان تمام مسائل کی تصریح کتب فقہ میں موجود ہے۔ ت) و اللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 315، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں ہونا حرام قطعی ہے، اس کی حرمت ایسی نہیں کہ کسی امام نے اپنے اجتہاد سے نکالی ہو جس میں دوسرے امام کو خلاف کی گنجائش ہو، نہ اس کی حرمت کسی حدیث احا د سے ہے کہ جسے وہ حدیث نہ پہنچے یا اس کی صحت اسے ثابت نہ ہوئی وہ انکار کر سکے، بلکہ اس کی حرمت قرآن عظیم نے خاص اپنی نص واضح صریح سے ارشاد فرمائی ہے کہ ﴿حرمت علیکم امھاتکم و بنٰتکم و اخواتکم (الٰی قولہ عزوجل) و ان تجمعوا بین الاختین﴾ الآیۃ۔ حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں، (اللہ عزوجل کے اس قول تک) اوریہ کہ اکٹھی کرو دو بہنیں۔ الآیۃ) دیکھو جس طرح آدمی پر اس کی ماں بہن بیٹی حرام ہے، اسی طرح دو بہنوں کو جمع کرنا اس پر حرام ہے، زیدنے امام شافعی پر سخت جھوٹا افترا کیا (کہ ان کے مذہب میں اسے حلال بتایا) اور اب تک تو وہ اس ناپاک فعل سے فقط حرام کار ومرتکب کبیرہ ومستحق عذاب نار تھا۔ اب مسلمانوں کے اماموں میں مختلف فیہ مان کر اس کی حرمت کا منکر ہوا اور اس کا کام سرحدِ کفر تک پہنچا، اس کا معاملہ بہت سخت ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 426، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1201
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء